خلدِ طیبہ کےاے موسمِ دلکشا،میری اجڑی ہوئی کشتِ جاں میں اُتر
ہم کلامی ہواۓمدینہ سےہو، ہم نشینی کبھی طورِ سینا سےہو
رت جگوں کا تسلسل مقدربنے، میری پہچان نعت پیمبرؐ بنے
اپنی پلکوں کو تلوے بناکرتوچل، دیپ حُبّ نبیؐ کےجلا کرتو چل
آسمانی صحیفوں کےاوراق پڑھ، میرےآقاؐ کی آمد کےعنواں سمجھ
آج کی شب بھی طیبہ کی دیوارودر سےلپٹتا رہےچشم و تر کا دھواں
وصل کی ساعتوں کی تمنا لیے، جی رہا ہےکوئی ہجر کےشہر میں
میرے بچوں کے خوابوں کی تعبیردے، ان کو آسودہ لمحوں کی تنویر دے
امتِ بےوسیلہ کی محرومیوں کا بیاں کب تلک اے مرے نوحہ گر
اپنے بختِ رسا کی بلائیں بھی لے، شہرِطیبہ کی ٹھنڈی ہوائیں بھی لے
دامنِ دل میں کلیاں سجاتے ہوۓ، آرزوکےگھراوندے بناتے ہوۓ
ہرطرف سنگباری کا منظرکھلا، سنگِ دل ساعتوں کا سمندر کھلا
آج تُو میری اُنگلی پکڑلےصبا، سوۓ طیبہ چلیں، میرے ہمراہ آ
میں ریاضؔ آج بھی سر جھکاۓ ہوۓ، ملتمس ہوں ہواۓ درِ پاک سے
— Riaz Hussain Chaudhary\
