میں بندہ آصی ہوں خطا کار ہوں مولا
وابستہ ہے امید میری تیرے کرم سے
پھر تم میرے ایمان کو توانائی عطا کر
باہر کے اُجالے مجھے کیا راہ سجھائیں
اک تیرا اشارہ ہو اور آسان ہو مشکل
— Unknown
Hamd o Sana lyrics praising Allah Almighty
میں بندہ آصی ہوں خطا کار ہوں مولا
وابستہ ہے امید میری تیرے کرم سے
پھر تم میرے ایمان کو توانائی عطا کر
باہر کے اُجالے مجھے کیا راہ سجھائیں
اک تیرا اشارہ ہو اور آسان ہو مشکل
— Unknown
مِٹا میرے رنج و اَلَم یاالٰہی
شرابِ محبت کچھ ایسی پِلا دے
مجھے اپنا عاشِق بنا کر بنا دے
فَقَط تیرا طالِب ہوں ہرگز نہیں ہوں
نہ دے تاجِ شاہی نہ دے بادشاہی
جو عشقِ محمد میں آنسو بہائے
شَرَف حج کا دیدے چلے قافِلہ پھر
دکھا دے مدینے کی گلیاں دکھا دے
چلے جان اِس شان سے کاش یہ سر
مِرا سبز گنبد کے سائے میں نکلے
عبادت میں لگتا نہیں دل ہمارا
مجھے دیدے ایمان پر اِستقامت
مِرے سر پہ عِصیاں کا بار آہ مولٰی
حُقُوقُ العِباد! آہ! ہوگا مِرا کیا!
بڑی کوششیں کی گنہ چھوڑنے کی
مجھے سچّی توبہ کی توفیق دیدے
جو ناراض تُو ہوگیا تو کہیں کا
مجھے نارِ دوزخ سے ڈر لگ رہا ہے
سدا کیلئے ہوجا راضی خدایا
خدایا بُرے خاتِمے سے بچانا
گناہوں سے بھر پور نامہ ہے میرا
تُلیں میرے اعمال میزاں پہ جس دم
میں تھا لائقِ نارِ دوزخ خدایا
بروزِ قیامت ہو ایسی عنایت
جَلا دے نہ نارِ جہنم کرم ہو
گناہوں کی عادت بڑھی جا رہی ہے
گناہوں کی تاریکیاں چھا گئی ہیں
چلے قبر میں سب اکیلا لِٹا کر
نکیرین بھی قبر میں آچکے ہیں
قِیامت کی گرمی میں کیسے سہوں گا
یہود و نصاریٰ کو مغلوب کردے
مجھے دونوں عالم کی خوشیاں عطا ہوں
جو بیمار آئے شِفا پاکے جائے
میں تحریر سے دِیں کا ڈنکا بجادوں
تُو عطّارؔ کو بے سبب بخش مولیٰ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
مجھے بخش دے بے سبب یا الٰہی
گناہوں نے ہائے! کہیں کا نہ چھوڑا
پئے شاہِ بطحا مِری چھوٹ جائیں
بڑا حج پہ آنے کو جی چاہتا ہے
میں مکّے میں آؤں مدینے میں آؤں
میں دیکھوں مدینے کا گلشن دکھا دے
کرم ایسا کر دے مدینے میں آ کر
دکھا دے بہارِ مدینہ دکھا دے
سلیقہ شِعاری کا میں ہوں بھکاری
ملے بیقراری کروں آہ وزاری
کروں عالموں کی کبھی بھی نہ توہین
حُسین ابنِ حیدر کے صدقے میں مولٰی
زمانے کی فکروں سے آزاد کر دے
جو مانگا وہ دے مجھ کو وہ بھی عطا کر
مسلماں مسلمان کے خوں کا پیاسا
سبھی ایک ہو جائیں ایمان والے
کبھی تو مجھے خواب میں میرے مولٰی
خدایا بُرے خاتمے سے بچا لے
نظر میں محمد کے جلوے بسے ہوں
پسِ مَرگ ہو روزِ روشن کی مانَند
گناہوں سے عطّارؔ کو دے مُعافی
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
میں مکّے میں پھر آگیا یاالٰہی
نہ کر رَد کوئی اِلتجا یاالٰہی
رہے ذِکر آٹھوں پَہَر میرے لب پر
مِری زندگی بس تری بندگی میں
نہ ہوں اَشک برباد دنیا کے غم میں
عطا کردے اِخلاص کی مجھ کو نعمت
مجھے اولیا کی مَحبَّت عطا کر
میں یادِ نبی میں رہوں گم ہمیشہ
مِرے بال بچوں پہ سارے قبیلے
دے عطّاریوں بلکہ سب سُنّیوں کو
خدایا اجل آکے سر پر کھڑی ہے
مری لاش سے سانپ بچّھو نہ لپٹیں
تو عطارؔ کو سبز گنبد کے سائے میں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
محبت میں اپنی گُما یاالٰہی
رہوں مست وبے خود میں تیری وِلا میں
میں بے کار باتوں سے بچ کے ہمیشہ
مِرے اَشک بہتے رہیں کاش ہر دم
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ
مِرے دل سے دنیا کی چاہت مٹا کر
