ہم پہ نَظرِ کرم، تاجدارِحرم
دردِ عِصیاں مِٹے، عادتِ بد چُھٹے
نفس و شیطان کا، آہ! غَلَبہ ہوا
یکساں ہوں مَدح وذَم مجھ کوکردوکرم
بدکلامی نہ ہو، یاوہ گوئی نہ ہو بولوں
رکّھوں نیچی نظر میں ، اِدھریا اُدھر
اشکباری کروں ، آہ و زاری کروں
عشقِ خَلّاق دو، حُسنِ اَخلاق دو
خوب مُخلِص بنوں ، میں رِیا سے بچوں
آفتیں جائیں ٹل،مشکِلیں بھی ہوں حل
ہوں دُرُودوسلام آقا لب پر مُدام
بدخَصائل ٹلیں ، سیدھے رستے چلیں
ہو گیا گر عذاب، اے رسالت مآب
خلد کی دو سَنَد، از طفیلِ صمد
روزِ مَحشَر شہا! مجھ گنہگار کا
ظاہِروباطِن ایک، آقا ہو کر دو نیک
اپنا دیوانہ کر، مست ومستانہ کر
اب مدینے بُلا، سبز گنبد دکھا
صبروہمّت ملے، یوں شہادت ملے
کاش آئے وہ پَل، روتے روتے نِکل
کاش! ہوتا شہا، جِسم عطارؔ کا
— Unknown