میں نعتِ نبیؐ کے باب میں تھا
میں پڑھنے لگا درود اُن پر
پھر اذن ہنر عطا ہوا اور
اور کتنی ہی دیر تک مرا جی
حسان کے پیچھے پیچھے جائیں
— Rehman Hafeez\
میں نعتِ نبیؐ کے باب میں تھا
میں پڑھنے لگا درود اُن پر
پھر اذن ہنر عطا ہوا اور
اور کتنی ہی دیر تک مرا جی
حسان کے پیچھے پیچھے جائیں
— Rehman Hafeez\
سلطانِ اولیا کو ہمارا سلام ہو
پیارے حَسن حُسین کے، حیدر کے لاڈلے
وہ غوث جس کے خوف سے جِنّات کانپ اُٹھیں
چھوڑا ہے ماں کا دودھ بھی ماہِ صِیام میں
سب اَولیاکی گردنیں زیرِ قدم ہیں خم
دل کی جو بات جان لے روشن ضمیر ہے
بھٹکے ہوؤں کو راستہ سیدھا دکھا دیا
گرتے سنبھالیں ، ڈوبتی کِشتی بچائیں جو
پوری مُراد جو کرے اور جھولیاں بھرے
اِذنِ خدا ئے پاک سے مُردے جِلائے جو
کہہ کر کے’’ لَاتَخَف‘‘ ہمیں بے خوف کردیا
پڑھتے رہو مُدام یہ عطارؔ قادِری
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
مئے محبوب سے سرشار کردے
گما دے اپنی اُلفت میں کچھ ایسا
پلادے مَے کہ غفلت دُور کردے
عطا فرما دے ساقی جامِ نوری
ثنا لکھنی ہے محبوبِ خدا کی
میں تیرے فیض سے کچھ کہہ سکوں گا
سنا اے بلبل باغِ مَدینہ
سنا نوریؔ غزل اس کی ثنا میں
— Mustafa Raza Khan Noori\
تو اُس کے نصیبوں میں جنت نہیں
کھڑا ہوں ادھر کب سے میں برق پا
میں روتا نہیں اُن کی یادوں میں کب
چلو اُنؐ کے نقشِ قدم پر چلیں
مرا مسئلہ جانتے ہیں نبیؐ
نہیں ہے جو حب رسالت مآبؐ
— Rustam Nami\
حامی دین ہدیٰ تھے شاہ جیلانی میاں
مثل گل ہنگام رخصت مسکراتے ہی رہے
ہجر کی نہ لائے تاب آخرش جاہی ملے
مال و زر سب کچھ نچھاور راہِ حق میں کر گئے
صبر و تسلیم و رضا کی اب ہمیں توفیق دے
شور کیسا ہے یہ برپا غور سے اخترؔ سنو
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
سُنّیوں کے دل میں ہے عزّت ’’ وقارُ الدِّین‘‘ کی
آپ عَلّامہ و مفتی اور تھے شیخُ الحدیث
صرف عالِم ہی نہیں تھے آپ عالِم گر بھی تھے
بے عَدَد عُلما نے زانوئے تَلَمُّذ تہ کئے
اِنْ شَآءَ اللہ کام آئے گی مجھے روزِ جزا
اِنْ شَآءَ اللہ وہ بروزِ حشر بخشا جائے گا
وہ مجسَّم عاجِزی تھے اور سراپا سادَگی
چارپائی اور تکیہ اور لوٹا جانَماز
چارپائی پر وہ ہوتے اورہم بھی رُوبرو
آئے دن خدمت میں آکر ہم مسائل پوچھتے
نُکتہ دانی، مُوشِگا فی اور گُل افشانیاں
خَندہ پیشانی تبسُّم رَیز میٹھی گفتگو
ان کو سینے سے لگایا مصطَفٰے نے خواب میں
بندۂ بدکار ہوں ! افسوس میں بیکار ہوں
سب مریدوں کے لئے سارے محبّوں کے لئے
آخِری دیدار کے وقت آنکھ میری رو پڑی
یاالٰہی! واسِطہ تجھ کو رسولِ پاک کا
واسِطہ غوث و رضاکا اے خدائے مصطَفٰے
اُن کے فیضِ خاص سے عطارؔبھی ہے فیضیاب
تُو تَو ہے عطارؔ بداطوار، وہ عالی وقار
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
مَرَضِ عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے
کیوں عبث خوف سے دل اپنا ہوا ہوتا ہے
جس کا حامی وہ شہِ ہر دو سرا ہوتا ہے
اُن کا اِرشاد ہے اِرشادِ خداوندِ جہاں
بادشاہانِ جہاں ہوتے ہیں منگتا اُس کے
پلہ نیکی کا اِشارے سے بڑھا دیتے ہیں
سارا عالم ہے رضا جوئے خداوند ِ جہاں
ہم نے یوں شمعِ رِسالت سے لگائی ہے لو
اَز شہا تا بگدایانِ جہاں اِک عالم
ایسی سرکار ہے بھرپور جہاں سے لینے
