وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت
گلوں کی خوشبو مہک رہی ہے دلوں کی کلیاں چٹک رہی ہیں
یہ مجھ کو کہتی ہے دل کی دھڑکن کہ دست ساقی سے جام لے لو
نہ جانے کتنے فریب کھائے ہیں راہِ الفت میں ہم نے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت
گلوں کی خوشبو مہک رہی ہے دلوں کی کلیاں چٹک رہی ہیں
یہ مجھ کو کہتی ہے دل کی دھڑکن کہ دست ساقی سے جام لے لو
نہ جانے کتنے فریب کھائے ہیں راہِ الفت میں ہم نے اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
صُبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
پوری کب آرزو مدینے کی
مُصطَفٰے کا ہے جو بھی دیوانہ
سنّتوں کا ہے جو بھی شَیدائی
بختورزائروں کی مکّے میں
یاحبیبِ خدا کرم کر دو!
خوب انساں کو کرتی ہے رُسوا
گر تکبّر ہو دل میں ذرّہ بھر
مال و دولت کے عاشِقوں کی ہر
یاعمر! دینِ حق کے اَعدا پر
پائے رُتبہ شہید کا خُلد اُس
سن لو ہر ایک نیک شخصیَّت
اٹھو عطارؔ طیبہ چلتے ہیں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
بے رحمتِ شہؐ بلغ بخارے کہاں ہوتے
سب کچھ ہے اُسی نورِؐ جہاں تاب کے دم سے
اُسؐ عزمِ ظفر یاب کا فیضان ہے ورنہ
آئینۃ سیرت جو عنایت نہیں ہوتا
اُس خلقِ مثالی سے اگر فیض نہ پاتی
عالی وہ نہ کرتا جو مسیحائی ہماری
— Jaleel Aali\
جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں
ہٹا دیں آپ اگر رُخ سے اِک ذرا پردہ
نظر کو حسرتِ پا بوس ہے مرے سروَر
کھلے ہیں دِیدئہ عشاق قبر میں یوں ہی
خدا ہے تو نہ خدا سے جدا ہے اے مولیٰ
وُجودِ شمس کی بُرہاں ہے خود وُجود اس کا
خدا سے تم کو جدا دیکھتے ہیں جو ظالم
نہ ایک دل کہ مہ و مہر اَنجم و نرگس
اُمنڈ کے آہ نہیں آئے اَشک ہائے خوں
حضور آنکھوں میں آئیں حضور دِل میں سمائیں
غلافِ چشم کے اُٹھتے ہی آسمان گئے
نظر نظیر نہ آیا نظر کو کوئی کہیں
ہماری جان سے زیادہ قریب ہو ہم سے
جہاں کی جان ہیں وہ جان سے نہ کچھ منظور
مئے محبت محبوب سے یہ ہیں سر سبز
ہوا ہے خاتمہ اِیمان پر ترا نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
تاروں کی انجمن میں یہ بات ہو رہی ہے
ذرے یہ کہہ رہے ہیں، اس نور کے قدم سے
پھر کیوں کہوں پریشاں ہو کر بقول شخصے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
اے کاش ! ثنا معرضِ اظہار میں آۓ
ہیں سب ہی ہدایت کے درخشندہ ستارے
رفعت پہ فدا اس کی ہے کیواں کی بلندی
دل کی یہ تمنا ہے کہ وہ ماہِ مدینہؐ
نعتوںؐ میں جو کیفیتِ اخلاص ہے ظاہر
بنتی ہی نہیں بات یہاں اور وہاں کی
اے سیدؐ و سردارِ اممؐ، چشمِ کرم ہو
— Hafiz Noor Ahmed Qadri\
صاحبِ عزّت و جلال آقا
ہر صِفت تیری لازوال آقا
میں ہوں بدخُلق و بدخِصال آقا
رنج و غم نے کیا نڈھال آقا
میں ہوں بے روپ بے جمال آقا
تری رحمت ہی سے ملی عزّت
