وہی میری محبت کا جہاں ہے
نہیں کوئی خطر، جب تک سروں پر
حقیقت میں ہے جو عاشق نبیؐ کا
شہِؐ بطحا ہمیں ہے فخر اس پر
اُسے اک دن ملے گی کامرانی
حوادث سے ہے وہ بے خوف کتنا
اُسے ہے یاد درسِ صبر کتنا
بیاں اُن سے کرے گی یہ خموشی
— Riaz Nadeem Niazi\
وہی میری محبت کا جہاں ہے
نہیں کوئی خطر، جب تک سروں پر
حقیقت میں ہے جو عاشق نبیؐ کا
شہِؐ بطحا ہمیں ہے فخر اس پر
اُسے اک دن ملے گی کامرانی
حوادث سے ہے وہ بے خوف کتنا
اُسے ہے یاد درسِ صبر کتنا
بیاں اُن سے کرے گی یہ خموشی
— Riaz Nadeem Niazi\
سارے نبیوں کا سروَر مدینے میں ہے
لُطف جنّت سے بڑھ کر مدینے میں ہے
کیا ہوا بھی مُعطَّر مدینے میں ہے
کر کے ہجرت یہاں آگئے مصطَفٰے
جانتے ہو مدینہ ہے کیوں دل پسند
سارے دیوانے بیتاب ہیں اِس لئے
نور کی دیکھو برسات ہے چار سُو
ہجرو فُرقت کے بیمار کو لے چلو
دور رہ کر ہے ویران سی زندگی
ہے مدینے کا رُتبہ بڑا خُلد سے
مالدارو! نہ اِتراؤ تم مال پر
اپنی منزِل کو پالو گے آجاؤ تم
بھول جاؤ گے پیرس کی سب رَونقیں
دشمنو! مت اکیلا سمجھنا مجھے
آؤ عِصیاں شِعارو نہالو یہاں
حشر میں جامِ کوثر کی ہے گر طلب
آؤ آؤ گنہگارو آ جاؤ تم
اے شَفاعت کے اُمّیدوارو! چلو
تم شَفاعت میں شک مت کرو زائرو
چل مدینہ وُہی ہو سکے جسکا دل
چل مدینہ کا دیوانو! مُژدہ سنو
سبز گنبد کا عطارؔ منظر تو دیکھ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
مَاہِ طیبہ نَیّرِ بطحا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
تو ہے مَظہَرِ رَبِّ اَجمل ظِل ہیں تیرے سارے مُرسَل
تم ہو پیارے اصل ہماری سارا جہاں ہے فرع تمہاری
تم ہو آقا معرف حق کے جلوے ہو نورِ مطلق کے
تو ہے نائبِ رَبِّ اَکبر پیارے ہر دم تیرے دَر پر
حق نے بنایا ایسا تونگر اَکبر و اَوسط و اَصغر و سروَر
ہر شے میں ہے تیرا جلوہ تجھ سے روشن دین و دنیا
اِیماں تیری عظمت و اُلفت اور تصدیق و جزمِ نسبت
بے شبہ ہے زَینِ طاعت حق یہ کہ ہے عینِ عبادت
تیری ضیا سے عالم چمکا سُبْحَانَ اللہ مَاشَآئَ اللہ
نورِ مجسم تیرے دم سے نوری صدقے روز ہیں پاتے
تو چاہے وہ جو رب چاہے رب چاہے وہ جو تو چاہے
جتنے سلاطیں پہلے آئے سکے ان کے ہوگئے کھوٹے
تاجِ سلطاں بن کر چمکا تیرے نقشِ پا کا جلوہ
تیرے گھر کا بچہ بچہ سارا گھرانا سید والا
کی ہے اَبرِ غم نے چڑھائی ماہِ طیبہ تیری دہائی
