یارب مرے دل میں ہے تمنائے مدینہ
نکلے نہ کبھی دِل سے تمنائے مدینہ
ہر ذَرَّہ میں ہے نورِ تجلائے مدینہ
ایسا مری نظروں میں سما جائے مدینہ
پھرتے ہیں یہاں ہند میں ہم بے سر و ساماں
اس درجہ ہیں مشتاقِ زِیارت مری آنکھیں
یاد آتا ہے جب روضۂ پرنور کا گنبد
میں وَجد کے عالم میں کروں چاک گریباں
کیونکر نہ جھکیں خلق کے دل اُس کی طرف کو
سر عرش کا خم ہے ترے روضے کے مقابل
طیبہ کی زمیں جھاڑتے آتے ہیں مَلائک
قرآن قسم کھاتا نہ اُس شہر کی ہرگز
سلطانِ دوعالم کی مرے دل میں ہے تربت
کیوں گور کا کھٹکا ہو قیامت کا ہو کیا غم
کیوں طیبہ کو یثرب کہو ممنوع ہے قطعاً
جاتے نہیں حج کرکے جو کعبے سے مدینہ
بلوا کے مدینے میں جمیلؔ رضوی کو
— Unknown