قتل کرنے عَدو چڑھ آیا تھا
تیرے ہوتے ہوئے مِرا اب کیوں
ٹھوکریں در بدر کی کیوں کھاؤں
حق کے پیارے ہیں آپ اور پیارا
سب حَسینوں سے بالیقیں بڑھ کر
تُم نے ہی سر بُلندیاں بخشیں
بد خصائل نکال کر سروَر
اپنے غم میں رُلائیے ہر دم
میرا سِینہ مدینہ بن جائے
آپ نے صرف اپنی رحمت سے
گندے گندے وساوِس آتے ہیں
یادِ طیبہ میں گُم رہوں ہردم
اہلِ اسلام غالِب آئیں اور
کاش! اس سال میں مدینے میں
حُسنِ اَخلاق اور نرمی دو
سبز گنبد کے سائے میں میرا
لڑ کھڑائے مِرے قدم جب بھی
اِس مَرَض سے بھی تم شِفا دے دو
لب کُھلیں گُل جَھڑیں فَضا مہکے
کاش! عطارؔ کا ہو طیبہ میں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
تیری آمد ہے موت آئی ہے
کیوں وطن اپنا چھوڑ آئی ہے
سیکڑوں آفتوں میں پھنسنے کو
اُن کے جلوے ہیں میری آنکھوں میں
تم کو دیکھا تو دَم میں دَم آیا
مر رہا تھا تم آئے جی اُٹھا
اب تو آؤ کہ دم لبوں پر ہے
آئیے وقت ہے یہ آنے کا
زندگی میں نے پائی مر مر کے
زندگی کیا تھی جس میں موت آئی
موت کا اب نہیں ذرا کھٹکا
مرتے ہی زندگی ملی مجھ کو
حسرتِ دِیدِ یار میں ہم نے
جو حسیں دیکھا مر مٹا اس پر
چین کی نیند آج سویا ہوں
شامتوں نے تمہاری گھیرا ہے
ذَبح کر ڈالا تو نے او ظالم
طاعتِ حق کا نام سنتے ہی
معصیت زہر ہے مگر اوندھے
کیا بگاڑا تھا تیرا کیوں بگڑا
اچھے جو کام کرنے ہیں کرلو
نوریؔ ہرگز نہیں ہے تو ناری
واہ کیا بات آپ کی نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
شہنشاہِ دو عالم کا کرم ہے
یہیں رہتے ہیں وہ جانِ بہاراں
بھلا دعوے ہیں ان سے ہمسری کے
دلِ بیتاب کو بہلائوں کیسے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
شاہِ بطحا کاماہ پارہ ہے، واہ کیابات غوثِ اعظم کی
یہ توسب اولیا کا افسرہے، ابنِ زَہرا ہے ابنِ حیدر ہے
غوثِ اعظم ہیں شاہِ جِیلانی،پیرِلاثانی، قُطبِ رَبّانی
شَہرِ بغداد مجھ کو ہے پیارا، خوب دلکش وہاں کانَظّارہ
مل گیا مجھ کو غوث کادامن،فضلِ ربِّ کریم سے روشن
جب کہ دنیا میں مُرشِدی آئے،بَطْنِ مادرسے ہی ولی آئے
میرے مرشدنے’’ لاتخف‘‘کہہ کر، دُور سب کردیا ہے خوف اور ڈر
غوث رنج و الم مٹاتے ہیں ،اُس کوسینے سے بھی لگاتے ہیں
غوث پیروں کے پیر ہیں بیشک،اورروشن ضمیرہیں بے شک
کیوں نہ جاؤں میں غوث پرواری، آفتیں دورہوگئیں ساری
اُس کو من کی مُراد ملتی ہے،اُس کی بگڑی ضَروربنتی ہے
جی اُٹھے مُردے حق کی قدرت سے،حکمِ والائے ربِّ رحمت سے
درد و آلام جب رُلاتے ہیں ،غوثِ اعظم مددکوآتے ہیں
ان کا دشمن خداکاہے مَقہُور،اس کی رحمت سے ہوگیاوہ دُور
غوث پر توقدم نبی کاہے،ان کے زیرِقدم ولی سارے
ہم کو’’گیارہ ‘‘ کاہے عددپیارا،ان کی تاریخِ عُرس ہے گیارہ
خوب صورت ہیں گنبد اور مِینار، ان پہ رحمت برستی ہے عطارؔ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\