ہر طرف شور تھا روشنی روشنی
آُؐ تشریف لاۓ اجالا ہوا
ظلمتیں چھٹ گئیں شرک اور کفر کی
آپؐ نے ہی تو آکر بتایا ہمیں
وجۃ تخلیقِ کون و مکاں آپؐ ہیں
درسِ امن و صداقت دیا آپؐ نے
انجمؔ خستہ جاں کا نصیبا کھلا
— Syed Anwar Hussain Anjum Naqvi\
ہر طرف شور تھا روشنی روشنی
آُؐ تشریف لاۓ اجالا ہوا
ظلمتیں چھٹ گئیں شرک اور کفر کی
آپؐ نے ہی تو آکر بتایا ہمیں
وجۃ تخلیقِ کون و مکاں آپؐ ہیں
درسِ امن و صداقت دیا آپؐ نے
انجمؔ خستہ جاں کا نصیبا کھلا
— Syed Anwar Hussain Anjum Naqvi\
سرہے خَم ہاتھ میرا اُٹھا ہے
فَضل کی رحم کی اِلتِجا ہے
قَلب میں یاد لب پر ثنا ہے
کون دُکھیوں کا تیرے سِوا ہے
قَلب سختی میں حد سے بڑھا ہے
اِلتجائے غمِ مصطَفٰے ہے
حُبِّ دُنیا میں دل پھنس گیا ہے
ہائے شیطاں بھی پیچھے پڑا ہے
آہ! بندہ دُکھوں میں گِھرا ہے
اِلتجائے کرم یاخُدا ہے
تیرا اِنعام ہے یاالٰہی
ہاتھ میں دامنِ مصطَفٰے ہے
عِشق دے سَوز دے چشمِ نَم دے
واسِطہ گُنبدِم سبز کا ہے
ہر گنہ سے بچا مجھ کو مولٰی
تجھ کو رَمضان کا واسِطہ ہے
فضل کر رحم کر تو عطا کر
واسِطہ پنجتن پاک کا ہے
عَفو و رَحمت کا بخشش کا سائِل
میرا سب حال تجھ پر کھلا ہے
ہوں بظاہِر بڑا نیک صورت
ظاہِر اچھا ہے باطِن بُرا ہے
بے سبب اے خدا کردے بخشش
نام غَفّار مولیٰ تِرا ہے
مجھ خطاکار پر بھی عطا کر
مجھ کو دوزخ سے ڈر لگ رہا ہے
نَزع میں ربِّ غفّار تجھ سے
طالبِ جلوۂ مصطَفٰے ہے
قبر میں مجھ کو تنہا لِٹا کر
دل اندھیرے میں گھبرا رہا ہے
مَغفِرت کا ہوں تجھ سے سُوالی
مجھ گنہگار کی اِلتجا ہے
میرے مُرشِد جو غوثُ الوَرا ہیں
یہ تِرا لُطف تیری عطا ہے
نارِ دوزخ سے مجھ کو اَماں دے
کر دے رَحمت مِری اِلتجا ہے
واسِطہ تجھ کو پیارے نبی کا
بخش دے مجھ کو یہ اِلتجا ہے
یاخدا ماہِ رمضاں کے صدقے
نیک بن جاؤں جی چاہتا ہے
دَردِ عِصیاں مِٹا یاالٰہی
تجھ سے بیمار کی اِلتجا ہے
جو ہیں بیمار صحّت کے طالِب
تجھ سے رحم و کرم کی دُعا ہے
میں نے مانا کہ سب سے بُرا ہوں
ناز رحمت پہ مجھ کو بڑا ہے
عیب دُنیا میں تو نے چھپائے
آہ! نامہ مِرا کھل رہا ہے
عمر بدیوں میں ساری گزاری
بخش محبوب کا واسِطہ ہے
وِردِ لب کلمۂ طَیِّبَہ ہو
آگیا ہائے! وقتِ قضا ہے
یاخدا ایسے اَسباب پاؤں
مجھ کو اَرمان حج کا بڑا ہے
آہ! رنج و اَلَم نے ہے مارا
ایک غمگین دل کی صدا ہے
میری جان آفتوں سے چھڑانا
تجھ کو صِدّیق کا واسِطہ ہے
تو عَطا حِلم کی بھیک کر دے
تجھ کو فاروق کا واسِطہ ہے
گو یہ بندہ نکمّا ہے بیکار
کام وہ جس میں تیری رِضا ہے
تیرے پیارے کی دُکھیاری اُمّت
رحم کر بس تِرا آسرا ہے
ہر طرف سے بلاؤں نے گھیرا
تُوہی اب میرا حاجت رَوا ہے
اُس کی جھولی مُرادوں سے بھردے
