روشنی خواب ہے تعبیر ترے دم سے ہے
تیرا کردار ہے انسان کی عظمت کا امیں
یہ جہاں ایک خرابے کے سوا کچھ بھی نہیں
ہر گھڑی تیرے تصور سے منزہ سوچیں
مجھ پہ کھلتا نہ کبھی بابِ فسونِ معنی
— Shafiq Ahmed Khan\
روشنی خواب ہے تعبیر ترے دم سے ہے
تیرا کردار ہے انسان کی عظمت کا امیں
یہ جہاں ایک خرابے کے سوا کچھ بھی نہیں
ہر گھڑی تیرے تصور سے منزہ سوچیں
مجھ پہ کھلتا نہ کبھی بابِ فسونِ معنی
— Shafiq Ahmed Khan\
جب کبھی ہم نے غم جاناں کو بھلایا ہوگا
دامن دل جو سوئے یار کھنچا جاتا ہے
آنکھ اٹھا کر تو ذرا دیکھ مرے دل کی طرف
گردشِ دور ہمیں چھیڑ نہ اتنا ورنہ
ڈوب جائے نہ کہیں غم میں ہمارے عالم
سوچئے کتنا حسیں ہوگا وہ لحظہ اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت
خواب میں دیکھوں اگر دافِعِ غم کی صورت
آبلے پاؤں میں پڑ جائیں جو چلتے چلتے
تم اگر چاہو تو اِک چین و جبیں سے اپنی
نامِ والا ترا اے کاش مثالِ مجنوں
تیرا دِیدار کرے رحم مجسم تیرا
آپ ہیں شانِ کرم کانِ کرم جانِ کرم
اِک اِشارہ ترے اَبرو کا شہِ ہردوسرا
آپ کا مثل شہا کیسے نظر میں آئے
موم ہے ان کے قدم کے لیے دل پتھر کا
خواب میں بھی نہ نظر آئے اگر تم چاہو
اے سحابِ کرم اِک بوند کرم کی پڑجائے
جب سے سوکھے ہیں مرے کشت اَمل باغِ عمل
صفحۂ دِل پہ مرے نامِ نبی کندہ ہو
تیری تصویر کھنچے رُوحِ منوّر کیوں کر
آئیں جو خواب میں وہ ہو شبِ غم عید کا دن
جائیں گلشن سے تو لٹ جائے بہارِ گلشن
بھیڑ کو خوف نہ ہو شیر سے جو تم چاہو
کوہ ہوجائیں اگر چاہو تو سونا چاندی
صورتِ پاک وہ بے مثل ہے پائی تم نے
دَم نکل جائے مرا راہ میں ان کی نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
وہ بڑھتا سایۂ رحمت چلا زلف معنبر کا
جو بے پردہ نظر آجائے جلوہ روئے انور کا
شہِ کوثر ترحم تشنۂ دیدار جاتا ہے
ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر
ہماری سمت وہ مہر مدینہ مہرباں آیا
چمک سکتا ہے تو چمکے مقابل ان کی طلعت کے
رواں ہوسلسبیل عشق سرور میرے سینے میں
ترا ذرہ وہ ہے جس نے کھلائے ان گنت تارے
بتانا تھا کہ نیچر ان کے زیر پا مسخر ہے
وہ ظاہر کے بھی حاکم ہیں وہ باطن کے بھی سلطاں ہیں
یہ سن لیں سایۂ جسم پیمبر ڈھونڈنے والے
وہ ظل ذاتِ رحماں ہیں نبوت کے مہِ تاباں
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
ہنر کے چاند ہسِ آفتاب روشن ہیں
بتارہے ہیں مہ و مہر و کہکشاں و نجوم
حرا کے غار سے پھوٹی جو روشنی کی کرن
یہ کس کی چشمِ کرم کی ہے وسعتیں جس میں
وہ ایک نور کہ جس کی تجلیوں سے شکیلؔ
— Shakeel Akhtar\
حسرت بھرے دلوں سے ہم آئے ہیں لوٹ کر
اچّھا لگے گا اب ہمیں کیسے وطن میں گھر
ہم کو تو اِس لئے ہے مدینہ عزیز تر
ایساسُکون جا کے میں ڈھونڈوں گا اب کدھر!
وہ سبز گنبد اور وہ مینار چُھٹ گئے
میٹھا مدینہ ہائے! نگاہوں سے چھپ گیا
دل خون اُگل رہا تھا مرا ہجرِ شاہ میں
اشکوں کی لگ گئی تھی جھڑی میری آنکھ سے
کُوچے میں شاہِ کون و مکاں کے سُکون تھا
بہتر ہے موت فُرقتِ طیبہ سے بالیقیں
روتا رہوں تڑپتا رہوں چین ہی نہ آئے
سوزو گداز اِس کی فَضاؤں میں چار سو
مجھ کو بقیعِ پاک میں دوگز زمین دو
دنیا کے رنج مَیٹ کے غم اپنا دے اِسے
عطارؔ کر رہا ہے یہ رو رو کے التجا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
آہ پورا مرے دِل کا کبھی اَرماں ہوگا
میرے دل پر جو کبھی جلوئہ جاناں ہوگا
جلوئہ مصحفِ رُخ دِل میں جو پنہاں ہوگا
چوندھ جائے گی تری آنکھ بھی مہر محشر
دیکھ مت دیکھ مجھے گرم نظر سے خاوَر
حسن وہ پایا ہے خورشیدِ رسالت تونے
جلوۂ حسن جہاں تاب کا کیا حال کہوں
کون پوچھے گا بھلا روزِ جزا وہ بھی مجھے
چاکِ تقدیر کو کیا سوزَنِ تدبیر سئے
مجھ کو دعویٰ نہیں عصمت کا مگر بے موقع
دلِ دشمن کے لیے تیغِ دو پیکر ہے سخن
عمر ساری تو کٹی لہو میں اپنی نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
پروردگار ذکرِ محمدؐ نصیب کر
مینارِ مصطفیٰؐ کی تجلی کا واسطہ
پھوٹے جہاں سے امن و محبت کے زمزمے
ضوبار ہوں جہاں میں محبت کے قمقمے
دربارِ مصطفیٰؐ میں ہے اتنی سی التجا
پیشانیِ حضورِ جہاں سجدہ ریز تھی
اتنی ہے تیز دھوپ جھلسنے لگا بدن
— Sheda Chishti\
وہ نورِ آسمانی جب کیا اس نے زمینی
انھی سے سلسلہ قائم ہوا جود و سخا کا
منور ہیں انھی کے حسن سے سارے زمانے
مُعطَر ہوگئی اُن سے فضاۓ زندگانی
خوشا وہ بخت جو چمکے سراجِ آگہی سے
مگر شرمندگی سے آنکھ اٹھتی ہی نہیں ہے
عطا ہو اک نظر یا جس قدر بھی آپؐ چاہیں
— Dr Zia Ul Hassan\
درِ جاناں پہ فدائی کو اجل آئی ہو
نیک ساعت سے اجل عیش ابد لائی ہو
سنگ در پر ترے یوں ناصیہ فرسائی ہو
خود بخود خلد وہاں کھنچ کے چلی آئی ہو
موسم مے ہو وہ گیسو کی گھٹا چھائی ہو
چاندنی رات میں پھر مے کا وہ اک دور چلے
ان کے دیوانے کھلی بات کہاں کرتے ہیں
مہر خاور پہ جمائے نہیں جمتی نظریں
دشت طیبہ میں چلوں چل کے گروں گرکے چلوں
گل ہو جب اخترؔ خستہ کا چراغِ ہستی
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\