پروردگار ذکرِ محمدؐ نصیب کر
مینارِ مصطفیٰؐ کی تجلی کا واسطہ
پھوٹے جہاں سے امن و محبت کے زمزمے
ضوبار ہوں جہاں میں محبت کے قمقمے
دربارِ مصطفیٰؐ میں ہے اتنی سی التجا
پیشانیِ حضورِ جہاں سجدہ ریز تھی
اتنی ہے تیز دھوپ جھلسنے لگا بدن
— Sheda Chishti\
پروردگار ذکرِ محمدؐ نصیب کر
مینارِ مصطفیٰؐ کی تجلی کا واسطہ
پھوٹے جہاں سے امن و محبت کے زمزمے
ضوبار ہوں جہاں میں محبت کے قمقمے
دربارِ مصطفیٰؐ میں ہے اتنی سی التجا
پیشانیِ حضورِ جہاں سجدہ ریز تھی
اتنی ہے تیز دھوپ جھلسنے لگا بدن
— Sheda Chishti\
وہ نورِ آسمانی جب کیا اس نے زمینی
انھی سے سلسلہ قائم ہوا جود و سخا کا
منور ہیں انھی کے حسن سے سارے زمانے
مُعطَر ہوگئی اُن سے فضاۓ زندگانی
خوشا وہ بخت جو چمکے سراجِ آگہی سے
مگر شرمندگی سے آنکھ اٹھتی ہی نہیں ہے
عطا ہو اک نظر یا جس قدر بھی آپؐ چاہیں
— Dr Zia Ul Hassan\
درِ جاناں پہ فدائی کو اجل آئی ہو
نیک ساعت سے اجل عیش ابد لائی ہو
سنگ در پر ترے یوں ناصیہ فرسائی ہو
خود بخود خلد وہاں کھنچ کے چلی آئی ہو
موسم مے ہو وہ گیسو کی گھٹا چھائی ہو
چاندنی رات میں پھر مے کا وہ اک دور چلے
ان کے دیوانے کھلی بات کہاں کرتے ہیں
مہر خاور پہ جمائے نہیں جمتی نظریں
دشت طیبہ میں چلوں چل کے گروں گرکے چلوں
گل ہو جب اخترؔ خستہ کا چراغِ ہستی
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
اگر چمکا مقدر خاک پائے رہرواں ہو کر
شب معراج وہ دم بھر میں پلٹے لا مکاں ہو کر
چمن کی سیر سے جلتا ہے جی طیبہ کی فرقت میں
تصور اس لب جاں بخش کا کس شان سے آیا
کریں تعظیم میری سنگِ اَسود کی طرح مومن
دکھا دے اے خدا گلزارِ طیبہ کا سماں مجھ کو
ہوئے یمن قدم سے فرش و عرش و لامکاں زندہ
ترے دست عطا نے دولتیں دیں دل کئے ٹھنڈے
فدا ہو جائے امت اس حمایت اس محبت پر
جو رکھتے ہیں سلاطیں شاہی جاوید کی خواہش
وہ جس رہ سے گزرتے ہیں بسی رہتی ہے مدت تک
حسنؔ کیوں پاؤں توڑے بیٹھے ہو طیبہ کا رستہ لو
— Hassan Raza Khan Barelvi\
یہ ہے دیارِ پیمبر یہیں ٹھہر جائیں
وراۓ حدِ گماں ہے تجلیوں کا سماں
بلا کی دھوپ ہے دنیا کے ریگ زاروں میں
عجب کشش ہے تری نور خیز گلیوں میں
مسافرانِ رہِ عشق یہ مدینہ ہے
ضریحِ پاک سے طالبؔ صدا یہ آتی ہے
— Talib Ansari\
اپنے در پہ جو بلاؤ تو بہت اچھا ہو
قید شیطاں سے چھڑاؤ تو بہت اچھا ہو
گردشِ دور نے پامال کیا مجھ کو حضور
یوں تو کہلاتا ہوں بندہ میں تمہارا لیکن
غم پیہم سے یہ بستی مری ویران ہوئی
کیف اس بادۂ گلنار سے ملتا ہی نہیں
تم تو مردوں کو جلا دیتے ہو میرے آقا
جس نے شرمندہ کیا مہر و مہ و انجم کو
رو چکا یوں تو میں اوروں کے لئے خوب مگر
یوں نہ اخترؔ کو پھراؤ مرے مولیٰ در در
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا
جو اے گل جامۂ ہستی تری پوشاک ہو جاتا
جو وہ اَبر کرم پھر آبروئے خاک ہو جاتا
ہوائے دامنِ رنگیں جو ویرانہ میں آ جاتی
لب جاں بخش کی قربت حیاتِ جاوِداں دیتی
ہوا دل سوختوں کو چاہیے تھی اُن کے دامن کی
اگر دو بوند پانی چشمۂ رحمت سے مل جاتا
اگر پیوند ملبوسِ پیمبر کے نظر آتے
جو وہ گل سونگھ لیتا پھول مرجھایا ہوا بلبل
چمک جاتا مقدر جب دُرِ دَنداں کی طلعت سے
عدو کی آنکھ بھی محشر میں حسرت سے نہ منھ تکتی
بہارِ تازہ رہتیں کیوں خزاں میں دَھجیاں اُڑتیں
کماندارِ نبوت قادر اندازی میں یکتا ہیں
نہ ہوتی شاق اگر دَر کی جدائی تیرے ذَرَّہ کو
تری رحمت کے قبضہ میں ہے پیارے قلب ماہیت
خدا تارِ رَگِ جاں کی اگر عزت بڑھا دیتا
تجلی گاہِ جاناں تک اُجالے سے پہنچ جاتے
اگر تیری بھرن اے اَبر رحمت کچھ کرم کرتی
حسنؔ اہل نظر عزت سے آنکھوں میں جگہ دیتے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
اذنِ معراج مل گیا ہے اسے
خیمہ زن ہو دل و دماغ میں جو
روشنائی قلم سے پھوٹ پڑی
قبل از کائنات خالق نے
پورے اک عالمِ وفور کے ساتھ
— Tahir Sherazi\
اہلِ صِراط رُوحِ امیں کو خبر کریں
اِن فتنہ ہائے حشر سے کہدو حَذَرْ کریں
بد ہیں تو آپ کے ہیں بھلے ہیں تو آپ کے
سرکار ہم کمینوں کے اطوار پر نہ جائیں
ان کی حرم کے خار کشیدہ ہیں کس لئے
جالوں پہ جال پڑ گئے لِلّٰہ وقت ہے
منزل کڑی ہے شان تبسّم کرم کرے
کلکِ رضا ؔ ہے خنجرِ خونخوار برق بار
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
لب جاں بخش کا اے جاں مجھے صدقہ دیدو
غم ہستی کا مداوا مرے مولیٰ دے دو
غرق ہوتی ہوئی ناؤ کو سہارا دے دو
ہم گنہگار سہی حضرتِ رضواں لیکن
تپش مہر قیامت کو سہیں ہم کیسے
بھول جائے جسے پی کر غم دوراں اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\