تیرے ورگی نہ تھاں کوئی پاواں
تیرے کیوں نہ قصیدے میں گاواں
ربّ دے حبیب داگھر تیرے اُتے
ہوون سارے دور رہنیرے
عشق تیرے دا بدل وَریا
نوری تیرے چار چوفیرے
ہووے ریاضؔ دی حسرت پوری
— Unknown
تیرے ورگی نہ تھاں کوئی پاواں
تیرے کیوں نہ قصیدے میں گاواں
ربّ دے حبیب داگھر تیرے اُتے
ہوون سارے دور رہنیرے
عشق تیرے دا بدل وَریا
نوری تیرے چار چوفیرے
ہووے ریاضؔ دی حسرت پوری
— Unknown
میں کہ بے وقعت و بے مایا ہوں
آج ہوں میں ترا دہلیز نشیں
کائناتوں پہ میں تیرےدم سے
چند پل یوں تری قربت میں کٹے
تیرا پیکرہےکہ اک ہالۃ نور
کتنی پیاری ہے ترےشہرکی دھوپ
یہ کہیں خامی ایماں ہی نہ ہو
— Ahmed Nadeem Qasmi\
تری طاعت کی دنیا میں رہوں کچھ
گزاری اب تک آزادہروی میں
اطاعت کی فضاۓ خیر زا میں
بنے جو ورد خلقت کی زباں کا
اطاعت خُو، بھلے لوگوں کی صورت
عمل نامے میں رنگ آجائیں یا رب!
جسے آقا پذیرائیں الہی
کروں تسبیح تیری خلوتوں میں
ریاضؔ اچھا لگے رحمٰن کو جو
— Riaz Majeed\
مجھ پر بھی کرم ہو کبھی سرکار مدینہ
مجرم کو جہاں بھیک ملے لطف و عطا کی
بکتے ہیں کروڑوں دل عُشاق یہاں پر
جو کچھ بھی کوئی آ کے یہاں مانگے،ملےگا
دیکھو نہ حقارت سے مجھے دیکھنے والو
قدسی بھی زیارت کو ہیں بیتاب ظہوری
— Muhammad Ali Zahoori\
کبھی سن لے ہماری یہ دعائیں یارسول اللہ ﷺ
جو روح مسرور کر دیں اور سینے کو کریں روشن
نزع کے وقت جس لمحہ یہ آنکھیں بند ہو جائیں
تمہارے ڈنکے بجتے ہیں تمہارے ڈنکے بجتے ہیں
ہے جس رنگت میں رنگے ہیں بلال حبشی اور جامی
تمہارے سب غلاموں کی تمنا ہے! قبر اندر
نکیرین جب قبر اندر اے ثاقبؔ ہم سے پوچھیں گے
— Unknown
چلۓ مدینے سارے چھڈ گھر بار دیۓ
چنگا جے نصیب ہووے چنگی راہنمائی ہووے
گلیاں مدینے دیاں پھریۓ فقیراں وانگوں
ہووے جے ظہوریؔ فضل رَبُّ العٰلَمین دا
— Muhammad Ali Zahoori\
حرص سے مکر سے ریا سے بچ
عاجزی اختیار کر، چپ رہ
کسی معصوم کا دکھا نہ تُو دل
کریں گے تجھ پہ بار بار وہ وار
ایکہے ایک ہے ریاضؔ وہ ایک
— Riaz Majeed\
مرحبا سرور کونین مدینے والے
نام ہونٹوں پہ ترا آیا تو محسوس ہوا
یاد کرکے ترے دربارکےنظاروں کو
دیکھ لیتا ہوں مدینے کامسافر جو کہیں
ایک مدت سےہوں بیتاب زیارت آقا
میں کہاں میری حقیقت ہی ظہوری کیا ہے
— Muhammad Ali Zahoori\
سب لب پر درود سجاؤ سرکار ہیں آنے والے
معراج کی شب کو فلک پر اعلان کیا جبریل نے
یہ آمنہ کہہ کے بلایا اے سعدیہ دائی حلیمہ
کہتی تھیں نجار کی بچیاں سب نغمے نبی کے پڑھ کر
معراج کو عرش عُلیٰ پر اعلان کیا تھا خدا نے
مجھے دیکھ کے قبر کے اندریہ نکیروں نے فرمایا
— Unknown
کر ذکر مدینے والے ﷺ دا تیرا اُجڑیا دل آباد ہووے
لگیاں نوں توڑ نبھاؤندا رہویں جیویں مَن داای یار مناؤندا رہو
وچ فرقت نہ تڑپا سانوں کدی اپنے کول بُلا سانوں
دن لنگھ جاۓ اوہدیاں یاداں وچ پئ رات لنگھے فریاداں وچ
جدوں ٹریۓ یار مدینے نوں سوہنے دے شہر نگینے نوں
اوہ سدا نیازیؔ عید کرے سوہنے دی جیہڑا دید کرے
— Abdul Sattar Khan Niazi\