پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں
رُخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اُٹھائے کیوں
بار نہ تھے حبیب کو پالتے ہی غریب کو
یادِ حُضور کی قسم غفلتِ عیش ہے سِتم
دیکھ کے حضرتِ غنی پھیل پڑے فقیر بھی
جان ہے عشقِ مصطفٰے روز فَزوں کرے خدا
ہم تو ہیں آپ دِل فِگار غم میں ہنسی ہے ناگوار
یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں
اُن کے جلال کا اثر دل سے لگائے ہے قمر
خوش رہے گُل سے عندلیب خارِ حرم مجھے نصیب
گردِ ملال اگر دُھلے دِل کی کلی اگر کِھلے
جانِ سفر نصیب کو کس نے کہا مزے سے سو
اب تو نہ روک اے غنی عادتِ سگ بگڑ گئی
راہِ نبی میں کیا کمی فرشِ بیاض دِیدہ کی
سنگِ درِ حضور سے ہم کو خدا نہ صبر دے
ہے تو رضاؔ نِرا سِتَم جُرم پہ گر لجائیں ہم
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\