کعبے کے صحنِ محترم میں بیٹھ
بابِ کعبہ کی سمت ہو یکسو
کچھ پڑاؤ طریقِ ہجرہ میں
لنگر انداز ہو ہواۓ ثنا!
ابر ' لاتقنطوا' کے ساۓ میں
آسمانِ ثنا میں کر پرواز
زرِ مدحت! ریاضؔ عاجز کے
— Riaz Majeed\
Hamd o Sana lyrics praising Allah Almighty
کعبے کے صحنِ محترم میں بیٹھ
بابِ کعبہ کی سمت ہو یکسو
کچھ پڑاؤ طریقِ ہجرہ میں
لنگر انداز ہو ہواۓ ثنا!
ابر ' لاتقنطوا' کے ساۓ میں
آسمانِ ثنا میں کر پرواز
زرِ مدحت! ریاضؔ عاجز کے
— Riaz Majeed\
عفو و بخشش کے اے عظیم سراج!
لوح محفوظ اس پہ شاہد ہے
ہم خطا کار، بدنہادوں سے
خود کیا نقشۃ ظہور تباہ
ہم سیہ طبع عاصیوں کے لیے
ہو کرم ہم نشیب خواہوں پر
ہم گنہ خو ہوس پرستوں کی
پیشِ اقوام دہر خوار و زبوں
ملتمس تجھ سے ہے ریاضؔ اس کی
— Riaz Majeed\
حشر میں نامۃ سایہ کا بوجھ
آگ کے کپڑے رحم! ہوگا وہ کیا
درگزر، عفو، مغفرت، یا رب!
دیکھ میزان حشر کی رو سے
بندگی ہو مجھے حلاوت بخش
لفظ توحید تجھ سے ہے مخصوص
صاف کر دیجو، میری فردِ عمل
بے نیازانہ جہ زمانے میں
غلطی کی ریاضؔ ہم نے جو
— Riaz Majeed\
اتنی تو دل کو' اے خدا ! ہو سمجھ
کیا سمجھ آۓ تیری' آدم کو
ہر صفت میں وہ کامل و اکمل
رہے پل بھر نہ اس کے ذکر بغیر
تُو ہی الہام کر ریاضؔ کو حق
— Riaz Majeed\
تیرا ہر پارۃ مبیں ہے سچ
جیسے قرآں کی آیت آیت ہے
ہوا آغاز جس کا اقرا سے
لاۓ جبریل وحی جو لاریب
نام جس کا محمدؐ عربی
زہے شیخین کی قرابتِ قبر
دائم آرام اور سکینت بخش
کذب ہے ہر حوالہ تیرے بغیر
کبھی عکس اس کا جلوہ گر ہو ریاضؔ
— Riaz Majeed\
تری طاعت کی دنیا میں رہوں کچھ
گزاری اب تک آزادہروی میں
اطاعت کی فضاۓ خیر زا میں
بنے جو ورد خلقت کی زباں کا
اطاعت خُو، بھلے لوگوں کی صورت
عمل نامے میں رنگ آجائیں یا رب!
جسے آقا پذیرائیں الہی
کروں تسبیح تیری خلوتوں میں
ریاضؔ اچھا لگے رحمٰن کو جو
— Riaz Majeed\
حرص سے مکر سے ریا سے بچ
عاجزی اختیار کر، چپ رہ
کسی معصوم کا دکھا نہ تُو دل
کریں گے تجھ پہ بار بار وہ وار
ایکہے ایک ہے ریاضؔ وہ ایک
— Riaz Majeed\
کریں تیرے ہی نام کی تسبیح
منزل حمد کس نے سر کی ہے
جو زمیں میں' جو آسماں میں ہے شے
سب زبانوں میں جتنے لفظ ہیں وہ
صرف حیرت ہے شش جہت حیرت
دمبدم تیری کلکِ رحمت سے
تیرا سارا نظام موجودات
— Riaz Majeed\
جس کسی نے بھی کی کسی کی مدح
ہو کرم مجھ خطا شعار پہ بھی
سرسراہٹ ہواؤں کی تسبیح
فرش سے عرش تک کروں نے ترہ
تو حمید آپ اپنی ذات میں ہے
صبح کاذب میں کیسے شبنم نے
کوہساروں کا راز یاب سکوت
لفظ کا ظرف کب کرے اس کی
کس نے کی؟ کون کرسکے گا ریاضؔ
— Riaz Majeed\
سدا سکینت اثر ہو درود کی تسبیح
بعید کیا تیری رحمت سے تو جو دے توفیق
زباں کا ورد ہو سبحان ربی الا علی
ہوں اس کے ساتھ ہم آہنگ دھڑکنیں دل کی
ہو دل کی نبض کی سانسوں کی خوں کی گردش کی
ہو پورا ذکر پردیا خلوصِ نیت میں
ہو مردہ دل مرا، بیدار اور زندہ کوئی
گرا رہا ہے شب و روز دانہ دانہ وہ
ستارے کا ہکشائیں ہیں جس کے دانے ریاضؔ
— Riaz Majeed\