مومنو ہے رحمتِ حق کا وُرود
ہے ملائک کا یہاں پر اِزدِحام
با ادب ہے بانصیب اے اَہل دِیں
مژدہ لائی ہے صبا کس پھول کا
آج کعبہ کس لیے ہے شادماں
بت کدوں میں کس لیے کہرام ہے
دو جہاں میں کس کا لطف عام ہے
صف بصف ہیں کیوں فرشتے با ادب
جنتیں آراستہ ہیں کس لیے
کون سا ماہِ منور آئے گا
زلزلہ کیوں قصرِ کسریٰ میں پڑا
کیوں کہانت پر تباہی آگئی
جب َتحیرُّ اَہلِ حیرت کو بڑھا
آمَد آمَد سرورِ عالم کی ہے
آنے والا مالکِ دارین ہے
ہو رہا ہے آج کعبے کا سنگار
کوئی کہتا ہے کہ اے اَہلِ جہاں
کوئی کہتا ہے کہ آئیں گے یہاں
جن کی آمَد کی خبر عیسیٰ نے دی
نائبِ حق بادشاہِ دوجہاں
ہے نبی الانبیا اُن کا لقب
شافعِ محشر انہیں کا نام ہے
دَر پر اُن کے مانگتے ہیں تاجدار
ذرّہ ذرّہ کا ہے ان کو اختیار
سُنتے ہیں یہ ہی غریبوں کی پکار
کرتے ہیں فریاد ان سے جانور
سر پر ان کے دونوں عالم کا ہے تاج
مظہرِ علمِ خدا اُمی لقب
ان کی عزت کون جانے جز خدا
سنگ ان کے پائے اَقدس دیکھ کر
کیوں نہ ہو ہے عرش کی عزت قدم
خاکِپا اِکسیر کا بھرتی ہے دم
جھولیاں ڈالے فقیر و بے نوا
کررہے ہیں عرض با ذوق و طرب
گاہ دَر دِل ساز و گہ دَر دِیدہ جا
رُوسیاہ و بیکس و خاطی مَنَم
من نَیَم منکر خطاوارِ تو اَم
کارواں رفت و پریشانم بسے
دستگیرِ ما سیہ کاراں توئی
لو وہ اٹھا اَبرِ رحمت جھومتا
قحط سالی خاک میں مل جائے گی
ہے سواری آنے والی عنقریب
شاہِ شاہاں آنے والے ہیں یہاں
سب مَلک ہیں اِیستادہ باادب
سنیو تم بھی بہت تعظیم سے
اور کہو اے شاہِ شاہاں السلام
اے شفیعِ روزِ محشر السلام
احمد و محمود نامی السلام
اے مرے معراج والے السلام
عرش کی آنکھوں کے تارے السلام
اُمتی فرمانے والے السلام
لمبے لمبے ہاتھوں والے السلام
میرے والی میرے مولیٰ السلام
سرورِ عالم محمد ذِی وَقار
اے خدا کر مجھ کو عبدِمصطفیٰ
آل و اَصحابِ نبی کا رکھ غلام
قادری مے سے مجھے سرشار کر
ہیں مشائخ سلسلے میں جس قدَر
دائِما برَکات کے برَکات سے
مجھ پہ اچھے کی رہے اچھی نظر
میرے مرشد حضرتِ احمد رضا
اُن کے فیض و لطف سے مسرور رکھ
دوست اُن کا حشر تک پھولے پھلے
اُن کی سب اولاد اور خدام کا
عزت و عیش و علوم و فضل دے
ہو جمیلِؔ قادری کی ہر دُعا
— Jamil Ur Rehman Qadri\
