راہ گم کردہ کو منزل کا پتا دے شاہا
ریگِ صحرا کی طرح دل یہ مرا سوزاں ہے
نہیں معلوم یہ افتاد پڑی ہے کیسی
یہ کسی پل بھی مجھے لینے نہیں دیتے قرار
یہ مرا دل ہے وہ ناؤ کہ جو منجدھار میں ہے
— Ahmed Rahi\
راہ گم کردہ کو منزل کا پتا دے شاہا
ریگِ صحرا کی طرح دل یہ مرا سوزاں ہے
نہیں معلوم یہ افتاد پڑی ہے کیسی
یہ کسی پل بھی مجھے لینے نہیں دیتے قرار
یہ مرا دل ہے وہ ناؤ کہ جو منجدھار میں ہے
— Ahmed Rahi\
ہے کبھی دُرود و سلام تو،کبھی نعت لب پہ سجی رہی
تری آنکھ میں جو نمی رہی، کلی تیرے دل کی کِھلی رہی
مجھے کردے دِیدۂ تر عطا، غمِ عشق سوزِجگر عطا
نہ کثیر مال کی آرزو، نہ ہی اِقتِدار کی جُستجو
جسے مل گیا غمِ مصطَفٰے، اُسے زندگی کا مزہ ملا
یہ ہے زندَگی کوئی زندَگی، نہ نَماز ہے نہ ہی بندَگی
جو نبی کی یاد میں کھو گیا، وہ خدائے پاک کا ہوگیا
مجھے یانبی! تری دید ہو، تِری دید ہو مِری عید ہو
نہ پسند آئیں چمن اُسے، نہ ہی کھیت بھائیں ہرے بھرے
مجھے اب مدینے میں لوبُلا،اِسی سال حج بھی کروں شہا
مِری جاں ہو جسم سے جب جدا، ہو نظر میں جلوہ ٔ مصطَفٰے
مَدَنی! گناہ کی عادتیں ، نہیں جاتیں ، آپ ہی کچھ کریں
مجھے شوقِ دیں شب و روز دے، یہی ولولہ یہی سوز دے
تُو سگِ ؔمدینہ کو یاخدا، غمِ روزگار سے لے بچا
— Unknown
وہ حسن ہے اے سید اَبرار تمہارا
محبوب ہو تم خالق کل مالک کل کے
کیوں دِید کے مشتاق نہ ہوں حضرتِ یوسف
اللہ نے بنایا تمہیں کونین کا حاکم
بگڑے ہوئے سب کام سنبھل جائیں اسی دم
اُمت کے ہو تم حامی و غمخوار طرفدار
تم اَوَّل و آخر ہو تمہیں باطن و ظاہر
کیا جانیے مَا اَوْحٰی میں کیا راز ہیں مخفی
تم پیارے نبی نورِ جلی سر خفی ہو
سر ہے وہی سر جس میں ترا دھیان ہے ہر آن
جس کو مرضِ عشق نہیں ہے وہ ہے بیمار
ہر وقت ترقی پہ رہے دَردِ محبت
دِل میں نہیں کچھ اس کے سوا اور تمنا
یہ اَرض و سما خوان ہیں مہمان زمانہ
ہر دَم ہے تمہیں اپنے غلاموں پہ عنایت
بے مانگے عطا کرتے ہو من مانی مرادیں
کیوں عرض کروں مجھ کو ہے اس چیز کی حاجت
بالیں پہ چلے آؤ دمِ نزع خدارا
لاشے کو کریں دفن مدینہ میں فرشتے
پرواز کرے جسم سے جب رُوح تو دِل میں
اُمت بھی تمہاری ہوئی اللہ کو پیاری
اُٹھ جائے مدینے سے لحد کا مری پردہ
دن رات جو کرتے ہیں خطاؤں پہ خطائیں
اللہ نے وعدہ یہ کیا ہے شبِ معراج
جب تم کو بلایا شبِ معراج خدا نے
بندوں کو کسی وقت بھی دل سے نہ بھلایا
کیوں عاصیو غم سے ہے دل اَفگار تمہارا
لو آیا وہ حامی و مددگار تمہارا
اے عاصیو تم اپنے گناہوں سے یہ کہہ دو
میدانِ قیامت میں بجز ذاتِ مقدس
گھبرائے گنہگار تو رحمت نے پکارا
اَعمال نہ کچھ پوچھنا رحمت کے مقابل
دنیا میں قیامت میں سرِ پل پہ لحد میں