جس نے مجھ سے دُعا کا کہا ہے
عِشقِ احمد میں آنسو بہاؤں
ایسی توفیق دے اِلتجا ہے
میری دشمن سے فرما حِفاظت
دَست بستہ مِری اِلتجا ہے
مِہرباں تُو ہی، تُو ہی مددگار
جس کو دُنیا نے ٹھکرا دیا ہے
سخت گوئی کی مٹ جائے خَصلَت
واسِطہ خُلقِ محبوب کا ہے
سُنّتوں کی کروں خوب خدمت
نیک میں بھی بنوں اِلتجا ہے
قافِلوں میں سفر کی ہو کثرت
عاجِزانہ الٰہی دُعا ہے
میری بَک بَک کی عادت مِٹادے
صدقہ عثماں کا جو باحیا ہے
یاالٰہی کر ایسی عنایت
تجھ سے عطارؔ کی اِلتجا ہے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
یہ کس شہنشہِ والا کی آمَد آمَد ہے
یہ آج تارے زمیں کی طرف ہیں کیوں مائل
یہ آج کیا ہے زمانے نے رنگ بدلا ہے
یہ آج کاہے کی شادی ہے عرش کیوں جھوما
سماوا ڈوبا ہوا اور ساوا خشک ہوا
یہ آج کیا ہے کہ بت اَوندھے ہوگئے سارے
یہ اَنبیا و رُسل کس کے انتظار میں ہیں
یہ آج بُشریٰ لَکُمْ کی صدا کا شور ہے کیوں
کہا جواب میں ہاتف نے لو مبارک ہو
وہ آئے آنے کی جن کے خبر تھی مدت سے
بڑھو اَدَب سے کرو عرض اَلسَّلَامُ عَلَیْک
سلام تم پہ خدا کا اور اس کی رحمت ہو
دُرُود آپ پہ ہر آن بھیجے ربِ وَدُوْد
سلام آپ پر نازل کرے صلاۃ و سلام
یہی ہیں جن کو ملائک سلام کرتے ہیں
— Mustafa Raza Khan Noori\
تم سے جو گریزاں ہے فرزانہ وہ دیوانہ
آجا دلِ ویراں میں تیرا ہو یہ کاشانہ
آنکھوں سے پِلا وہ مے سرمست رہوں جس سے
وہ ابرِ بہار آیا ہر شے پہ نکھار آیا
کیا رات کے پردے سے چپکے سے سحر نکلی
بدکار صحیح لیکن بندہ ہوں تیرے در کا
یوں تھام کے دامن کو مچلا ہے سرِ محشر
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
سرور سے دل لہک رہا ہے درود سے روح کِھل اٹھی ہے
ہوا اسی کی مکاں مکاں ہےصدا اسی کی گلی گلی ہے
کہاں علم کوئی دھر سکے گا کہاں کوئی مدح کرسکے گا
مآل رسوا کسے دکھاؤں سکوں کے لمحے کہاں سے لاؤں
ہوس کی وادی گماں کا صحرا کہاں کہاں سرگرداں رہے ہو
درود کی لَے سے لَے ملا کر اک آدمی مدح کر رہا ہے
— Syed Tabish Alwari\
دل کی کَلیاں کِھلیں قافِلے میں چلو
فضل کی بارِشیں ، رَحمتیں نعمتیں
کافِروں کو چلیں، مشرکوں کو چلیں
آیئے عالمو! دیں کی تبلیغ کو
آؤ اے عاشِقِیں، مل کے تبلیغِ دیں
کافر آجائیں گے، راہِ حق پائیں گے
کُفر کا سر جُھکے، دیں کا ڈنکا بجے
چشمِ بِینا ملے سُکھ سے جینا ملے
دل کی کالک دُھلے، دردِ عِصیاں ٹلے
خوب خود داریاں، اور خوش اَخلاقیاں
عاشِقانِ رسول ان سے لے لو جو پھول
قَحط سالی ٹلے،فَصل پھولے پھلے
قافِلے میں ذرا، مانگو آکر دعا
چھوڑیں مے نَوشیاں مت بکیں گالیاں
اے شرابی تُو آ، آ جُواری تُو آ
ہوگا لُطفِ خدا، آؤ بھائی دُعا
دور بیماریاں اور پریشانیاں
