جس کسی نے بھی کی کسی کی مدح
ہو کرم مجھ خطا شعار پہ بھی
سرسراہٹ ہواؤں کی تسبیح
فرش سے عرش تک کروں نے ترہ
تو حمید آپ اپنی ذات میں ہے
صبح کاذب میں کیسے شبنم نے
کوہساروں کا راز یاب سکوت
لفظ کا ظرف کب کرے اس کی
کس نے کی؟ کون کرسکے گا ریاضؔ
— Riaz Majeed\
جس کسی نے بھی کی کسی کی مدح
ہو کرم مجھ خطا شعار پہ بھی
سرسراہٹ ہواؤں کی تسبیح
فرش سے عرش تک کروں نے ترہ
تو حمید آپ اپنی ذات میں ہے
صبح کاذب میں کیسے شبنم نے
کوہساروں کا راز یاب سکوت
لفظ کا ظرف کب کرے اس کی
کس نے کی؟ کون کرسکے گا ریاضؔ
— Riaz Majeed\
بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
مفتِی شرع بھی ہے قاضی مِلّت بھی ہے
منبعِ فیض بھی ہے مجمعِ افضال بھی ہے
قطب ابدال بھی ہے محورِ ارشاد بھی ہے
سلکِ عرفاں کی ضیا ہے یہی دُرِّمختار
اس کے فرمان ہیں سب شارحِ حکمِ شارع
ذی تَصَرُّف بھی ہے ماذون بھی مختار بھی ہے
رشکِ بُلبل ہے رضاؔ لالہ صَد داغ بھی ہے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
خوفِ گنہ میں مجرم ہے آب آب کیسا
مجرم ہوں رُوسیہ ہوں اور لائقِ سزا ہوں
سورج میں نور تیرا جلوہ ترا قمر میں
دامانِ مصطفیٰ ہے مجرم مچل رہے ہیں
مرقد کی پہلی شب ہے دولہا کی دِید کی شب
پڑھتا تھا جس کا کلمہ پایا انہیں نکیرو
سالکؔ کو بخش یارب گو لائقِ سزا ہے
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\
بیاں کیوں کر ثنائے مصطَفٰے ہو
مدینے کی محبت میں جو روئے
سلامِ شوق کہدینا ادب سے
تڑپ کر یارسولَ اللہ پکارو
عطا کردو مجھے وہ بھیک داتا
کروں بے لَوث خدمت سنتوں کی
دے جذبہ ’’مَدنی انعامات‘‘ کا تو
میں مَدنی قافِلوں ہی کا مسافِر
کرم ہو دعوتِ اسلامی پر یہ
میں سب دولت رہِ حق میں لٹا دوں
گناھوں نے کہیں کا بھی نہ چھوڑا
گناھوں کی چُھٹے ہر ایک عادت
کٹی ہے غفلتوں میں زندگانی
کرم ہو واسِطہ کُل اولیا کا
مرے اعمال تولے جارہے ہیں
الٰہی ہوں بَہُت کمزور بندہ
بروزِ حَشْر آقا کاش! کہہ دیں
— Unknown
سدا سکینت اثر ہو درود کی تسبیح
بعید کیا تیری رحمت سے تو جو دے توفیق
زباں کا ورد ہو سبحان ربی الا علی
ہوں اس کے ساتھ ہم آہنگ دھڑکنیں دل کی
ہو دل کی نبض کی سانسوں کی خوں کی گردش کی
ہو پورا ذکر پردیا خلوصِ نیت میں
ہو مردہ دل مرا، بیدار اور زندہ کوئی
گرا رہا ہے شب و روز دانہ دانہ وہ
ستارے کا ہکشائیں ہیں جس کے دانے ریاضؔ
— Riaz Majeed\
بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے
کھبتی ہوئی نظر میں ادا کِس سحر کی ہے
ڈالیں ہَری ہَری ہیں تو بالیں بھری بھری
ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
ہم گردِ کعبہ پِھرتے تھے کل تک اور آج وہ
کالک جبیں کی سجدئہ در سے چھڑاؤ گے
ڈُوبا ہوا ہے شوق میں زمزم اور آنکھ سے
برسا کہ جانے والوں پہ گوہر کروں نثار
آغوشِ شوق کھولے ہے جن کے لئے حطیم
ہاں ہاں رہِ مَدینہ ہے غافِل ذرا تو جاگ
وَاروں قدم قدم پہ کہ ہر دَم ہے جانِ نو
گھڑیاں گنی ہیں برسوں کہ یہ سُب گھڑی پِھری
اللہُ اَ کْبَر! اپنے قدم اور یہ خاکِ پاک
معراج کا سماں ہے کہاں پہنچے زائرو!