غم کی کالی گھٹائیں چھائیں رَنج و اَلم کی بلائیں چھائیں
خارِ غم کیسا چبھتا ہے کیسی خَلِش ہے دِل دُکھتا ہے
رافِع تم ہو دافِعتم ہو نافِعتم ہو شافِع تم ہو
میں ہوں بے بس تو ہی بس ہے میں ہوں بے کس تو ہی کس ہے
سر پر بادل کالے کالے دُودِ عصیاں کے ہیں چھالے
میں ہوں تنہا بن ہے سونا دُزدِ اِیماں سر پر پہنچا
حال ہمارا جیسا زَبوں ہے اور وہ کیسا اور وہ کیوں ہے
ہر ذَرَّہ پر تیری نظر ہے ہر قطرہ کی تجھ کو خبر ہے
عیب سے تم کو پاک کیا ہے غیب کا تم کو علم دیا ہے
تو میرے ایماں کو جلا دے جانِ مسیحا دِل کو جلادے
حد سے بڑھ گئے عصیاں میرے تو دھو دے آبِ رحمت سے
کیسی زبانیں سوکھ گئی ہیں پیاس سے باہر آئی ہوئی ہیں
مہرِ محشر سر پر سروَر پھونکے دے ہے ہم کو یکسر
منہ تک میرے پسینہ پہنچا ڈوبا ڈوبا ڈوبا ڈوبا
آدم سے تا حضرتِ عیسیٰ سب کی خدمت میں ہو آیا
میرے آقا میرے مولا آپ سے سن کر اِنِّیْ لَھَا
روشن ہوگیا اس سے سروَر پیشِ داوَر شافِعِ محشر
وَقتِ وِلادَت تم نہیں بھولے وَقتِ رحلت یاد ہی رکھے
آؤ آؤ میری خبر کو واروں تم پر قلب و جگر کو
میری آنکھوں میرے سر پر میرے دِل پر میرے جگر پر
تیرے نقشِ قدم نے سروَر پتھر موم بنائے یکسر
آپ کا جلوہ ہر جزو کل میں آپ کے رنگ و بو ہر گل میں
کون گیا ہے عرش علا تک کس کی رسائی ذاتِ خدا تک
تم ہو اوَّل تم ہو آخر تم ہو باطن تم ہو ظاہر
بَارَکَ شَرَّفَ مَجَّدَ کَرَّمَ نَوَّرَ قَلْبَکَ اَسْریٰ عَلَّمَ
صاحبِ دولت تم ہی تو ہو قاسمِ نعمت تم ہی تو ہو
اَنْتَ الرَّافِع اَنْتَ النَّافِع اَنْتَ الدَّافِع اَنْتَ الشَّافِع
اَنْتَ الْاَوَّل اَنْتَ الْاٰخِر اَنْتَ الْبَاطِنْ اَنْتَ الظَّاہِر
مَنْ ِلیْ نَاصِرْ مَالِیْ وَالِیْ غَیْرُکَ مَالِیْ فَانْظُرْ حَالِیْ
اَنْتَ الْقَاسِم رَبُّکَ مُعْطِیْتم ہی نے سب کو نعمت دی
اَنْتَ شَفِیْعِیْ اَنْتَ وَکِیْلِیْ اَنْتَ حَبِیْبِیْ اَنْتَ طَبِیْبِیْ
حاضرِ دَر ہے نوریؔٔ مُضطَر آپ کا یہ مورُوثی ثنا گر
— Mustafa Raza Khan Noori\
یَا مُجِیْبُ یا مُجَابُ
یَا رَسولَ اللّٰہِ حقّاً
أنْتَ مَأتَاھَا وَحیدًا
بِالْھُدٰی وَالْحِقِّ وافٰی
خِیْرَۃٌ لِلّٰہِ فِیْنَا
أحْمَدُ الْمُخَتَارُ حِبِّیْ
شَعْرُہٗ مِثْلُ السَّحَابِ
صَدْرُہٗ الْمِشْکَاۃُ فِیْہَا
جُوْدُہٗ فَاقَ الْجَوَادِیْ
قَلُّہٗ مَالَا یُحَدُّ
فَضْلُہٗ دَوْمًا مَزِیْدُ
