بے کسوں کو بھلا اور کیا چاہیے
بجھتی آنکھوں میں آجاۓ گی روشنی
آپؐ کے نقشِ پا چومتا چل پڑے
میرے گھر میں اندھیروں نے قبضہ کیا
دل میں آلِ نبیؐ کی محبت بھرو
گرم اشکوں سے جلتی ہیں آنکھیں مری
مٹتی جائیں گی ارشدؔ تری مشکلیں
— Arshad Mehmood Arshad\
بے کسوں کو بھلا اور کیا چاہیے
بجھتی آنکھوں میں آجاۓ گی روشنی
آپؐ کے نقشِ پا چومتا چل پڑے
میرے گھر میں اندھیروں نے قبضہ کیا
دل میں آلِ نبیؐ کی محبت بھرو
گرم اشکوں سے جلتی ہیں آنکھیں مری
مٹتی جائیں گی ارشدؔ تری مشکلیں
— Arshad Mehmood Arshad\
خداوندِ جہاں جب خود ہے پیارا تیری صورت کا
شرف حاصل ہوا سرکار تم سے جس کو بیعت کا
جو خالی ہاتھ آتے ہیں مرادیں لے کے جاتے ہیں
جو ہاتھ اُٹھا ہوا ہے ساری خلقت کا تری جانب
زمیں سے عرش تک گونجے دو عالم پڑ گئی ہلچل
کہیں صحرا میں موج آئی کہیں دَریا میں گرد اُٹھی
بتوں کو پوجنے والے بنے دَم میں خدا والے
خدا کے نام کو پھیلا دیا سارے زمانہ میں
وہ اپنی روشنی سے جگمگا دیتا ہے دنیا کو
تو وہ پیارا خدا کا ہے کہ پیارے تیرے صدقے میں
اسی امید پر ہے زندگی عشاقِ حضرت کی
مرا دل ہے مدینے میں مدینہ میرے دل میں ہے
کرے گر اِستغاثہ آپ کے دَر پر نہ یہ بندہ
تمہارے گیسوئے مشکیں کی کچھ ایسی گھٹا چھائے
یہ بے کھٹکے گنہگاروں کا داخل خلد میں ہونا
گنہگارو چلو دوڑو کہ وقت آیا شفاعت کا
اِشارے سے قمر کے دو کیے سورج کو لوٹایا
تَعَالَی اللہ بحکمِ حق فرشتے چرخ سے آکر
وہ ہے زورِ ید اللہی کہ ہمسر دونوں عالم میں
رہے گا روز اَفزوں آپ کا شہرہ قیامت میں
غزل اِک اَور بھی پڑھ اے جمیلِؔ قادری رضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
ہے میرے سینے میں شوقِ وصال سب سے الگ
ترس رہا ہوں میں دیدار مصطفیٰؐ کے لیے
مجھے بھی اذنِ زیارت مجھے بھی اذنِ بیاں
کہاں یہ نعت کہاں شعر و شاعری اپنی
اسد یہی تو ہے مجھ پر مرے نبیؐ کا کرم
— Asad Awan\
زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لئے
ناسمجھ مرتے ہیں زندگی کے لئے
چاندنی چار دن ہے سبھی کے لئے
انت فیہم کے دامن میں منکر بھی ہیں
عیش کرلو یہاں منکرو چار دن
داغِ عشق نبی لے چلو قبر میں
نقشِ پائے سگان نبی دیکھئے
مسلک اعلیٰ حضرت سلامت رہے
مسلک اعلیٰ حضرت پہ قائم رہو
صلح کلی نبی کا نہیں سنیو!
