مِٹا دے ساری خطائیں مری مِٹا یارب
بنادے مجھ کو الٰہی خُلوص کا پیکر
اندھیری قبر کا دل سے نہیں نکلتا ڈر
گناہگار ہوں میں لائقِ جہنَّم ہوں
بُرائیوں پہ پَشَیماں ہوں رَحم فرمادے
مُحِیط دل پہ ہوا ہائے نفسِ اَمّارہ
رِہائی مجھ کوملے کاش!نفس وشیطاں سے
گناہ بے عدد اور جُرم بھی ہیں لاتعداد
میں کر کے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں
سنوں نہ فُحش کلامی نہ غیبت وچغلی
کریں نہ تنگ خیالاتِ بد کبھی ، کردے
نہیں ہے نامۂ عطارؔ میں کوئی نیکی
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
