اللہ اللہ اللہ اللہ
قلب کو اُس کی رُویت کی ہے آرزو
بلکہ خود نفس میں ہے وہ سُبْحٰنَہٗ
اللہ اللہ اللہ اللہ
عرش و فرش و زَمان و جہت اے خدا
ذَرّے ذَرّے کی آنکھوں میں تو ہی ضیا
اللہ اللہ اللہ اللہ
تو کسی جا نہیں اور ہر جا ہے تو
علم و قدرت سے ہر جاہے تو کو بکو
اللہ اللہ اللہ اللہ
سارے عالم کو ہے تیری ہی جستجو
یاد میں تیری ہر ایک ہے سو بسو
اللہ اللہ اللہ اللہ
نغمہ سنجانِ گلشن میں چرچا ترا
اپنی اپنی چہک اپنی اپنی صدا
اللہ اللہ اللہ اللہ
طائرانِ جناں میں تری گفتگو
کوئی کہتا ہے حق کوئی کہتا ہے ھو
اللہ اللہ اللہ اللہ
بلبلِ خوش نوا طوطیٔ خوش گلو
قمریٔ خوش لقا بو لی حَقّ سِرُّہٗ
اللہ اللہ اللہ اللہ
صبحِ دَم کرکے شبنم سے غسل و وضو
وِرد کرتے ہیں تسبیحِ سُبْحَانَہٗ
اللہ اللہ اللہ اللہ
ہر نہالِ چمن ذِکر سے ہے نہال
ذِکر سے چوک کر ہوتا ہے وہ نڈھال
اللہ اللہ اللہ اللہ
وہ بھی تسبیح سے رکھتا ہے اِشتغال
پھر بھی گویائے تسبیح ہے اس کا حال
اللہ اللہ اللہ اللہ
جو ہے غافل ترے ذِکرسے ذُوالجلال
قعرِ غفلت سے ہم کو خدایا نکال
اللہ اللہ اللہ اللہ
ہے زبانِ جہاں حمدِ باری میں لال
تا بَا ِمکان ہم رکھتے ہیں قِیْل و قَال
اللہ اللہ اللہ اللہ
بھردے اُلفت کی مے سے ہمارا سبو
کیف میں وَجد کرتے پھریں کو بکو
اللہ اللہ اللہ اللہ
عفو فرما خطائیں مری اے عفو
جاری دِل کر کہ ہر دَم رہے ذِکر ھو
اللہ اللہ اللہ اللہ
بد ہوں مولیٰ مرے مجھ کو کردے نکو
تیری رحمت کی اُمید ہے اے عفو
اللہ اللہ اللہ اللہ
داخلِ خلد ہم کو جو فرمائے تو
اور جامِ طہور اور مینا سبو
اللہ اللہ اللہ اللہ
ٹھنڈی ٹھنڈی نسیمیں چلیں میرے رب
ایسا برسا بہا دے جو خاشاک سب
اللہ اللہ اللہ اللہ
رحم فرما خدایا حرم پاک ہو
دَفع فرما وہاں پر ہے بے باک جو
اللہ اللہ اللہ اللہ
نور کی تیرے ہے اِک جھلک خوبرو
ان کا سروَر ہے مَظہَر ترا ہوبہو
اللہ اللہ اللہ اللہ
خوابِ نوریؔ میں آئیں جو نورِ خدا
جگمگا اُٹھے دِل چہرہ ہو پُرضیا
— Mustafa Raza Khan Noori\