ہو بغداد کا پھر سفر غوثِ اعظم
شَہَنشاہِ جِنّ و بشر غوثِ اعظم
میں پہلے بھی بغداد حاضِر ہوا تھا
میں گلیوں میں بستر جما دوں پھر آکر
دکھا دو مزارِ منوَّر کے جلوے
خدا و نبی کی جو الفت میں روئے
عطا ہو مجھے اپنے اللہ کا ڈر
مِرے میٹھے مرشِد مجھے پھر شرف دے
مِلا سلسلہ قادِری فضلِ رب سے
ہمیشہ ترا عشق بے چین رکّھے
مجھے اپنی الفت کی خیرات دیدو
مِری ڈوبتی ناؤ کو دو سہارا
یہاں بھی سہارا وہاں بھی سہارا
مجھے دشمنوں نے کہیں کا نہ چھوڑا
عَدو کے مقابِل وہ ہمّت عطا ہو رہوں
مدد المدد مُرشِدی ورنہ دشمن
زباں پر رہے میری یاپیر و مُرشِد
مرا حُبِّ دنیا سے پیچھا چھڑا دے
شہا نفسِ اَماّرہ مَغلوب ہو اب
ہے عصیاں کے بیمار کا دم لبوں پر
تمہیں میرے حالات کی سب خبر ہے
شہا! کاش قُفلِ مدینہ لگا لوں
بیاں سن کے توبہ گنہگار کر لیں
میں بغداد کا کوئی سگ ہوتا اور کاش!
شہیدِ مدینہ ہو عطارِؔ عاصی
— Unknown