اے کاش ملائک سرِ محشر کہیں مجھ سے
اَعدا کو جلانے کے لیے نارِ حسد میں
توحید پہ مرتے ہیں مگراس سے ہیں غافل
توہین کو توحید سمجھتے ہیں وہابی
بلبل ہے جمیلؔ رضوی اے گلِ وحدت
— Jamil Ur Rehman Qadri\
ہر دَم ہو مِرا وِرد مدینہ ہی مدینہ
وہ لَمحہ وہ دِن اَور وہ آجَائے مہینا
طیبہ میں بُلا کر مُجھے سلطانِ مدینہ
سینہ ہو مدینہ تو مدینہ بنے سینہ
آجَائے مُجھے کاش! شَہَنشاہِ مدینہ
عِصیاں کے تَلاطُم میں پھنسا میرا سفینہ
اے نُورِ خُدا نُور بَھری دِل پہ نَظر ہو
سرکار! تمنّا ہے یُونہی عُمر بَسر ہو
غمگین تِرے غم میں رہُوں کاش ! ہمیشہ
ساقی! مُجھے جَام ایسا محبت کا پِلادو
تُم خاکِ مدینہ مِرے لاشے پہ چھڑکنا
عطّارؔ طلبگار ہے بس نظرِ کرم کا
— Unknown
نہ ہوا معجزۃ حق کا ظہور آپؐ کے بعد
پھر کوئی شمع ہدایت نہ جلی ہے نہ جلے
آپؐ کی ذات ازل آپؐ کا پیغام ابد
— Ahmed Faraz\
مومنو ہے رحمتِ حق کا وُرود
ہے ملائک کا یہاں پر اِزدِحام
با ادب ہے بانصیب اے اَہل دِیں
مژدہ لائی ہے صبا کس پھول کا
آج کعبہ کس لیے ہے شادماں
بت کدوں میں کس لیے کہرام ہے
دو جہاں میں کس کا لطف عام ہے
صف بصف ہیں کیوں فرشتے با ادب
جنتیں آراستہ ہیں کس لیے
کون سا ماہِ منور آئے گا
زلزلہ کیوں قصرِ کسریٰ میں پڑا
کیوں کہانت پر تباہی آگئی
جب َتحیرُّ اَہلِ حیرت کو بڑھا
آمَد آمَد سرورِ عالم کی ہے
آنے والا مالکِ دارین ہے
ہو رہا ہے آج کعبے کا سنگار
کوئی کہتا ہے کہ اے اَہلِ جہاں
کوئی کہتا ہے کہ آئیں گے یہاں
جن کی آمَد کی خبر عیسیٰ نے دی
نائبِ حق بادشاہِ دوجہاں
ہے نبی الانبیا اُن کا لقب
شافعِ محشر انہیں کا نام ہے
دَر پر اُن کے مانگتے ہیں تاجدار
ذرّہ ذرّہ کا ہے ان کو اختیار
سُنتے ہیں یہ ہی غریبوں کی پکار
کرتے ہیں فریاد ان سے جانور
سر پر ان کے دونوں عالم کا ہے تاج
مظہرِ علمِ خدا اُمی لقب
ان کی عزت کون جانے جز خدا
سنگ ان کے پائے اَقدس دیکھ کر
کیوں نہ ہو ہے عرش کی عزت قدم
خاکِپا اِکسیر کا بھرتی ہے دم
جھولیاں ڈالے فقیر و بے نوا
کررہے ہیں عرض با ذوق و طرب
گاہ دَر دِل ساز و گہ دَر دِیدہ جا
رُوسیاہ و بیکس و خاطی مَنَم
من نَیَم منکر خطاوارِ تو اَم
کارواں رفت و پریشانم بسے
دستگیرِ ما سیہ کاراں توئی
لو وہ اٹھا اَبرِ رحمت جھومتا
قحط سالی خاک میں مل جائے گی
ہے سواری آنے والی عنقریب
شاہِ شاہاں آنے والے ہیں یہاں
سب مَلک ہیں اِیستادہ باادب
سنیو تم بھی بہت تعظیم سے
اور کہو اے شاہِ شاہاں السلام
اے شفیعِ روزِ محشر السلام
احمد و محمود نامی السلام
اے مرے معراج والے السلام
عرش کی آنکھوں کے تارے السلام
اُمتی فرمانے والے السلام
لمبے لمبے ہاتھوں والے السلام
میرے والی میرے مولیٰ السلام
