حبیبِ خدا عرش پر جانے والے
خدا کو ان آنکھوں سے دیکھ آنے والے
وہ اَقصی میں معراج کی شب پہنچ کر
وہ اُمی ہیں ایسے کہ فضلِ خدا سے
انہیں کی ہے عالم میں نافذ حکومت
اِشارے سے ان کے قمر کے ہوئے دو
انہیں کا لقب ہے شفیع غلاماں
رَہا ان کے ماتھے شفاعت کا سہرا
یہی تو ہیں ہر قسم کی نعمتوں کے
نہ کیونکر غنی دل ہوں ان کے کہ جو ہیں
جو چاہو وہ مانگو جو مانگو وہ پاؤ
تمنا کُجا سلطنت چھوڑتے ہیں
نہ کیوں چمکیں کونین میں بدر ہو کر
پہنچتے ہیں مقصود کو اپنی جلدی
اَجل سر پہ ہے تیز چل سوئے طیبہ
کریں آکے نظارۂ سبز گنبد
ہمارے ہی ہیں مُنتظر حور و غلماں
ہمیں ناز ہے دشتِ طیبہ پہ زاہد
گل خلد سے بدلوں میں خارِ طیبہ
میں مجرم سہی پر نبی کے کرم سے
ہے سایہ فگن سر پہ پرچم نبی کا
منادی کہے گا نہ گھبرائیں مجرم
گنہگار کیا بلکہ ہیں انبیا بھی
جگا دے خدارا مرا بختِ خفتہ
جو عالم کو کرتے ہیں روشن مہ و خور
اِدھر بھی کوئی بوند گیسو کا صدقہ
جو اَچھوں کی قسمت میں ہے جام تیرا
ہے جن کا وظیفہ اَغِثْنِیْ حَبِیْبِی
جو دنیا میں ہیں منکرِ اِستعانت
اَدب دل سے لازم ہے اے اہلِ محفل
جلیں اور توصیفِ سرکار سن کر
سناتا ہے قرآن مُوْتُوْا کا مژدہ
بنے گا تو بیشک جہنم کا کندہ
جو کہتے ہیں ان کو نہ تھا علم بالکل
دُعا ہے کہ اَحباب میں ہو یہ چرچا
وہیں پر رَہوں اور وہیں جان نکلے
— Jamil Ur Rehman Qadri\
