شاہِ کونین جلوہ نما ہوگیا
منتخب آپ کی ذاتِ والا ہوئی
مِل گیا تجھ سے اللہ کا راستہ
آپ وہ نورِ حق ہیں کہ قرآن میں
ایسا اعزاز کس کو خدا نے دیا
لامکاں میں بلایا خدا نے تجھے
ایسی نافذ تمہاری حکومت ہوئی
مہ دو پارہ ہوا سورج اُلٹا پھرا
کن کی کنجی نہ کیونکر ہو تیری زباں
لب عیسیٰ سے ظاہر تھا جو معجزہ
سیر کر جائیں آکر جنابِ مسیح
خاک روضہ کی کحل الجواہر ہوئی
آتشِ عشقِ مولیٰ سے جو دِل تپا
جس نے نظارئہ سبز گنبد کیا
ہم بھی طیبہ کو اُڑ جائیں گے ایک دن
تیرے ہی نور سے دونوں عالم بنے
اس نے واللہ اللہ کو پالیا
حق تعالیٰ کا وہ بندۂ خاص ہے
پار گردابِ عصیاں سے کیونکر نہ ہو
تیرے صدقے کہ ہر دَرد و غم میں تو ہی
نامِ نامی ترا نامِ حق یانبی
اس کو فرصت غمِ دوجہاں سے ملی
رُوسیاہوں کو کوئی نہیں پوچھتا
عاصیوں کا نہیں کوئی پرسانِ حال
روزِ محشر ہر اِک نام لیوا ترا
لو مبارک تمہارے لیے عاصیو
خلق کیونکر نہ اس کو کہے تاجدار
سروَروں کی اسے سروَری مل گئی
کیوں نہ حاصل ہو اس کو حیاتِ اَبد
یانبی تیری چوکھٹ پہ عشاق کو
کچھ بشر ہی نہیں بلکہ جن و مَلک
واہ وا تری عزت کہ تیرے سبب
نام تیرا شہا ہر مرض کے لیے
داغِ اُلفت کی ایسی بڑھی تازگی
گور میں حشر میں داغِ عشقِ نبی
نام تیرا دمِ نزع جس نے لیا
دشمن و دوست مفلس غریب و امیر
علمِ غیبِ نبی کا جو منکر ہوا
دیکھ آئینہ نجدی کہ توہین سے
ناز کر اے جمیلؔ اپنی قسمت پہ تو
— Jamil Ur Rehman Qadri\