عشاقِ رَوضہ سجدہ میں سُوئے حرم جُھکے
یہ گھر یہ در ہے اس کا جو گھر در سے پاک ہے
محبوبِ ربِّ عرش ہے اس سَبز قبّہ میں
چھائے ملائکہ ہیں لگاتار ہے درود
سعدین کا قِران ہے پہلوئے ماہ میں
ستّر ہزار صبح ہیں سَتّر ہزار شام
جو ایک بار آئے دوبارہ نہ آئیں گے
تڑپا کریں بدل کے پھر آنا کہاں نصیب
اے وائے بے کسیِ تمنّا کہ اب اُمید
یہ بدلیاں نہ ہوں تو کروروں کی آس جائے
معصوموں کو ہے عمر میں صرف ایکبار بار
زِندہ رہیں تو حاضریِ بارگہ نصیب
مفلِس اور ایسے در سے پِھرے بے غنی ہوئے
جاناں پہ تکیہ خاک نہالی ہے دل نہال
ہیں چتر و تخت سایۂ دیوار و خاکِ در
اس پاک کو میں خاک بسر سربخاک ہیں
کیوں تاجدارو! خواب میں دیکھی کبھی یہ شَے
جارو کشوں میں چہرے لکھے ہیں ملُوُک کے
طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند
عاصِی بھی ہیں چہیتے یہ طیبہ ہے زاہدو
شانِ جمال طیبۂ جاناں ہے نفع محض
کعبہ ہے بے شک اَنجمن آرا دُلھن مگر
کعبہ دُلھن ہے تربت اَطہر نئی دُلھن
دونوں بنیں سجیلی اَنیلی بنی مگر
سرسبز وَصل یہ ہے سیہ پوشِ ہجر وہ
مَا و شُماتو کیا کہ خلیلِ جلیل کو
اپنا شرف دُعا سے ہے باقی رہا قبول
جو چاہے ان سے مانگ کہ دونوں جہاں کی خیر
رُومی غلام دن حبشی باندیاں شبیں
اتنا عجب بلندیِ جنت پہ کس لئے
عرشِ بریں پہ کیوں نہ ہو فردوس کا دماغ
وہ خلد جس میں اُترے گی اَبرارکی برات
عنبرزمیں عبیر ہوا مشک تر غبار
سرکار ہم گنواروں میں طرزِ اَدَب کہاں
مانگیں گے مانگے جائیں گے مُنھ مانگی پائیں گے
اُف بے حیائیاں کہ یہ مُنھ اور تِرے حضور
تجھ سے چھپاؤں مُنھ تو کروں کس کے سامنے
جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منہ تکوں
بابِ عطا تو یہ ہے جو بہکا اِدھر اُدھر
آباد ایک دَر ہے تِرا اور ترے سِوا
لب وا ہیں آنکھیں بند ہیں پھیلی ہیں جھولیاں
گھیرا اندھیریوں نے دُہائی ہے چاند کی
قسمت میں لاکھ پیچ ہوں سو بَل ہزار کج
ایسی بندھی نصیب کھلے مشکلیں کھلیں
جنت نہ دیں ، نہ دیں ، تِری رویت ہو خیر سے
شربت نہ دیں ، نہ دیں ، تو کرے بات لطف سے
میں خانہ زاد کہنہ ہوں صورت لکھی ہوئی
منگتا کا ہاتھ اُٹھتے ہی داتا کی دَین تھی
سنکی وہ دیکھ بادِ شفاعت کہ دے ہوا