وہ بلاتے ہیں کوئی یہ آواز دے
اے نسیم صبا ان سے کہہ دے شہا
جن کے دل میں ہے عشقِ نبی کی چمک
جن کے دل میں ہیں جلوے ترے عشق کے
اخترؔ قادری خلد میں چل دیا
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
خدا نے جس کے سر پر تاج رکھا اپنی رحمت کا
وہ ماحی کفر و ظلمت شرک و بدعات و ضلالت کا
مَداوا کیسے فرمائے کوئی بیمارِ فرقت کا
اَثر کیا ہوسکے گا مہرِ محشر کی حرارت کا
کبھی دِیدارِ حق ہوگا کبھی نظارہ حضرت کا
نہ کیوں ہو آشکارا تیرا جلوہ ذَرَّہ ذَرَّہ میں
دَمِ آخر سربالیں خرامِ ناز فرماؤ
دَمِ آخر سرِبالیں یہ فرماتے ہوئے آؤ
ہمیں بھی ساتھ لے لو قافلہ والو ذرا ٹھہرو
مری آنکھیں مَدینے کی زِیارت کو تر ستی ہیں
قسم حق کی وہ دن عیدین سے بڑھ کر میں سمجھوں گا
میں سمجھوں گا مری کشتِ تمنا میں بہار آئی
کلی کھل جائے گی دل کی جگر ہوجائے گا ٹھنڈا
میں سمجھوں گا ہوا جنت میں داخل موت سے پہلے
دِکھا دے فیضِ اُستادِ حسن حضارِ محفل کو
— Jamil Ur Rehman Qadri\
عزیزوں کی طرف سے جب مِرا دل ٹوٹ جاتا ہے
نبی کے نور کا صدقہ خدایا جگمگا دینا
مُسَلسَل موت نزدیک آرہی ہے ،ہائے! بربادی
الٰہی! واسِطہ پیارے کا، میری مَغْفِرت فرما
تِری سُنَّت پہ چلتا ہوں ،تو طعنے لوگ دیتے ہیں
مُبارَک باد دیتے ہو مجھے،تم بھائیو حج کی
مَصَائب میں کبھی حَرفِ شِکایت لَب پہ مت لانا
نئی اُمّید ملتی ہے، دِلِ مایوس کو پھر سے
مُجھے لگتا ہے وہ میٹھا،مُجھے لگتا ہے وہ پیارا
خدا ٹھنڈی کرے گا اُس کی آنکھیں حشر میں عطارؔ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
شجاعت ناز کرتی ہے جلالت ناز کرتی ہے
صداقت ناز کرتی ہے امانت ناز کرتی ہے
شہ خوباں پہ ہر خوبی و خصلت ناز کرتی ہے
جہانِ حسن میں بھی کچھ نرالی شان ہے ان کی
شہنشاہِ شہیداں ہو، انوکھی شان والے ہو
بٹھا کر شانۂ اقدس پہ کردی شان دوبالا
جبین ناز ان کی جلوہ گاہِ حسن ہے کس کی
نگاہِ ناز سے نقشہ بدل دیتے ہیں عالم کا
فدائی ہوں تو کس کا ہوں کوئی دیکھے مری قسمت
خدا کے فضل سے اخترؔ میں ان کا نام لیوا ہوں
باغِ تسلیم و رضا میں گل کھلاتے ہیں حسین
برقِ عالم سوز کا عالم دکھاتے ہیں حسین
مرضیٔ مولیٰ کی خاطر ہر ستم کو سہہ لیا
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
نظر آرہا ہے وہ در اللہ اللہ
لبوں پر درود و سلام آرہا ہے
نظر انؐ کے روضے پہ انکی ہوئی ہے
نظر ڈالیے شہر میں جس طرف بھی
کھلا بابِ رحمت سرِ بابِ رحمت
یہاں اَوج پاتے ہیں واللہ سجدے
سبھی دم بخود ہیں کسی کو بھی راہی
— Aslam Rahi\
