محبوبِ کبریا ﷺ سے میرا سلام کہنا
تجھ پر خدا کی رحمت ائ عازمِ مدینہ
ساحل پہ آتے آتے موجوں کو چوم لینا
دربارِ مصطفیٰ ﷺ کی حاصل ہو جب حضوری
روضے کی جالیوں کے جس دم قریب جانا
— Unknown
محبوبِ کبریا ﷺ سے میرا سلام کہنا
تجھ پر خدا کی رحمت ائ عازمِ مدینہ
ساحل پہ آتے آتے موجوں کو چوم لینا
دربارِ مصطفیٰ ﷺ کی حاصل ہو جب حضوری
روضے کی جالیوں کے جس دم قریب جانا
— Unknown
پُھل ہنجواں دے پلکاں اُتے آپ سجاواں گے
ہور وظیفہ کیہہ کرنا اے چج نہ کوئی اوندا اے
قسمت نال جے کوئی مسافر ملے مدینے دا
جو جو کیتی نال اساں دےایس وچھوڑے نے
ساری کائنات خدا دی صدقہ کملی دا
کوئی رُسیا یار مناوے کوئی مناوے دنیا نوں
— Muhammad Ali Zahoori\
کچھ ایسا کر کریم! مرے ساتھ اپنے آپ
ہر چیز اپنی سیدھی ڈگر پر ہو گامزن
ہو دور جو کجی ہے جبلت میں اے رحیم!
ہو غیب سے اشارہ کوئی معجزے کی شکل
ہٹ کراس ارض پاک سے آۓ نہ کوئی سوچ
فیضان روح پر ترے الطاف کا رہے
اظہار کو نصیب ہو لہجہ دعاؤں کا
تیرے کرم سے فردِ عمل میں ریاضؔ کی
— Riaz Majeed\
حبیبِ خدا پر لاکھوں سلام
ہم سب ہیں آقا ﷺ تیرے غلام
عرش بریں پر تم کو بلایا
تیری رضا میں رب کی رضا
مشکل میں جب بھی جس نے پکارا
حور و ملائک جن و بشر کیا
جس کا وظیفہ ذکرِ نبی ﷺ ہے
— Unknown
اے حاجیوسرکار کا در کیسا لگا ہے
جی بھر کے ہے تم نے دیکھا گنبدِ خضریٰ
ہے چومتا گنبد کو دیکھا تم نے ہے سورج
ہے سینکڑوں دنیا میں کیسے تم نے سفر ہیں
تم نے دیکھے بادل ہو نگے جگ میں روزانہ
وہاں یاروں کے ہمراہ جہاں آقا ہیں لیٹے
— Unknown
پئی تکنی آں راہواں میں نی خورے سوہنا آجاوے
کوئی ہور سہارا نئیں تے بھیڑاں بن گیاں ڈاھڈیاں
آجاندا اے غلاماں ول نی سوہنا ماہی میں ویکھیا
ہویاں مدتاں اڈیکداں سوہنے تائیں اشفاقی!
— Ashfaqi\
گر قبلہ رو' قرینہ؛ افعال ہو درست
ترے کرم سے خیر سلیقہ ہو زندگی
شائستگی نصیب ہوں خواہش کے زیر و بم
پیچھے لگے نہ نفسِ خطاکار کے یہ دل
گزرا جو وقت اس میں ہوئی جو خطا معاف
محشر میں پیشِ خلق نہ رسوائی ہو مری
لاریب' ہمہ نفع ہے یہ کاروبار عمر
حیرت ہے ایک اول و آخر محیط لب
ہو خیریاب زندگی تب ہی اگر ریاضؔ
— Riaz Majeed\
آقا ہمارے نورو نور آقا ہمارے نورونور
اُن کا نام بڑا ہے پیارا جو ہے سارے جگ کا سہارا
عرش پہ وہ مہمان ہوۓ ہیں نبیوں کے سلطان ہوۓ ہیں
اُن کے دم سے ہر سُو سویرا جو ہے حامی تیرا میرا
اُن کا نظارا رب کا نظارا اُن کا رتبہ سب سے بھارا
جن کا خوشبو دار پسینہ جن کا درہےعرش کا زینہ
اُن کے نغمے گاۓرکھنا اُن کا میلاد مناۓ رکھنا
— Unknown
ایہہ کلمہ ذکر اِلہٰی دا
اس کلمے دے راز نیارے نیں
اس کلمے دے لفظ نیں چارمیاں
کر کلمے وَل دھیان میاں
کیوں کرنا ایں مان جوانی دا
کیوں کرنا ایں عمر ویران میاں
ایہہ دنیا دے جھگڑے چھوڑ میاں
بِن تیل توں دیوا بَلدا نئیں
— Muhammad Binyamin Shakir Attari\
پڑھتے ہیں کون و مکاں آپ کا کلمہ تنہا
ایک سے دو ہوں تو توحید کہاں رہتی ہے
تشنہ رہ جاتی ہیں خود پڑھ کے کتابیں جس کو
کیسے کیسے نہیں دنیا میں ممالک لیکن
پردہ جبریل کی آنکھوں سے بھی اس وقت اٹھا
نور حق کا کوئی رشتہ ہی نہیں ساۓ سے
شوق جتنا شہ طیبہ کا خیال آتا ہے
— Khawaja Shouq\