میں سب سے برا ہوں، نگاہِ کرم ہو
میں سب سے برا ہوں، نگاہِ کرم ہو
— Unknown
میں سب سے برا ہوں، نگاہِ کرم ہو
میں سب سے برا ہوں، نگاہِ کرم ہو
— Unknown
دل جھوم اُٹھااورچلنےلگی رحمت کی ہوا،سبحان اللہ
نادرا کی بخشش کا ساماں،ہرغم کی دوا،دکھ کادرماں
اپنوں کے لۓبھی رحمت کُل غیروں کےلۓہادئ سُبل
جب کثرتِ غم سےگھبرا کر ہم سوۓمدینہ تکتےہیں
ہم ایسے نکموں پر ان کی ہے کتنی عنایت روزافزوں
یہ اوج و شرف افلاک ہدف حیران ہیں سب اسلاف و خلف
سرکار کے درپر اے خالد تکراردعاکا ذکر ہی کیا
— Khalid Mehmood Khalid\
کتنی گستاخ ہے نگاہِ خیال
دیکھیے میری عجزِ طبعہ کا حال
میں اور اندازہِ مقامِ حضورﷺ
جو بھی زرہ اڑا ستارہ بنا
انکی رحمت کو کیوں کرے ناراض
ہم اکٹھے رہے جہاں بھی رہے
لذتِ آرزو بھی کیا شہ ہے
اعظم اس در کو چومنے کی ہوس
— Unknown
دلوں کےگلشن مہک رہےہیں یہ کیف کیوں آج آرہےہیں
نوازشوں پہ نوازشیں ہیں عنایتوں پہ عنایتیں ہیں
کہیں پہ رونقیں ہےمے کشوں کی کہیں پہ محفل ہےدل جلوں کی
نہ پاس پی ہوتو سُوناساون وہ جس سے راضی وہی سہاگن
کہاں کامنصب کہاں کی دولت قسم خدا کی یہ ہے حقیقت
حبیب داور،غریب پرور،رسولِ اکرم،کرم کے پیکر
میں اپنےخیرالوریٰ کےصدقےمیں ان کی شان عطا کے صدقے
گداکی اوقات ہے ہی کتنی حقیقتاً ہے یہ بات اتنی
جہاں پہ میں اب کھڑا ہوا ہوں یہ ذکرِ سرورکی برکتیں ہیں
بنے گا جانے کا پھر بہانہ کہے گا ا کرکوئی دیوانہ!
— Abdul Sattar Khan Niazi\
جدوں وی جاویں ہوا مدینے
اے آنڑا جانڑا ہے تیرا رہنڑا
کریں طواف توں کعبے جا کے
پھلاں تے عطراں دی خوشبو لے کے
— Unknown
دنیا کی آرزوہےنہ نمود کی طلب ہے
مجھے خواہشوں نے گھیرامجھےلذتوں نےمارا
مرا خوف گنہگاری، مرا چین آہ و زاری
مراغم تری رضا ہے، یہی غم مری خوشی ہے
جاں سے گزر کے ہوگی تری دید تک رسائی
کچھ اہل دید ہیں جو دیدار کر رہے ہیں
ہوں حشر کا مسافر اور زادِ رہ نہیں ہے
درِ مصطفیٰ پہ جا کر میں نے عزیز دیکھا
— Sheikh Abdul Aziz Dabbagh\
رحمت کا سائبان کرم کا سحاب وہؐ
انؐ کو پڑھے بغیر ادھورےہیں سب علوم
شہر گماں میں اُلجھے ہوۓ ہرسوال کا
انؐ کی زباں میں انؐ کا خدا بولتا رہا
دہلیز مصطفیٰ کی خیرات ہر شعور
ارض و سما میں ایک بھی انؐ کی نہیں مثال
حسن و جمال لوح و قلم، جانِ حرف و صوت
شاداب ساعتوں کا یہ موسم اُنہیؐ کاہے
آنکھیں، فصیل شہر تمنا کرے قبول
دامانِ آرزو ہی کشادہ نہ تھا مرا
— Riaz Hussain Chaudhary\
خوشی سب ہی مناتےہیں میرےسرکارآتےہیں
خوشی ہے آمنہ کے گھر وہ آۓنورکے پیکر
دہن بھی نورنورہےبدن بھی نورنورہے
جودیکھاحسن یوسف کوتواپنی انگلیاں کاٹیں
فرشتوں کی یہ سنت ہےکہ آقاسےمحبت میں
ذرا جھنڈوں کو لہراؤ ذراہاتھوں کولہراؤخداکی اب رضا پاؤ
مہد میں چاند کو دیکھا تو نوری نور سے کھیلا
وہ جھولا نور کا جھولا سراپا نور کا جھولا
ولادت کی گھڑی آئی بہار اب جھوم کر چھائی
— Unknown
آقا حضورؐ، آپؐ کی عظمت پہ ہو سلام
رحمت بنا کےآپؐ کو بھیجا گیا حضورؐ
ضامن سلامتی کے بھی تا حشر آپؐ ہیں
بندہ نہیں وہ رب عظیم و جلیل کا
یا رب!کرم کی بھیک مجھےدم بہ دم ملے
ہر پّتہ بھیجتا ہے سلاموں کی ڈالیاں
بعد از خدا حضورؐہی کا نام ہے حسین
— Dr Hussain Mohiuddin Qadri\
خوشا جھوما جا رہا ہے سفینہ
اب آیا کہ اب آیا جدہ کا ساحل
میں مکے میں جا کر کروں گا طواف اور
خدایا مدینہ نظر آۓ جوں ہی
نہ کیوں میری قسمت پر رشک آۓمجھ کو
رہے وردِ لب کاش! ہر دم الہٰی
تڑپ اٹھے آقا کے دیوانے عطار
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\