یہ گنبد خضریٰ ہےاسے جاں میں سمو لے
طیبہ کی گھٹا ٹوٹ کے برسے میرے مولا
وارفتگی شوق کی اک اپنی ادا ہے
شائد تیری قسمت میں حضوری کی گھڑی ہو
سب کچھ ہے اسی کا یہ ہوائیں یہ فضائیں
یہ اشک ندامت بھی بڑی چیز ہیں احسن
— Unknown
یہ گنبد خضریٰ ہےاسے جاں میں سمو لے
طیبہ کی گھٹا ٹوٹ کے برسے میرے مولا
وارفتگی شوق کی اک اپنی ادا ہے
شائد تیری قسمت میں حضوری کی گھڑی ہو
سب کچھ ہے اسی کا یہ ہوائیں یہ فضائیں
یہ اشک ندامت بھی بڑی چیز ہیں احسن
— Unknown
دل کی دھڑکن میں ہے مقام ترا
اور کھلتا ہے در محبت کا
وہ زمیں ہو گئی فلک رفعت
بادشاہ ہو گۓ غلام اس کے
ہے لقب تیرا رحمتِ عالمؐ
ہو تری یاد زیست کا حاصل
آنسوؤں کی زباں سے لیتے ہیں
جس سے ملتا ہے روح کو آرام
آخرت میں جو کام آۓ گا
آنسوؤں سے کہے فسانہء جاں
محوِ حیرت ہیں اہلِ فن حافظؔ
— Hafiz Ludhianvi\
اے احمدِ مرسل نورِ خدا تیری ذاتِ صفا کا کیا کہنا
چہرے پہ ہیں قرباں شمس وقمرزلفوں پہ تصدق شام وسحر
والعصر ہے تیرے زماں کی قسم ولعمرک ہے تیری جاں کی قسم
کھایا نہ کبھی بھی جی بھر کر خود بھوکے رہے باندھے پتھر
سائل جو کبھی در پر آیا خالی نہ کبھی اُس کو پھیرا
بد بخت جو تھے وہ نیک ہوۓ لڑتےتھے ہمیشہ جو ایک ہوۓ
صابرؔ سے کہاں ہو مدح تیری تیرے خلق میں ہے قرآن سبھی
— Unknown
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
جلوے ہیں سارے تیرے ہی دم سے
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
تیرے لیے ہی دنیا بنی ہے
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
— Unknown
ہروقت تصورمیں مدینےکی گلی ہے
وہ شمع حرم جس سےمنورہےمینہ
اس شہرمیں بک جاتےہیں خودآ کےخریدار
نظروں کوجھکاۓ ہوۓ خاموش گزرجا
اقبال میں کس منہ سےکروں مدح محمدﷺ
— Iqbal Azeem\
مولاۓ کائنات کی بے کس نوازیاں
تاثیرِ التفاتِ رسولؐ انام دیکھ
میدانِ بدر ہو کہ مصافِ حنین ہو
افکار مصطفیٰؐ سے فروغ حیات ہے
جنت کو انتظار ورود رسولؐ ہے
طائف کے سبزہ زار سے آنکھوں کو دے سکوں
درگاہ میں قبول ثنا سے ہے یہ مراد
— Hafiz Afzal Faqeer\
روۓ بدرالدجیٰ دیکھتے رہ گۓ
حسنِ خیر الوریٰ میں خدا کی قسم
ہم گنہگار پہنچے درِ پاک پر
در پہ بلوا کے داتا نے جھولی بھری
کوۓ طیبہ میں حیرت سے اہلِ سخا
وہ ہوا لطف پیہم کہ صلِ علیٰ
چاند دو ٹکڑےہو کر تصدق ہوا
جالیوں کے قریں بیٹھ کر وجد میں
رک کے سدرہ کی منزل پہ روح الامیں
جو سکندر ہوا اُن کے دربار سے
— Unknown
میٹھا میٹھا ہے میرے محمدﷺ کا نام
وقت لاۓ خدا جائیں دربار پر
وہی حسنی حسینی چمن کے ہیں پھول
لامکاں کے بنے ہیں وہی تو مکیں
— Unknown
ہر سمت ہے ظلمت مری سرکار کرم ہو
کب تک بھلا سہتےرہیں باطل کے مظالم
اس درجہ نہ دیکھی تھی کبھی اے مرے آقا
سرکار! غلاموں کو توجینے نہیں دیتا
اب کسی طرح بھی دیکھی نہیں جاتی
کیوں میری نواؤں سےاثر ہوگیا زائل
— Sarwar\
آؤ کہ ذکرِ حسنِ شہِ بحر و بر کریں
جو حسن میرے پیش نظر ہے اگر اسے
وہ چاہیں توصدف کو در بے بہا ملے
فرمائیں تو طلوع ہو مغرب سے آفتاب
شعروادب بھی آہ و فغاں بھی ہے ان کا فیض
اب کے جو قصدِ طیبہ کریں رہبرانِ شوق
— Hafiz Mazhar Ul Deen\