دونوں ہاتھوں سے لٹاتے ہیں خزانہ لیکن
کردہ ناکردہ اِشارے میں تمہارے ہوجائے
بیکس و بے بس و بے یارو مَددگار جو ہو
ان سے دشمن کی مصیبت نہیں دیکھی جاتی
جگمگا اُٹھتا ہے دل کا مِرے ذَرَّہ ذَرَّہ
آپ محبوب ہیں اللہ کے ایسے محبوب
جس گلی سے تو گزرتا ہے مرے جانِ جناں
عرشِ اَعلیٰ سے کہیں بالا ہے رتبہ اس کا
پیاسو مژدہ ہو کہ وہ ساقیٔ کوثر آئے
آستانے کے گداؤں کے لیے رحمت ہے
کب گل طیبہ کی خوشبو سے بسیں گے دل و جاں
دیکھئے غنچۂ دِل اپنا کھلے گا کب تک
کب بہارِ چمنِ طیبہ نظر آتی ہے
سر بلندی اسے حاصل ہے جناب ِرب میں
دل تپا سوزِ محبت سے کہ سب میل چھٹے
کب مٹانے سے کسی کے خطِ تقدیر مٹے
محو اِثبات کی ہاں آپ نے قدرت پائی
تیرا دِیدار مُیَسَّر ہو جسے نورِ خدا
وہ نہیں حشر میں جو ہوگا شہا بے پردہ
تیرا جلوہ نہیں اللہ کا جلوہ ہے وہ
تو ہے آئینۂ ذاتِ اَحدِی اے پیارے
دَاغِ دِل میں جو مزہ پایا ہے نوریؔ تم نے
— Mustafa Raza Khan Noori\
سبز گُنبد کی زیارت کیجئے
گنبدِ خَضرا کے جلوے دیکھ کر
آگیا میٹھا مدینہ آگیا جھوم کر
مسجدِنبوی میں ہر دم بھائیو!
زائرو! رو رو کر ان کے سامنے
قلبِ مُضطَر چشمِ تَر سوزِ جگر
اَزپئے احمدرضا مجھ کو عطا
ازپئے غوثُ الورٰی یامصطَفٰے
از طفیلِ مرشدی دل سے مِرے
فاطِمہ زَہرا کا صَدقہ مجھ سے دور
دُور غم دنیا کے فرما دیجئے
اپنے اَخلاقِ کریمہ سے مجھے
دردِ عِصیاں کی دوا کیجے عطا
عادتِ عِصیاں نہیں جاتی حضور
مجھ کو توفیقِ عبادت ہو عطا
سنّتوں کی ہر طرف آئے بہار
یانبی! مجھ کو! بقیعِ پاک میں
ہُوں نہایت ہی ضعیف و ناتُواں
ہو عطا سوزِ بِلال آقا مجھے
گُھپ اندھیرے میں ہوں تنہا اَلمدد
عیب محشر میں نہ کُھل جائیں کہیں
گرمیِ محشر سے جاں ہے مُضطَرِب
مجرِموں کی صَف میں ہوں آقا کھڑا
کربلا والوں کے صدقے مجھ سے دور
مختصر سی زندگی ہے بھائیو!
گر رِضائے مصطَفٰے درکار ہے
سُنَّتیں اپنا کے حاصِل بھائیو!
عیدِ مِیلادُالنَّبی پر بھائیو!
ہِجر کے ماروں پہ بھی چشمِ کرم!
میرے چہرے پر کفن ڈھک دیجئے
اب نِقابِ رُخ اُلٹ دیجے حُضُور
حاضِرِ دربار پھر بدکار ہے
بڑھتے جاتے ہیں گنہ عطارؔ آہ!
سبز گنبد پر فِدا ہوجایئے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
اس طرف بھی اک نظر مہر درخشانِ جمال
تم نے اچھوں پہ کیا ہے خوب فیضانِ جمال
تیری جاں بخشی کے صدقے اے مسیحائے زماں
فرش آنکھوں کا بچھائو رہ گزر میں عاشقو
مرکے مٹی میں ملے وہ نجدیو بالکل غلط
گرمیٔ محشر گنہگاروہے بس کچھ دیر کی
کرکے دعویٰ ہمسری کا کیسے منہ کے بل گرا
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
معراجِ بشر، نورِ خدا ہیں مرے آقاؐ
شان آپؐ کی کیسے کسی ادراک میں آۓ
ذات اُمؐ کی رہ زیست میں تنویرِ ہدایت
دنیا کی کشاکش ہوکہ ہو دیں کی تگ و دو
انساں پہ عیاں کرتے ہیں توحید کے اسرار
مقصود حیات آپؐ کا انسان کی بہبود
ایثار، کرم، خلق، رضا، صبر، محبت
ہے پرتوِ حق آپؐ کے اندازِ عمل میں
خورشید و قمر آپؐ کی تنویر سے روشن
حاصل ہے سِوا آپؐ کے کس کو یہ سعادت
مانگی تھی براہیم نے جو صحنِ حرم میں
گفتار نبئؐ درس ہے عرفانِ خدا کا
قرآن کا مفہوم عیاں انؐ کے عمل سے
پڑھتا ہوں درود آپؐ پہ اخلاص و وفا سے
ہے مجھ سا خطا کار بھی بخشش کا طلب گار
خوش بخت ہوں میں آپؐ کی امت میں ہوں ساقیؔ
— Rasheed Saqi\