فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے
عمر کھیلوں میں ہم نے گنوائی ہے
تم نے کب بات کوئی نَبَرائی ہے
تم سے ہر دَم اُمیدِ بھلائی ہے
تم نے کب آنکھ ہم کو دکھائی ہے
تم کو عالم کا مالک کیا اس نے
کس کے قبضے میں ہیں یہ زمین و زماں
تو خدا کا ہوا اور خدا تیرا
جب خدا خود تمہارا ہوا تو پھر
سب صفاتِ خدا کے ہو تم مَظہَر
تاج رکھا ترے سر رَفَعْنَا کا
اَنبیا کو رَسائی ملی تم تک
اَز زمیں تا فلک جن و اِنس و مَلک
رَشکِ سلطان ہے وہ گدا جس نے
میری تقدیر کردو بھلی تم نے
میرا بیڑا کنارے لگے پیارے
آگ کو باغ کس نے کیا پیارے
میرے دل کی لگی بھی بجھا دیجئے
شرر اَفشانیاں کس کی ہیں عشق کی
کاش وہ حشر کے دن کہیں مجھ سے
خوشبوئے زُلف سے کوچے مہکے ہیں
پیارے خوشبو تمہارے پسینے کی
بات وہ عطرِ فردوس میں بھی نہیں
اس رضا پر ہو مولیٰ رضائے حق
ناخدا باخدا آؤ بہرِ خدا
ہیں یہ صدمے تری ہی فرقت کے
طیبہ جاؤں وہاں سے نہ واپس آؤں
مررہا ہوں تم آجاؤ جی اُٹھوں
شوقِ دِیدارِ نوری میں اے نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