حبیبِ خدا عرش پر جانے والے
خدا کو ان آنکھوں سے دیکھ آنے والے
وہ اَقصی میں معراج کی شب پہنچ کر
وہ اُمی ہیں ایسے کہ فضلِ خدا سے
انہیں کی ہے عالم میں نافذ حکومت
اِشارے سے ان کے قمر کے ہوئے دو
انہیں کا لقب ہے شفیع غلاماں
رَہا ان کے ماتھے شفاعت کا سہرا
یہی تو ہیں ہر قسم کی نعمتوں کے
نہ کیونکر غنی دل ہوں ان کے کہ جو ہیں
جو چاہو وہ مانگو جو مانگو وہ پاؤ
تمنا کُجا سلطنت چھوڑتے ہیں
نہ کیوں چمکیں کونین میں بدر ہو کر
پہنچتے ہیں مقصود کو اپنی جلدی
اَجل سر پہ ہے تیز چل سوئے طیبہ
کریں آکے نظارۂ سبز گنبد
ہمارے ہی ہیں مُنتظر حور و غلماں
ہمیں ناز ہے دشتِ طیبہ پہ زاہد
گل خلد سے بدلوں میں خارِ طیبہ
میں مجرم سہی پر نبی کے کرم سے
ہے سایہ فگن سر پہ پرچم نبی کا
منادی کہے گا نہ گھبرائیں مجرم
گنہگار کیا بلکہ ہیں انبیا بھی
جگا دے خدارا مرا بختِ خفتہ
جو عالم کو کرتے ہیں روشن مہ و خور
اِدھر بھی کوئی بوند گیسو کا صدقہ
جو اَچھوں کی قسمت میں ہے جام تیرا
ہے جن کا وظیفہ اَغِثْنِیْ حَبِیْبِی
جو دنیا میں ہیں منکرِ اِستعانت
اَدب دل سے لازم ہے اے اہلِ محفل
جلیں اور توصیفِ سرکار سن کر
سناتا ہے قرآن مُوْتُوْا کا مژدہ
بنے گا تو بیشک جہنم کا کندہ
جو کہتے ہیں ان کو نہ تھا علم بالکل
دُعا ہے کہ اَحباب میں ہو یہ چرچا
وہیں پر رَہوں اور وہیں جان نکلے
— Jamil Ur Rehman Qadri\
عطا کر دو مدینے کی اجا زت یارسولَ اللہ
کچھ ایسا ہو کرم ماہِ رسالت یارسولَ اللہ
صَحابہ کا گدا ہوں اور اہلِ بیت کا خادِم
تمہارا فضل ہے جومیں غلامِ غوث و خواجہ ہوں
اُسی احمد رضا کا واسِطہ جو میرے مرشِد ہیں
مدینہ میٹھا میٹھا ہے مدینہ پیارا پیارا ہے
میں ہوں سُنّی رہوں سُنّی مروں سُنّی مدینے میں
نَمازوں میں مجھے ہرگز نہ ہو سستی کبھی آقا
بڑے بھائی بہن کا میں کہا مانا کروں ہردم
بڑے جتنے بھی ہیں گھر میں ادب کرتا رہوں سب کا
میں سب سے ’’آپ‘‘ کہہ کر پیار سے با تیں کروں آقا
ادب استادِ دینی کا مجھے آقا عطا کردو
کرم کر دو کہ میرا حافِظہ مضبوط ہوجائے
میں گانے باجوں اور فلموں ڈِراموں کے گنہ چھوڑوں
حسد، وعدہ خِلافی، جھوٹ، چُغلی، غیبت و تہمت
مِرے اَخلاق اچھے ہوں مرے سب کام اچھے ہوں
ضَرورت سے زِیادہ مال و دولت کا نہیں طالِب
رہیں سب شاد گھروالے شہا تھوڑی سی روزی پر
سب اَہلِ حشر محشر میں اُنہی کو ڈھونڈتے ہونگے
بَہُت کمزور ہُوں قابِل نہیں ہرگز عذابوں کے
مجھے تم یارسولَ اللہ دے دو جذبۂ تبلیغ
شہا! عطارؔ پر ہر آن رَحمت کی نظر رکھنا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\