تُو اپنی وِلایت کی خیرات دیدے
گناہوں نے میری کمر توڑ ڈالی
گناہوں کے امراض سے نیم جاں ہوں
بنادے مجھے نیک نیکوں کا صَدقہ
مِرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو
عبادت میں گزرے مری زندگانی
مسلماں ہے عطارؔ تیری عطا سے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
مُعاف فضل و کرم سے ہو ہر خطا یارب
بِلا حساب ہو جنّت میں داخِلہ یارب
نبی کا صَدقہ سدا کیلئے تُو راضی ہو
ترے حبیب اگر مُسکراتے آ جائیں
خَزاں پھٹک نہ سکے پاس، دے بہار ایسی
ہمارے دل سے نکل جائے الفتِ دنیا
نبی کی دید ہماری ہے عید یااللہ
ترے حبیب کی سنّت کی دھوم مچ جائے
مِری زُبان پہ’’ قفلِ مدینہ‘‘ لگ جائے
اُٹھے نہ آنکھ کبھی بھی گناہ کی جانب
کسی کی خامیاں دیکھیں نہ میری آنکھیں اور
تُلیں نہ حَشر میں عطّارؔ کے عمل مولیٰ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
مِٹا دے ساری خطائیں مری مِٹا یارب
بنادے مجھ کو الٰہی خُلوص کا پیکر
اندھیری قبر کا دل سے نہیں نکلتا ڈر
گناہگار ہوں میں لائقِ جہنَّم ہوں
بُرائیوں پہ پَشَیماں ہوں رَحم فرمادے
مُحِیط دل پہ ہوا ہائے نفسِ اَمّارہ
رِہائی مجھ کوملے کاش!نفس وشیطاں سے
گناہ بے عدد اور جُرم بھی ہیں لاتعداد
میں کر کے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں
سنوں نہ فُحش کلامی نہ غیبت وچغلی
کریں نہ تنگ خیالاتِ بد کبھی ، کردے
نہیں ہے نامۂ عطارؔ میں کوئی نیکی
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
کہتی ہے یہ پھولوں کی ردا اللہ ہو اللہ
اللہ ہو اللہ، اللہ ہو اللہ
بادل نے آسمان پہ لکھا اللہ ہو اللہ
اللہ ہو اللہ، اللہ ہو اللہ
ہو سورۃ یٰسین کہ ہو سورۃ اخلاص
اللہ ہو اللہ، اللہ ہو اللہ
خوشبو کرن اُجالے دھنک اور کہکشاں
اللہ ہو اللہ، اللہ ہو اللہ
کرتا ہے ثناء تیری برستا ہوا پانی
اللہ ہو اللہ، اللہ ہو اللہ
شبنم گری جو پھولوں پر پڑھتی ہوئی ثناء
اللہ ہو اللہ، اللہ ہو اللہ
جب نزع کے عالم ہو معلا یہ اجاگر
اللہ ہو اللہ، اللہ ہو اللہ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
لاج رکھ میرے دستِ دُعا کی
اپنی رَحمت کی اپنی عطا کی
قلب میں یاد تیری بسی ہو
مستی و بے خودی اور فَنا کی
کرنا رَحمت خدا مجھ پہ اپنی
دائمی اور حتمی رِضا کی
نَفْس نے لذَّتوں میں پھنسایا
دل سے چاہَت مِٹا ماسِوا کی
اَزپئے غوثِ اعظم ولایت
اپنی، اپنے نبی کی وِلا کی
حال عاصی کا بے حد بُرا ہے
عَفوِ جُرم و قُصُور و خطا کی
میں گناہوں میں لتھڑا ہوا ہوں
عَفوِ جُرم و قُصُور و خطا کی
ہے یہ تسلیم سب سے بُرا ہوں
عَفوِ جُرم و قُصُور و خطا کی
ہو کرم از طفیلِ مدینہ
عَفوِ جُرم و قُصُور و خطا کی
بات عِصیاں سے میں نے بگاڑی
لُطف و رَحمت کی عَفو و عطا کی
تیرے ڈر سے سدا تھر تھراؤں
کیف ایسا دے، ایسی ادا کی
مکرِ شیطان سے تو بچانا
نَزع میں دیدِ بدرُ الدُّجٰی کی
پھر عرب کی حسیں وادیاں ہوں
مجھ کو دیدارِ ثور و حِرا کی
دیدے پردہ بہو بیٹیوں کو
ہم سبھی کو حقیقی حیا کی
اب تک اولادسے جو ہیں محروم
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
الحمد فاتحہ ہے قرآن کریم کا
جب سے لیا ہے نام خدائے رحیم کا
کیسے کروں میں شکر غفور الرحیم کا
بندہ ہوں کس کا، بندہ ہوں رب کریم کا
مجھ کو پتہ ہے خوف نہیں ہے جحیم کا
اس نعمتِ تمام پہ انعمات ہے گواہ
ہر ذرہ ہے جہاں کا عکس وجود ذات
صدقہ حضور پاک کا انجام ہو بخیر
ہر بے خبر کی رہتی ہے ہر پل جسے خبر
— Allama Ibrahim Khushtar Siddique\