نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری
خاک منہ میں تِرے کہتا ہے کسے خاک کا ڈھیر
تیرے نزدیک ہوا کذبِ الٰہی ممکن
بلکہ کذاب کیا تونے تو اِقرارِ وُقوع
علم شیطاں کا ہوا علم نبی سے زائد
بزمِ میلاد ہو کانا۱؎ کے جنم سے بدتر
علم غیبی میں مجانین و بہائم کا شمول
یادِ خر سے ہو نمازوں میں خیال اُن کا برا
اُن کی تعظیم کرے گا نہ اگر وقت نماز
ہے کبھی بوم کی حلت تو کبھی زاغ حلال
ہنس کی چال تو کیا آتی گئی اپنی بھی
کھلے لفظوں میں کہے قاضیِ شوکاں مدد دے
تیری اَٹکے تو وکیلوں سے کرے اِستمداد
ہم جو اللہ کے پیاروں سے اِعانت چاہیں
عبد وہاب کا بیٹا ہوا شیخ نجدی
اُسی مشرک کی ہے تصنیف کتاب التوحید
ترجمہ اس کا ہوا تفویۃ الایماں نام
واقف غیب کا اِرشاد سناؤں جس نے
زَلزلے نجد میں پیدا ہوں فتن برپا ہوں
ہو اُسی خاک سے شیطان کی سنگت پیدا
سر مُنڈے ہوں گے تو پاجامے گھٹنے ہوں گے
اِدَّعا ہوگا حدیثوں پہ عمل کرنے کا
اُن کے اَعمال پہ رَشک آئے مسلمانوں کو
لیکن اُترے گا نہ قرآن گلوں سے نیچے
نکلیں گے دین سے یوں جیسے نشانہ سے تیر
اپنی حالت کو حدیثوں سے مطابق کر لے
چھوڑ کر ذکر ترا اَب ہے خطاب اَپنوں سے
مِرے پیارے مِرے اپنے مِرے سنی بھائی
تجھ سے جو کہتا ہوں تو دل سے سن انصاف بھی کر
گر تِرے باپ کو گالی دے کوئی بے تہذیب
گالیاں دیں انہیں شیطان لعین کے پَیرو
جو تجھے پیار کریں جو تجھے اپنا فرمائیں
جو تِرے واسطے تکلیفیں اٹھائیں کیا کیا
جاگ کر راتیں عبادت میں جنہوں نے کاٹیں
حشر کا دن نہیں جس روز کسی کا کوئی
اُن کے دشمن سے تجھے رَبط رہے میل رہے
تو نے کیا باپ کو سمجھا ہے زیادہ اُن سے
ان کے دشمن کو اگر تو نے نہ سمجھا دشمن
اُن کے دشمن کا جو دشمن نہیں سچ کہتا ہوں
بلکہ ایمان کی پوچھے تو ہے ایمان یہی
اَہلسنت کا عمل تیری غزل پر ہو حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\