رہنماۓ دینِ فطرت آپؐ ہیں
ختم ہے ساری بڑائی آپؐ پر
پہلے تو حیوانیت کا راج تھا
آپؐ کی سیرت ہے سب کی رہنما
نعت لکھ کر مطمئن راحتؔ ہے یوں
— Rahat Nazeer Rahat\
رہنماۓ دینِ فطرت آپؐ ہیں
ختم ہے ساری بڑائی آپؐ پر
پہلے تو حیوانیت کا راج تھا
آپؐ کی سیرت ہے سب کی رہنما
نعت لکھ کر مطمئن راحتؔ ہے یوں
— Rahat Nazeer Rahat\
دور اے دل رہیے مدینے سے
ان سے میرا سلام کہہ دینا
ہر گل گلستاں معطر ہے
ذکر سرکار ا کرتے ہیں مومن
پیجئے چشم ناز سے ان کی
اس تجلی کے سامنے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
بختِ خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا
آہ قسمت مجھے دنیا کے غموں نے روکا
پاؤں تھک جاتے اگر پاؤں بناتا سر کو
اِتنا کمزور کیا ضعفِ قُویٰ نے مجھ کو
سر تو سر جان سے جانے کی مجھے حسرت ہے
حالِ دِل کھول کے دِل آہ اَدا کر نہ سکا
ہائے اس دل کی لگی کو میں بجھاؤں کیونکر
ہاتھ پکڑے ہوئے لے جاتے جو طیبہ مجھ کو
سجدہ کرتا جو مجھے اس کی اجازت ہوتی
حسرتِ سجدہ یونہی کچھ تو نکلتی لیکن
کوچۂ دِل کو بسا جاتی مہک سے تیری
کبھی بیمارِ محبت بھی ہوئے ہیں اچھے
شربتِ دِید نے اَور آگ لگادی دل میں
اب کہاں جائے گا نقشہ ترا میرے دل سے
دیس سے ان کے جو اُلفت ہے تو دل نے میرے
دیس کی دُھن ہے وہی راگ اَلاپا اس نے
نفسِ بدکار نے دل پر یہ قیامت توڑی
نفسِ بدکیش ہے کس بات کا دِل پہ شاکی
میرے اَعمال کا بدلہ تو جہنم ہی تھا
میرے اَعمالِ سیہ نے کیا جینا دُوبھر
اَور چمکتی سی غزل کوئی پڑھو اے نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
شَرَف دے حج کامجھے میرے کبریا یارب
دکھا دے ایک جھلک سبز سبز گنبد کی
مدینے جائیں پھر آئیں دوبارہ پھر جائیں
مِرا ہو گنبدِ خَضرا کی ٹھنڈی چھاؤں میں
بَوقتِ نَزع سلامت رہے مِرا ایماں
جو ’’دیں کا کام‘‘ کریں دل لگا کے یااللہ
تِری مَحَبَّت اُتر جائے میری نَس نَس میں
زمانے بھر میں مچا دیں گے دھوم سنّت کی
نَماز و روزہ وحَجّ و زکوٰۃ کی توفیق
جواب قبر میں منکَر نکیر کو دوں گا
بروزِ حشر چھلکتا سا جام کوثر کا
بقیعِ پاک میں عطارؔ دَفن ہو جائے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
گنبدِ خضرا تک آہوں کی رسائی مل جاۓ
قابلِ رشک ہو میرے لیے دریوزہ گری
پا برہنہ ہو سفر سوۓ مدینہ میرا
کاش ایسا ہو مجھے خواب میں حسان ملیں
کوئی مضمون سجھائیں مجھے میرے آقاؐ
کیا کروں گا میں زمانے کی خدائی لے کر
— Rana Saeed Doshi\
بخطِّ نور اس دَر پر لکھا ہے
سرِ خیرہ جو اب دَر پر جھکا ہے
مقابل دَر کے یوں کعبہ بنا ہے
درِ والا پہ اِک میلا لگا ہے
یہاں سے کب کوئی خالی پھرا ہے
گدا تو ہے گدا جو بادشا ہے
جسے جو کچھ ملا جس سے ملا ہے
اسی سرکار کا منگتا ہے عالم
یہاں سے بھیک پاتے ہیں سلاطیں
اسی دَر سے پلے گا پل رہا ہے
شب معراج سے ظاہر ہوا ہے
خدائی کو خدا نے جو دیا ہے
خدائے پاک تو گھر دَر سے ہے پاک
یہاں وہ باخدا ہے جلوہ فرما
شہِ عرش آستاں اللہ اللہ
یہ وہ محبوبِ حق ہے جس کی رُویت
یَدُ اللہ جس کا د ستِ پاک ٹھہرا
