رہے جاتے ہیں یہ ارمان ہاۓ میرے سینے میں
سنا ہے نور کی برسات ہوتی ہے مدینے میں
محمد ﷺ اس طرح تشریف فرما ہیں مدینے میں
مزہ کیا خاک آۓ دور رہ کر ایسے جینے میں
محمد ﷺ کی جدائی آگ بھڑکاتی ہے سینے میں
غریبؔ جاۓ کہاں یا رب تڑپتی روح کو لے کر
— Unknown
رہے جاتے ہیں یہ ارمان ہاۓ میرے سینے میں
سنا ہے نور کی برسات ہوتی ہے مدینے میں
محمد ﷺ اس طرح تشریف فرما ہیں مدینے میں
مزہ کیا خاک آۓ دور رہ کر ایسے جینے میں
محمد ﷺ کی جدائی آگ بھڑکاتی ہے سینے میں
غریبؔ جاۓ کہاں یا رب تڑپتی روح کو لے کر
— Unknown
پیام لائی ہے بادِ صبا مدینے سے
ہمارے سامنے یہ نازشِ بہار فضول
فرشتے سینکڑوں آتے ہیں اور جاتے ہیں
نہ آئیں جا کے وہاں سے یہی تمنا ہے
— Seemab Akbarabadi\
آمدِ مصطَفیٰ مرحبا مرحبا
یاشفیعَ الْوَریٰ مرحبا مرحبا
یارسولِ خدا مرحبا مرحبا
آئے شمسُ الضحٰی مرحبا مرحبا
آئے نورُالھُدٰی مرحبا مرحبا
آئے مُشکِل کُشا مرحبا مرحبا
رھبرورھنُما مرحبا مرحبا
رحمتِ کبریا مرحبا مرحبا
یاحبیبِ خدا مرحبا مرحبا
راحتِ آمِنہ مرحبا مرحبا
آئے صدرُالْعُلٰی مرحبا مرحبا
اے سِراجِ مُنیر اے عَلیم و خَبیر
آمِنہ کے یہاں شاہِ کون و مکاں
سر پہ تاجِ شفاعت ہے جن کے وہ آج
آئے پیارے نبی ہر طرف تھی خوشی
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا مہکی مہکی فَضا
پھول کِھلنے لگے نعت کہنے لگے
ابرِرحمت اُٹھا اور برسنے لگا
چار سُو چاندنی ہر طرف روشنی
تھی ہوا مُشکبار آئی ہرسُو بَہار
واعِظِ خوش بیاں اُن کا ہر نعت خواں
ہے بڑا مرتبہ ماہِ مِیلاد کا
مُنہ اُجالا ہوا بول بالا ہوا
ہر صَنَم گر پڑا کعبہ کہنے لگا
دُور اندھیرا ہوا لو سَویرا ہوا
دھوم صلِّ علیٰ کی مچی چار سُو
بے قرارو سنو دل فِگارو سنو
مَرْغْز ارو سُنوریگزار وسُنو
گُلْ عِذارو سُنوما ہ پارو سنو
شاندارو سُنو جاندارو سُنو
اے دُلارو سُنو میرے پیارو سُنو
میرے یارو سُنو دوستدارو سُنو
آبشارو سُنو تیز دھارو سُنو
شاخْسارو سُنو خارزارو سُنو
اے بَہارو سُنو تُم نَظارو سُنو
چاند تارو سُنو تم بھی غارو سُنو
لالہ زارو سُنو تم بہارو سُنو
تاجدارو سُنو مالدارو سُنو
اے کہارو سُنو تم سُنارو سُنو
ہونْہارو سُنو ہوشیارو سُنو
رازدارو سُنو روزہ دارو سُنو
کامدارو سُنو کامگارو سُنو
شَہسُوارو سُنو نامدارو سُنو
عیدِ مِیلاد ہے کس قَدر شاد ہے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
اشک غم دن رات پینا
درتمہارا پاک کردےمیرا یہ خاکی وجود
جس کو محبوبؐ خدا سے صدق دل سے پیار ہے
المدینہ چل مدینہ
گر گناہوں پر ہے نادم ہاتھ کو اپنے اٹھا
ماہِ رمضان کی فضیلت تو مدینےجاکےدیکھ
ہوں شفاعت کا میں طالب اور بکشش کی ادادو
تاقیامت دیس میرا یوں ہی پائندہ رہے
— Unknown
ہر لحظہ ہے مومن کی نئ شان نئ آن
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
ہمسایہ جبریل امیں بندۃ خاکی
یہ راز کسی کونہیں معلوم کہ مومن
قدرت کےمقاصدکاعیاراس کےارادے
جس سے جگرلالہ میں ٹھنڈک ہووہ شبنم
فطرت کاسرودِ ازلی اس کے شب و روز
بنتے ہیں مری کارگہ فکر میں انجم
— Dr Allama Muhammad Iqbal\
کر دو اتنا کرم آقا کر دو اتنا کرم
کر دو کرم سرکارِ مدینہ ہم روضے پہ آئیں
کرلیں ہم دیدار مدینہ آقا ہے یہ حسرت
روضے کے نورانی جلوے ہم آنکھوں میں بسائیں
رحمت کی رم جھم ہے جہاں پرایسی فضائیں مانگو
در پہ کمال آقا کے ہم بھی اپنی پلکیں بچھائیں
— Unknown
مجھے تو صرف اتنا ہی یقیں ہے
اگر تم مقصدِ عالم نہیں ہو
نہیں میں واقفِ سرِ الہیٰ
جو دل انوار سے ان کے ہے روشن
یہ سمجھے معنی لولاک میں نے
مگر آزارِ ہستی کا مداوا
وہ شہر بے حصار ان کا، مدینہ
نہ سمجھو ہم کو محروم نظارہ
کہ دل میں ماسواۓ اسمِ احمدؐ
— Shan Ul Haq Haqqee\
تو جو اللہ کا محبوب ہوا ، خوب ہوا
حشر میں امت عاصی کا ٹھکانا ہی نہ تھا
حسن یوسف میں ترا نور تھا، اے نور خداﷺ
فخر آدم کو نہ ہوتا، جو فرشتہ ہوتا
داغ ہے روز قیامت، مری شرم اس کے ہاتھ
— Dagh Dehlvi\
خاموش باادب سرِ دربار یا رسول
اس کودرِ جناب سےنسبت اگر نہ ہو
دیکھی ہیں جب سے گنبد خضریٰ کی تابشیں
اس عمرمختصرمیں یہ دیکھے پھرایک بار
اوقات اپنی جانتا ہوں اس کے باوجود
ہروقت میرےدل میں منوریہی رہیں
چُھپتا رہا ہجومِ غلاماں میں رات دن
کب سے ریاض ہےدرِاقدس پرسرنگوں
— Riaz Hussain Chaudhary\
ہم کو اپنی طلب سے سوا چاہیے
کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چاہیے
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور
آستانِ حبیبِ خدا چاہیے
آپ اپنی غلامی کی دے دیں سند
اپنے قدموں کا دھون عطا کیجۓ
عشق میں آپ کے ہم تڑپتے تو ہیں
درد جامی ملے نعت خالدؔ لکھوں
— Khalid Mehmood Khalid\