رضائے غوث احمد کی رضا ہے
کمالات و علومِ مصطفیٰ سے
تو آئینہ جمالِ مصطفیٰ کا
جنابِ مصطفیٰ ظلِ خدا ہیں
ترے ہم ہوچکے تو ہے ہمارا
جو منکر ہے ترا وہ حق کا منکر
ترا منگتا ہے مقبولِ الٰہی
مُحِیُّ الدِّیں نہ کیوں ہو نام تیرا
کوئی بغداد والے سے یہ کہہ دے
کوئی ہو اس طرف رحمت کا پھیرا
کدھر ہو قادری دولہا کدھر ہو
شرف کس سے بیاں ہو تیرے سر کا
قدم تیرا لیا ہے جس نے سر پر
نہ کیوں ہوں ہند کے سلطان خواجہ
ولی کہتے ہیں جن کو ہیں رَعیت
تو ہے وہ پھول باغِ مصطفیٰ کا
تو زَہرا و علی کا نورِ عینین
حسن کے پھول مہکا تجھ سے بغداد
شہیدِ عشق کر رَنگت رَچا دے
سلاطینِ جہاں ہیں اُس کے منگتا
مریضانِ جہاں کی فضلِ رَب سے
شفا چاہو تو جلد آؤ مریضو
لگا ہے دل غلاموں کا ٹھکانے
ترے دَربارِ پُر اَنوار سے غوث
جو دَم میں چور کو اَبدال کردے
جہاں پھیلا دے جھولی اُن کا منگتا
ہماری مشکلیں آسان کردے
مٹا دے زور اَعدائے لعیں کا
جو دربارِ الٰہی میں ہو پرسش
عمل والے تو ہیں نازاں عمل پر
بلاؤں میں گھرا ہے تیرا بندہ
بھنور میں پھنس گیا میرا سفینہ
نکیرین آگئے میری لحد میں
ہےنیک و بد کی پرسش اور میں عاصی
سیہ ہیں نامۂ اَعمال میرے
میں مجرم اور دَربارِ عدالت
وہی کر جو مرے حق میں ہو بہتر
غلاموں کا نہ کیوں ہو پار بیڑا
گلی ہو غوث کی اور میرا بستر
جمیلؔ قادری پھیلا دے جھولی
— Jamil Ur Rehman Qadri\