غیر اپنے ہوگئے، جو ہمارے بدل گئے
کس کو سنائیے گا یہاں غم کی داستاں
ڈھونڈے سے پائیے گا نہ پہلی سی مستیاں
اس دورِ مصلحت میں وفا کوئی شے نہیں
اخترؔ لگائیے لو نبیٔ کریم سے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
غیر اپنے ہوگئے، جو ہمارے بدل گئے
کس کو سنائیے گا یہاں غم کی داستاں
ڈھونڈے سے پائیے گا نہ پہلی سی مستیاں
اس دورِ مصلحت میں وفا کوئی شے نہیں
اخترؔ لگائیے لو نبیٔ کریم سے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
سکونِ قلب ہے خُلدِ نظر مدینہ ہے
تمام حسن و لطافت تمام رعنائی
ڈرا سکی نہ مجھے شامِ غم کی تنہائی
ہزار شہر ہیں دنیا میں شاد اور آباد
مدینے جا کے ہُوا ہے عجیب حال مرا
نہ پوچھ مجھ سے مرے مستقر کا حال احوال
بہانے پاۓ خرد ڈھونڈتا ہی رہتا ہے
مسافرانِ رہ شوق اتنا جانتے ہیں
مجھے نہیں کسی منظر سے واسطہ اسلمؔ
— Dr Aslam Farukhi\
حق کے محبو ب کی ہم مَدح و ثنا کرتے ہیں
راہ میں ان کی جو زَر اپنا فدا کرتے ہیں
جو شب و روز ترا نام جپا کرتے ہیں
ہم وہ بندے ہیں کہ دن رات خطا کرتے ہیں
وہی پاتے ہیں بہت جلد مقاصد دل کے
کردیا اپنے خزانوں کا خدا نے مالک
میں تری دَین کے قربان کہ تیرے منگتا
مرحمت ہو نہ انہیں کس لیے عمر جاوید
سننا فریاد غریبوں کی جلانا مردے
خلد دے دینا فقیروں کو غنی کردینا
ان کی گردش پہ مہ و مہر فدا ہوتے ہیں
بے زباں طائرِ وَحشی بھی اَلم کی اپنے
اُنگلیوں سے وہ بہا دیتے ہیں ایسے چشمے
جا کے دیکھیں گے کسی روز بہارِ طیبہ
ساتھ لے لو ہمیں اے قافلے والو لِلّٰہِ
ہم غلاموں کے پڑا کرتی ہے دل میں ٹھنڈک
ناز قسمت پہ نہ کیوں کر ہو جمیلؔ رضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
عرشِ عُلیٰ سے اعلیٰ میٹھے نبی کا روضہ
کیسا ہے پیارا پیارا یہ سبز سبز گنبد
فِردوس کی بُلندی بھی چھُو سکے نہ اس کو
مکّے سے اِس لئے بھی افضل ہوا مدینہ
کعبے کی عظمتوں کا مُنکِر نہیں ہوں لیکن
آنسُو چَھلَک پڑے اور بے تاب ہوگیا دِل
ہوگی شَفَاعت اُس کی جس نے مدینے آکر
بَادَل گھرے ہوئے ہیں بارِش برس رہی ہے
ہِجر و فِراق میں جو یارب! تڑپ رہے ہیں
ہَژدہ ہزار عالَم کا حُسن اِس پہ قرباں
اُس آنکھ پر نہ کیوں کر قربان میری جاں ہو
جِس وقت رُوح تَن سے عطارؔ کی جُدا ہو
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
اے ہوا
اے ہوا
اے ہوا
— Ejaz Rizvi\
میری میت پہ یہ احباب کا ماتم کیا ہے
وائے حسرت دم آخر بھی نہ آکر پوچھا
کچھ بگڑتا تو نہیں موت سے اپنی یارو
ان خیالات میں گم تھا کہ جھنجھوڑا مجھ کو
کون ہوتا ہے مصیبت میں شریک و ہمدم
کیف و مستی میں یہ مدہوش زمانے والے
ان سے اُمید وفا ہائے تری نادانی
وہ جو ہیں ہم سے گریزاں تو بلا سے اپنی
میٹھی باتوں پہ نہ جا اہل جہاں کی اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
بگڑی ہوئی بنتی ہے ہر بات مدینے میں
کچھ اشک درودوں کے،کچھ ہار درودوں کے
آؤ بھی گناہگارو،پہنچو بھی مدینے میں
اے میرا خدا آۓ اک دن تو وہ دن ایسا
عصیاں کی سیاہی کو دھو ڈالے جو دم بھر میں
یہ آس نیازی ہے دولہا کی زیارت ہو
— Abdul Sattar Khan Niazi\
میں کہ ہر صاحب ایمان کے قدموں کی خاک
عمر کی حیدر کرار کی خاکِ کفِ پا
چاند، سورج مرے سلطانؐ کے پاپوش کی گرد
میرا دامانِ عقیدت بھی مدینہ ہے جہاں
آپؐ کی نعت کا حق مجھ سے ادا ہو کیسے
ذرے ذرے میں کئی راز چھُپاۓ ہوۓ ہے
یوں کیا صاحب معراج کی عظمت کو سلام
ذرے ذرے پہ رقم ہے اسی منزل کا پتہ
— Ejaz Raja\
حمد ہے اُس ذات کو جس نے مسلماں کردیا
جلوۂ زیبا نے آئینے کو حیراں کردیا
اے شہِ لولاک تیری آفرنیش کے لیے
کیا کشش تھی سروَرِ عالم کے حسن پاک میں
ہوگئی کافور ُظلمت دِل منور ہوگئے
نعمتِ کونین دے کر ان کے دَستِ پاک میں
یاد فرما کر قَسَم حق نے زمینِ پاک کی
دُور ہی سے سبز گنبد کی جھلک کو دیکھ کر
اُس عرب کے چاند کا جلوہ مجھے دَرکار ہے
سیکڑوں مردہ دلوں کو نورِ ایماں بخش کر
گریہ و زاری نے راتوں کو تیری اَبرِ کرم
یارَسولَ اللہ اَغِثْنِیْ وقت ہے اِمداد کا
تیری نصرت ایسے نازک وقت میں حامی رہے
ہے جمیلؔ قادری پر فضلِ اللہ و رسول
— Jamil Ur Rehman Qadri\
نت نئی ایک الجھن ہے
کیف و مستی میں غرق یہ دنیا
اے خدا تجھ پہ خوب ظاہر ہے
جانِ گلشن نے ہم سے منہ موڑا
اب کہاں وہ چھلکتے پیمانے
ہائے کیا ہوگیا گھڑی بھر میں
دارِ فانی سے کیا غرض اس کو
اب وہ رنگینیاں نہیں یا رب
یاد آتا ہے وقت غم اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\