رَمی جس کی رَمی ٹھہری خدا کی
قسم قرآں میں جس کی رہ گزر کی
وہی مطلوب جس کا ہر ہر اَنداز
ہوا سے پاک جس کی ذاتِ قدسی
نہیں کہتے ہوائے نفس سے کچھ
چمک سے جن کی روشن ہیں دو عالم
وہ جلوہ جس سے حق ہے آشکارا
وہ یکتا آئینہ ذاتِ اَحد کا
وہ پیارا جس پہ رب ہے ایسا پیارا
وہ جس کا شہر بھی ہے ایسا پیارا
جہاں ہے بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ
دوا دُکھ دَرد کی ہے خاک جس کی
کرم فرمائیے اے سروَرِ دِیں
خزانے اپنے دے کے تم کو حق نے
جسے جو چاہو جتنا چاہو دو تم
دو عالم بھیک لیتے ہیں یہاں سے
نہ مانگیں تم سے ہم تو کس سے مانگیں
میں دَر دَر کیوں پھروں دُردُر سنوں کیوں
عطا فرماتے ہو بے مانگے سب کچھ
تمہارا ملنا ملنا ہے خدا کا
عطا فرمائیے اپنے کرم سے
یہی سرکارِ فیض آثار ہے وہ
یہیں سے پاتے ہیں سب اپنے مطلب
بہ ہر لحظہ بہ ہر ساعت بہ ہر دم
نہیں تقسیم میں تفریق کچھ بھی
یہ وہ در ہے ہوا ہے وہ بھی حاضر
سلامِ رُوستائی بے غرض نیست
عقیدے میں تو اس کے شرک ہے یہ
جلا اِیمان سے ہوتی ہے دل پر
نہیں شیشہ نہیں وہ دل تو جس پر
نہ ٹھہرے مَطرِ حق کی بوند جس پر
بہت بد فرقے پیدا ہوچکے ہیں
جو مذہب اَہلِ سنت کے علاوہ
جماعت پر یدِ رحمت ہے حق کا
ہے ان میں ایک فرقہ سب سے بدتر
نہیں جس سے کوئی موجود خالی
ہر اک اس شرک سے ٹھہرا جو ُمشرک
صحابہ خود نبی بلکہ خود اللہ
جسے بدعت کی لت اتنی پڑی ہے
مئے بدعت سے ہے سرشار ایسا
تھی اتنی تند مئے جس کے نشے میں
یہ خود ہے بدعتی مشرک یقینا
ہیں اس کے شرک و بدعت اہلے گہلے
یہ ایسا اس کا حکمِ شرک و بدعت
ہے سنی آئینہ اس نے جو دیکھا
اسے مَنِ ا بْتَدَعَ تو رہ گیا یاد
خود اپنے فتوؤں سے ہے آپ مشرک
نہیں ہے باپ ہی مشرک کہ جد بھی
کھلی تَنْقِیصیں محبوبانِ حق کی
کھلی توہین کی ہے خود خدا کی
نہ ممکن ہی کہا بلکہ یہاں تک
نہ بس اِک کذب پر ہی اس نے بس کی
تمہیں حق نے دئے ہیں وہ فضائل
مماثل ہو نہیں سکتا تمہارا
تمہاری بے مثالی اس سے ظاہر
محب کیا چاہتا ہے مثلِ محبوب
مگر یہ فرقہ محبوبِ خدا کے
نہ ممکن ہی کہ چھ مثل واقع
یونہی ختم نبوت کا ہے مانع
مسلمانوں کے ڈر سے لفظ مانے
جو معنی ان کے ہیں ماثور اب تک
کہاں تک ظلم میں اس کے گناؤں
نفی جس علم کی سرکار سے کی
محیطِ اَرض کا شیطان کو جب
شریک اِبلیس کو کرتا ہے حق کا
وہ کچھ مانے بہر صورت وہ خود ہی
مَجانین و صبی حیواں بہائم
نبی غیرِ نبی میں فرق پوچھا
اُنہیں جیسا بتایا علمِ اَقدس
نفی شہ سے بوجہ شرک کی بھی
جو قسمت میں لکھا تھا کیوں نہ ہوتا
کریں لاکھوں جتن ہوتا ہے وہ ہی
خیالِ خر میں اِستغراق سے بد
اگر اس کو کوئی اتنا کہے گا
بکھر جائیں گے اس پر کیسا کیسا
بیانِ عیبِ دُشمن نعت ہی ہے
ضیائے کعبہ سے روشن ہیں آنکھیں
ہماری حاضری نُوْرٌ عَلٰی نُوْر
ضیائے روضہ کا عالم کہوں کیا
یہاں محبوبِ رب ہے جلوہ آرا
ہے یہ تو وصل سے سرسبز دل شاد
مہ و خور بھیک پاتے ہیں یہاں سے
فضائے طیبہ کے قربان جاؤں
خفیف و خوش مزا بے مثل پانی
زمینِ پاک وہ جس کو خدا نے
ہمیں تو طیبہ ہے جنت سے بڑھ کر
قدم ہم جیسوں کے اس سرزمیں پر
