نہ کیونکر مطلعِ دیواں ہو مطلع مہر وحدت کا؟
غضب سے تیرے ڈرتو ہوں رضا کی تیری خواہش ہے
نہ پوچھو گرمئ شوقِ ثنا کی آتش افروزی
فروغِ جلوۃ توحید کو وہ برقِ جولاں کر
مرا جوہر ہو سر تا پا صفاۓ مہرِ پیغمبرؐ
امیرِ لشکرِ اسلام کا محکوم ہوں یعنی
زمانہ مہدیِ موعود کا پایا اگر مومن
— Momin Khan Momin\