سرورِ عالم محمد ذِی وَقار
اے خدا کر مجھ کو عبدِمصطفیٰ
آل و اَصحابِ نبی کا رکھ غلام
قادری مے سے مجھے سرشار کر
ہیں مشائخ سلسلے میں جس قدَر
دائِما برَکات کے برَکات سے
مجھ پہ اچھے کی رہے اچھی نظر
میرے مرشد حضرتِ احمد رضا
اُن کے فیض و لطف سے مسرور رکھ
دوست اُن کا حشر تک پھولے پھلے
اُن کی سب اولاد اور خدام کا
عزت و عیش و علوم و فضل دے
ہو جمیلِؔ قادری کی ہر دُعا
— Jamil Ur Rehman Qadri\
ہے شَہد سے بھی میٹھا سرکار کا مدینہ
ہم کو پسند آیا سرکار کا مدینہ
ہر شہر سے ہے اچّھا سرکار کا مدینہ
بے کس کا ہے سہارا سرکار کا مدینہ
کُہسار دِلکُشا ہیں صحرا بھی دلرُبا ہیں
دونوں جہاں سے پیارا،کون ومکاں سے پیارا
جنّت کا حُسن سارا اِس میں سِمَٹ کر آیا
ہر سَمت رَحمتوں کی بَرسات ہورہی ہے
فُرقت کی آگ میں جو دِل کو جَلارہے ہیں
اے زائرِ مدینہ! دِل کو سنبھال لینا!
ہے لاکھ لاکھ مولیٰ ہر آن شکر تیرا
پُھولوں کو چُومتا ہوں ،کانٹوں کو چُومتا ہوں
جی چاہتا ہے میرا ہر شے یہاں کی چُوموں
میری نظر کو بَھائے دُنیا کا حُسن کیسے؟
اللہ! مُصطفٰے کے قدموں میں موت دیدے
عطّارؔ کی دعا ہے تقدیر میں خدایا
— Unknown
لٹاۓ سجدے نہ کیوں آسماں مدینے میں
قدم بڑھاۓ چلو رہروانِ منزلِ شوق
درِ رسولؐ کے ذروں کی گر تلاش نہیں
بہشت چیز ہی کیا ہے کہ ایک سجدے میں
قدم اٹھاۓ ادب سے ذرا نسیمِ سحر!
مدینے جاتے ہیں پیری میں سارے لوگ اخترؔ
— Akhtar Sherani\
ہُوا جاتا ہے د شمن سب زمانہ یارسولَ اللہ
مجھے چاروں طرف سے دشمنوں نے گھیر رکھا ہے
جو اپنے تھے وُہی بیگانے ہو کر اب ستاتے ہیں
بھنور میں پھنس چکی ہے ناؤ آقا ہائے کیا ہوگا
غم و آلام نے ہر سَمْت سے آقا جکڑ ڈالا
شہا! گلزارِ سنّت پر خَزاں نے کر دیا حملہ
غمِ دنیا میں کیوں روئیں ہمیں کردو نصیب آقا
ڈرایا بلکہ مارا بھی مجھے یامصطَفٰے جس نے
نہیں عطارؔ قابِل امتِحاں کے سرورِ عالم
— Unknown
نہ چھیڑو ذِکرِ جنت اب مدینہ یاد آیا ہے
مِلا کرتی ہیں منہ مانگی مرادیں تیرے روضے پر
نظر آتا ہے اُونچا آسمانوں سے ترا گنبد
نہ ہوتا تو اگر تو اِین و آں کچھ بھی نہیں ہوتا
خدا کی سلطنت کے تم ہو دولہا یَارَسُوْلَ اللہ
شبِ اَسرا مبارکباد تھی یہ حور و غلماں میں
تو ہے آئینۂ وَحدت کوئی کب مثل ہے تیرا
نمازوں میں اَذاں میں کلمہ میں اور عرش پر ہر جا
علومِ اَولین و آخریں سے بھر دیا سینہ
زمیں کو چیرتے دوڑے ہوئے آئے ہیں خدمت میں
اِجابت نے لیا بوسہ تمہارے پیارے ہونٹوں کا
یہ ممکن ہی نہیں بیڑی نہ کاٹو تم غلاموں کی
تمہاری ذات پر کیونکر بھروسہ ہو نہ عالم کو
کوئی پرسانِ حال اپنا نہیں ہے یَارَسُوْلَ اللہ
ثنائے مصطفیٰ وہ بھی رِوایاتِ صحیحہ سے
— Jamil Ur Rehman Qadri\