دِلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے
گلستانِ دنیا کا کیا ذِکر آقا
مریضِ مَعاصی کو لے چل مَدینہ
جو واصل ہے تم تک تو واصل ہے حق تک
نماز اور روزے زکوٰۃ اور حج سب
عمل سب اَکارَت تمہارے عدو کے
محبت تمہاری محبت خدا کی
وہ کیسی ہی جھیلے مشقت ادا میں
محبت تمہاری ہے اِیمان کی جاں
کرے لاکھ دَعوائے ایمان دشمن
خدا پر بھی اِیماں اسی کو ہے حاصل
خدا کے یہاں ہے سر اَفراز اتنا
اَغِثْنَا حَبِیْبَ الْاِلٰہِ اَغِثْنَا
یہ سچ ہے بداَعمالیوں ہی نے اپنی
بہت نام لیوا ہوئے قتل و غارَت
تصوّر میں بھی جو نہ تھے وہ مظالم
نہ دیکھا تھا جو چشمِِ َگردُوں نے اب تک
چھنے مال و دولت ہوئے قتل و غارَت
لکھوکھا کئے ٹھنڈے سَفَّاکیوں سے
جو حق چاہتا ہے یہ وہ چاہتے ہیں
مگر مولیٰ اب تو سزا پاچکے ہم
نکوکار بندے ہی کیا ہیں تمہارے
نہ کیجے نظر اس کی بدکاریوں پر
جو پہلے تھے آقا غلام آج ٹھہرے
وَ مَا یَنْطِقُ عَنْ ھَوَی سے ہے روشن
انہیں کی رَسائی ہے ذاتِ خدا تک
دوعالم کو کردوں میں اس سر پہ صدقے
اگرچہ ہے مکہ کی عظمت مسلم
ہے معراجِ قسمت حضوری یہاں کی
نکو کار ہے آپ کا بد ہے کس کا
کہاں تک سہیں ہم مخالف کے طعنے
مقدر کے تم ہو مقدر تمہارا
خدا کی جو مرضی وہ مرضی تمہاری
ہے اللہ کے ہاتھ میں ہاتھ اس کا
اَنَا قَاسِمٌ سے ہے روشن جہاں میں
حبیبِ خدا ہے یہاں جلوہ فرما
بتقدیر قادِر مقدر وہ پایا
یہاں بھیک لینے نہ کیوں آئے دنیا
خدا ہی کی قدر اس نے ہر گز نہ جانی
نہ اَہلِ نظر کا بنے سجدہ گہ کیوں
اسی در کا محتاج ہے سارا عالم
یہ کون و مکاں یہ زمین و زماں سب
بنایا تجھے ایسا خالق نے تیرے
بنایا تمہیں اپنا مَظہَر خدا نے
یہ چاہت ہے محبوب تیری خدا کو
کچھ ایسا سنوارا ہے تجھ کو خدا نے
تمہارے ہی دم کی ہیں ساری بہاریں
تمہارا ہی رنگ اور تمہاری ہی بو تو
چمن ہونا سیراب و شاداب ہونا
اسی دَم سے آباد سارے جہاں ہیں
ہے زیرِ نگیں تیرے مُلکِ الٰہی
تو وہ تاجوَر ہے کہ تاجِ رَفَعْنَا
مہ و خور چمکتے دمکتے ہی نہ یوں
ستاروں کی آنکھوں میں ہے نور کس کا
— Mustafa Raza Khan Noori\