اَلسَر اور کینسر اب یا ہو دردِ کمر
درد گرچِہ تمہارے مَثانے میں ہے
فائدہ آخِرت کے بنانے میں ہے
کہتے عطّارؔ ہیں، جو مرے یار ہیں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
زباں کو لذتِ اظہار کا مزہ آۓ
جو معترض ہے کوئی آپؐ کی صداقت کا
حضور! آپؐ کے قدموں کی خاک ہے دنیا
رہینِ دستِ کرم آپؐ کا، ہر اک ذرہ
خدا کرے کہ یہ کرب آخرت کی راحت ہو
ریاضؔ قُدس کو میں آںکھ میں بسا لاؤں
— Syed Riaz Hussain Zaidi\
کون کہتا ہے آنکھیں چرا کر چلے
کون اُن سے نگاہیں لڑا کر چلے
وہ حسیں کیا جو فتنے اُٹھا کر چلے
ان کے کوچہ میں منگتا صدا کر چلے
قصۂ غم سنایا سنا کر چلے
رب کے بندوں کو رب سے ملا کر چلے
مَنْ رَّاٰنِیْ رَاَ الْحَقّ سنا کر چلے
جز بشر اور کیا دیکھیں خیرہ نظر
جگمگا ڈالیں گلیاں جدھر آئے وہ
کیسا تاریک دنیا کو چمکا دیا
کوئی مانے نہ مانے یہ وہ جان لے
کوڑیوں کوڑھیوں کے لیے کوڑھ دُور
یادِ دامن سے ُمرجھائی کلیاں کھلیں
شب کو شبنم کی مانند رویا کیے
بد سے بد کو لیا جس نے آغوش میں
جو کمینے تھے ان کو معزز کیا
سب کو اسلام کا تم نے بخشا شرف
اِین و آں اور چنیں و چناں سروَرا
جس کا ثانی ہوا اور نہ ہے اور نہ ہو
عمر بھر اَعدا ان کو ستایا کیے
سخت اَعدا کو بھی عفو فرما دیا
جسمِ پُرنور کا یوں تو سایا نہ تھا
مرتے دم سر درِ پاک پر رکھ دیا
جب قمر اِک اِشارے سے ٹکڑے کیا
معجزوں کو وہ جادو بتاتے رہے
جن کے دعوے تھے ہم ہی ہیں اَہلِ زباں
کَئے صحابی تھے پر تھی یہ ہیبتِ حق
اور گردن َکشی کی تو مارے گئے
جن کو اپنا نہیں غم ہمارے لیے
ابھی میزان پر تھے ابھی پل پہ ہیں
سرِ کوثر سنا شور پیاسوں کا جب
کسی جانب سے آئیں ندائیں حضور
دَم میں پہنچے وہ حکمِ رِہائی دیا
داغِ دِل ہم نے نوریؔ دِکھا ہی دیا
— Mustafa Raza Khan Noori\
یہ خانۃ نبیؐ ہے، یہاں زر نہ مال ہے
بزم نبیؐ میں پاتے ہیں یکساں سب التفات
آئی نہیں زباں پہ کبھی کوئی تلخ بات
خود اپنی راۓ سے بھی دیا اذنِ اختلاف
تکلیف دینے والوں کو بھی بد دعا نہ دی
سیرت سے اُنؐ کی صرف جہل ہے نعیمؔ
— Syed Zia Ud Deen Naeem\
دل سے مِرے دنیا کی محبت نہیں جاتی
دن رات مسلسل ہے گناہوں کا تَسَلسُل
کھا نے کی زِیادَت ہے تو سونے کی بھی کثرت
گو پیشِ نظر قبر کا پُرھول گڑھا ہے
اے رَحمتِ کونین! کمینے پہ کرم ہو
جی چاہتا ہے پھوٹ کے روؤں تِرے غم میں
کیا ہو گیا سرکار! خیالوں کو ہمارے
گو لاکھ بُرا ہی سہی مایوس نہیں ہوں
عادت مجھے معلوم ہے آقا کی کسی کا
اللہُ غنی! شانِ ولی! راج دلوں پر
کچھ ایسی کشِش تجھ میں ہے اے شَہرِ مدینہ!
نَیرنگیِ دنیاکے تماشوں کی خبر ہے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\