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
جس نے دکھایا طیبہ و قبلہ تم ہی تو ہو
اَہلِ نظر کے تم ہی تو ہو مطمحِ نظر
تم وارثِ علومِ حبیبِ اِلٰہ ہو
اس گلستانِ دِین کی تم ہی بہار ہو
دیں کے نعیم ، مظہرِ شانِ معین ہو
سب اَہلِ عقل صدرِ اَفاضل نہ کیوں کہیں
ہے نجدیوں کے قلب میں آرا تمہاری ذات
تقریر جس کی قہر الٰہی عدو پہ ہے
جس کا قلم کہ نیزۂ باطل شکن بنا
ہم سب تھے جہل کی شبِ تاریک میں پھنسے
دل کی مراد آپ کی خوشنودیٔ مزاج
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\
بِالیقیں اُس کو تو جینے کا قرینہ آگیا
ساحِلِ جَدَّہ پہ لو اپنا سفینہ آگیا
خوب مچلو جُھوم لو اور خاک اُٹھا کر چوم لو
غم غَلَط ہوجائیں گے بس مُسکراکے دیکھ لو!
پاؤں میں جوتا ارے! محبوب کا کوچہ ہے یہ
ہِجر کے ماروں کے دل میں ہُوک سی اٹھنے لگی
مجھ کو روتا چھوڑ کر سب قافِلے والے چلے
موج ہر بپھری ہوئی ہے اب خدارا آئیے!
کس قَدَر ہے بامُقدّر وہ مسلماں بھائیو!
اِک تبسُّم رَیز ہونٹوں کی جھلک دکھلائیے
ٹل گیا مجھ سے عذاب اور قبر روشن ہوگئی
شافِعِ محشر! مِری امداد کو اب آئیے!
کیوں نہ رَشک اُس پر کریں پھر یہ جہاں کے تاجدار
عرض رَو رَو کر کروں گا جب مدینے جاؤنگا
آپ کے لطف و کرم سے کہہ اُٹھے عطارؔ کاش!
— Unknown
مرے اذکار کا، اعمال کا، گفتار کا رُخ
رہا ہے تیرے غلاموں ہی کی دہلیز کی سمت
سعیِ فن ہومری سب تیری ستایش ہی میں صرف
حشر کے دن رہے مجھ ایسے خطاکار کی سمت
ہو اجالا مری سوچوں کا حوالہ تیرا
ہیں کُرے جتنے' توجہ سے تری قائم ہیں
رہے تا عمر فقط تیری رضا کی جانب
کیوں نہ وہ قافلہ فرخندہ مقدر ہو کہ جب
اپنے ہر امتی کی سمت ہو محشر میں ریاضؔ
— Riaz Majeed\
جوت سے ان کی جگ اُوجیالا
اِنَّا اَعْطَیْنکَ الْکَوْثَر
یُعْطِیْ رَبُّکَ حَتّٰی تَرْضٰی
کلمہ و خطبہ ، نماز و اَذاں میں
اہلِ زمیں کے نصیبے چمکے
ہم نے ناؤ بھنور میں ڈالی
ہم نے ہمیشہ کام بگاڑے
آقا حشر میں عزت رکھنا
ہم کو نہ دیکھو آپ کو دیکھو
دَر کے کمین ہیں غیر نہیں ہیں
تھوڑی زمیں جو مدینہ میں دے دو
نزع میں قبر میں اس سالکؔ کو
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\