ہے یہ فضلِ خدا، میں مدینے میں ہوں
یارسولِ خدا میں مدینے میں ہوں
گو گنہگار ہوں ، میں بداَطوار ہوں
سر پہ عصیاں کا بار، آہ! ہے نامدار
جُرم کی حد نہیں ، شاہِ دُنیا و دیں
کوئی خوبی نہیں ، پاس نیکی نہیں
سخت بدکار ہوں ،معصیت کار ہوں
میرا قلبِ سِیَہ، دیجئے جگمگا
زَنگ کافُور ہو، قلب پُر نور ہو
ہے یہ رَحمت تِری، اور عنایت تری
جانتے ہو میں کیوں ، آیا طیبہ میں ہوں
مُرشِدی نے کہا، تُو نہیں جا رہا
اپنے مِہمان کو غم مدینے کا دو
آنکھ رویا کرے، قلب تڑپا کرے
شاہِ خیرالانام اپنی اُلفت کا جام
دیدو سینہ فِگار آنکھ بھی اشکبار
آمِنہ کے پِسَر مجھ کو خَستہ جگر
ایسی مَستی ملے ہوش جاتا رہے
بے قراری ملے آہ و زاری ملے
اپنا دیوانہ کر مجھ کو مستانہ کر
جھومتا جھومتا خاک کو چومتا
کاش! روتا پھروں اِک تماشا بنوں
اپنے غم میں شہا مجھ کو ایسا گُما
اپنا کہہ دیجئے مجھ کو دے دیجئے
اب شَفاعت کی مجھ کو سَنَد ہو عطا
دھوپ ٹھنڈی یہاں چھاؤں مہکی یہاں
شب منوَّر یہاں دن مُعنبر یہاں
ہے سماں نور نور آ رہا ہے سُرور
مجھ پہ اِحسان ہو پورا ارمان ہو
خوب حیران ہوں اور پریشان ہوں
جلوۂ یار کا اُن کے دیدار کا
جام پی لوں شہادت کا شاہِ اَنام
جھومتے ہیں شَجَر وَجْد میں ہیں حَجر
گنبدِ سبز پر ہر مَنارے پہ ہے
دشت و کُہسار پر کشت و گلزار پر
چُوموں اَشجار کو پھول کو خار کو
کوئی چارہ نہ کر مرنے دے چارہ گر
چُوموں ہریالیاں چوم لوں ڈالیاں
میری عید آج ہے میری معراج ہے
ان کے دربار و در اور دیوار پر
ہے کرم ہی کرم ہاں خدا کی قسم
خوب اُمنڈ آئی ہے ہر طرف چھائی ہے
آنکھ میں ہے سجی تن پہ بھی ہے لگی
مجھ کو تقدیر پر اس کی تنویر پر
دو بقیعِ مبارک میں دوگز زمیں
موت قدموں میں دو اپنے عطارؔ کو
— Unknown