وطن کی ہر سہانی صبح نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
گل زارِ حسن کا گل رنگین ادا ہے
توصیف میں اس کی جو کہوں اس سے سوا ہے
نام اس کا بہت خوب ہے خود اس کی ثنا ہے
رحمانی ضیاؤں کی رِدا میں وہ چھپا ہے
اب عقل کی پرواز اسے چھو نہیں سکتی
سدرہ سے کوئی پوچھے ذرا اس کی بلندی
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
سنَّت کی بہار آئی فیضانِ مدینہ میں
اِس شہر کے آئے ہیں باہر سے بھی آئے ہیں
داڑھی ہے عِمامے ہیں زُلفوں کی بہاریں ہیں
لمحاتِ مَسرَّت ہیں دیوانے بڑے خوش ہیں
سنّت کی بہاروں کا کچھ ایسا سماں چھایا
اُلفت کے اُخُوّت کے کیا خوب مناظر ہیں
وہ لوگ ہی آتے ہیں اور فیض اُٹھاتے ہیں
اپنے ہوں یا بیگانے یوں ملتے ہیں دیوانے
درد اپنے دلوں میں جو اسلام کا رکھتے ہیں
اللہ کرم کر دے تُو بخش دے ان سب کو
سنّت کا لئے جذبہ آئے جو یہاں اُس کی
ابلیسِ لعیں سن لے اب خیر نہیں تیری
فیضانِ مدینہ میں فیضانِ مدینہ ہے
فیضانِ مدینہ ہی ہے دعوتِ اسلامی
مقبول جہاں بھر میں ہو دعوتِ اسلامی
آقا ہو کرم سب پر بُلواؤ مدینے میں
سرکار عطا کر دو غم سب کو مدینے کا
قسمت کا سکندر ہے زوروں پہ مقدَّر ہے
آج آقا کے دیوانے کیا مَست ہیں مستانے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
بہارِ جاںفزا تم ہو نسیم داستاں تم ہو
حبیبِ رَبِّ رحمٰں تم مکینِ لامکاں تم ہو
حقیقت آپ کی مستور ہے یوں تو نہاں تم ہو
حقیقت سے تمہاری جز خدا اور کون واقف ہے
خدا کی سلطنت کا دو جہاں میں کون دولہا ہے
تمہارا نور ہی ساری ہے ا ن ساری بہاروں میں
زمین و آسماں کی سب بہاریں آپ کا صدقہ
تمہارے حسن و رنگ و بو کی گل بوٹے حکایت ہیں
تمہاری تابشِ رُخ ہی سے روشن ذَرَّہ ذَرَّہہے
نظر عارِف کو ہر عالم میں آیا آپ کا عالم
تمہارے جلوئہ رنگیں ہی کی ساری بہاریں ہیں
مجسم رحمتِ حق ہو کہ اپنا غم نہ اَندیشہ
کجا ہم خاک اُفتادہ ُکجا تم اے شہ بالا
یہ کیا میں نے کہا مثل سما تم ہو مَعَاذَ اللہ
میں بھولا آپ کی رِفعت سے نسبت ہی ہمیں کیا ہے
چہ نسبت خاک را با عالمِ پاکت کہ اے مولیٰ
میں بیکس ہوں میں بے بس ہوں مگر کس کا تمہارا ہوں
حقیقت میں نہ بیکس ہوں نہ بے بس ہوں نہ ناطاقت
ہمیں اُمید ہے روزِ قیامت اُن کی رحمت سے
ستم کارو خطا کارو ِسیہ کارو جفا کارو
ستم کارو چلے آؤ چلے آؤ چلے آؤ
تمہارے ہوتے ساتے دَرد دُکھ کس سے کہوں پیارے
مسیحِ پاک کے قرباں مگر جانِ دل و اِیماں
دکھائے لاکھ آنکھیں مہرِ محشر کچھ نہیں پروا
رِیاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمت
فقط نسبت کا جیسا ہوں حقیقی نوری ہوجاؤں
ثنا منظور ہے ان کی نہیں یہ مُدّعا نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
دل نے کہا مجاہد ملت کو ڈھونڈئیے
میں نے کہا کہ سن اے دلِ مبتلائے غم
تم کیا گئے مجاہد ملت جہاں گیا
میں رحلت مجاہد ملت کو کیا کہوں
نسرین گلستان آں صدرالشریعہ بود
خورشید سنّیت نے اَہ چادر جو اوڑھ لی
پیک ندیٰ و غفراں، ان کی وفات تھی
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\