سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی
بزمِ آخر کا شمع فزوزاں ہوا
جس کو شایاں ہے عرش خدا پر جلوس
بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں
جس کے تلووں کا دھوون ہے آبِ حیات
عرش و کرسی کی تھیں آئینہ بندیاں
خلق سے اولیاء، اولیاء سے رُسل
حسن کھاتا ہے جس کے نمک کی قسم
جس کی دو بوند ہیں کوثر و سلسبیل
جیسے سب کا خدا ایک ہے ویسے ہی
قرنوں بدلی رسولوں کی ہوتی رہی
کون دیتا ہے دینے کو منہ چاہیے
کیا خبر کتنے تارے کھلے چھپ گئے
ملک کونین میں انبیاء تاجدار
لامکاں تک اجالا ہے جس کاوہ ہے
سارے اچھوں میں اچھا سمجھئے جسے
انبیاء سے کروں عرض کیوں مالکو
جس نے ٹکڑے کئے ہیں قمر کے وہ ہے
جس نے مردہ دلوں کو دی عمر ابد
غمزدوں کو رضؔا مژدہ دیجئے کہ ہے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\