وہ حسن ہے اے سید اَبرار تمہارا
محبوب ہو تم خالق کل مالک کل کے
کیوں دِید کے مشتاق نہ ہوں حضرتِ یوسف
اللہ نے بنایا تمہیں کونین کا حاکم
بگڑے ہوئے سب کام سنبھل جائیں اسی دم
اُمت کے ہو تم حامی و غمخوار طرفدار
تم اَوَّل و آخر ہو تمہیں باطن و ظاہر
کیا جانیے مَا اَوْحٰی میں کیا راز ہیں مخفی
تم پیارے نبی نورِ جلی سر خفی ہو
سر ہے وہی سر جس میں ترا دھیان ہے ہر آن
جس کو مرضِ عشق نہیں ہے وہ ہے بیمار
ہر وقت ترقی پہ رہے دَردِ محبت
دِل میں نہیں کچھ اس کے سوا اور تمنا
یہ اَرض و سما خوان ہیں مہمان زمانہ
ہر دَم ہے تمہیں اپنے غلاموں پہ عنایت
بے مانگے عطا کرتے ہو من مانی مرادیں
کیوں عرض کروں مجھ کو ہے اس چیز کی حاجت
بالیں پہ چلے آؤ دمِ نزع خدارا
لاشے کو کریں دفن مدینہ میں فرشتے
پرواز کرے جسم سے جب رُوح تو دِل میں
اُمت بھی تمہاری ہوئی اللہ کو پیاری
اُٹھ جائے مدینے سے لحد کا مری پردہ
دن رات جو کرتے ہیں خطاؤں پہ خطائیں
اللہ نے وعدہ یہ کیا ہے شبِ معراج
جب تم کو بلایا شبِ معراج خدا نے
بندوں کو کسی وقت بھی دل سے نہ بھلایا
کیوں عاصیو غم سے ہے دل اَفگار تمہارا
لو آیا وہ حامی و مددگار تمہارا
اے عاصیو تم اپنے گناہوں سے یہ کہہ دو
میدانِ قیامت میں بجز ذاتِ مقدس
گھبرائے گنہگار تو رحمت نے پکارا
اَعمال نہ کچھ پوچھنا رحمت کے مقابل
دنیا میں قیامت میں سرِ پل پہ لحد میں
اے کاش ملائک سرِ محشر کہیں مجھ سے
اَعدا کو جلانے کے لیے نارِ حسد میں
توحید پہ مرتے ہیں مگراس سے ہیں غافل
توہین کو توحید سمجھتے ہیں وہابی
بلبل ہے جمیلؔ رضوی اے گلِ وحدت
— Jamil Ur Rehman Qadri\