وَجَنَابُہُ الْمُعَلّٰی
وَمَزَارُہٗ أمَانٌ
أخْتَرُ الْجَانِیْ أتَاکَ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب
ہیں صفاتِ حق کے نوری آئینے سارے نبی
کب ستارا کوئی چمکا سامنے خورشید کے
آپ ہی کے نور سے تابندہ ہیں شمس و قمر
قبر کا ہر ذَرَّہ اِک خورشیدِ تاباں ہو ابھی
کوچۂ پُرنور کا ہر ذَرَّہ رَشکِ مہر ہے
رُوسیہ ہوں منہ اُجالا کر مرا جانِ قمر
نَیّرِ چرخِ رِسالت جس گھڑی طالع ہوا
آپ نے جب مشرقِ اَنوار سے فرمایا طلوع
ظلمتِ شب مٹ گئی جب آپ جلوہ گر ہوئے
تم نے مغر ب سے نکل کر اِک قیامت کی بپا
آفتابِ ہاشمی تو غرب سے طالع ہو پھر
حق کے پیارے نور کی آنکھوں کے تارے ہو تمہیں
زُلفِ والا کی صفت وَاللَّیْل ہے قرآن میں
ظلمتیں سب مٹ گئیں ناری سے نوری ہوگیا
ظلمتوں پر ظلمتیں ہیں میرے مولیٰ قبر میں
مہر فرما مہر سے عصیاں کی ظلمت محو کر
نور سے معمور ہو جائے مرا سینہ اگر
اِک اشارے سے قمر کے تم نے دو ٹکڑے کئے
نور کی سرکار ہے تو بھیک بھی نوری ملے
— Mustafa Raza Khan Noori\
ألا یا خمینی یا فاجر
أفیضوا بھیجاء أو أقصروا
أبی أن یَّھون العراق الأبی
وانّ العراق بعلیاءہ
لیھنا العراق الحبیب العلٰی
یظلّ العراق بحرزالِالٰہ
ویردی الخمینی وأحزابہ
ویکفی العراقَ قتالَ العدی
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
سلسلہ آہ! گناہوں کا بڑھا جاتا ہے
قلب پتھر سے بھی سختی میں بڑھا جاتا ہے
نفس و شیطان کی ہر آن اطاعت پر دل
لاؤں وہ اشک کہاں سے جو سیاہی دھوئیں
عارِضی آفتِ دنیا سے تو ڈرتا ہے دل
یہ ترا جسم جو بیمار ہے تشویش نہ کر
اصل برباد کُن اَمراض گناہوں کے ہیں
اصل آفت تو ہے ناراضیٔ ربِّ اکبر
المدد یاشَہِ اَبرار مدینے والے
آہ!دولت کی حفاظت میں توسب ہیں کوشاں
یاد رکّھو! وُہی بے عقل ہے اَحمق ہے جو
اپنی الفت کا مجھے جام پلادو ساقی
امتحاں کے کہاں قابِل ہوں میں پیارے اللہ
آہ! جاتی نہیں ہے عادتِ یاوہ گوئی
آہ! آنسو غمِ دنیا میں بہے جاتے ہیں
اپنا غم ایسا عطا کر کہ کلیجا پھٹ جائے
ولولہ سنّتِ محبوب کا دے دے مالِک
تیرے دیوانے مدینے کے لیے ہیں بیتاب
آخِری وقت ہے آجا مِرے مَدنی آجا
جلوۂ پاک دکھا جا مرے مَدنی آجا
مجھ کو اب کلمہ پڑھا جا مرے مَدنی آجا
مجھ کو قدموں سے لگاجا مِرے مَدنی آجا
میرے عِصیاں کو مٹاجا مِرے مَدنی آجا
میرے آقا سرِمحشر مرا پردہ رکھنا
آؤ اب بَہرِشفاعت مِرے شافع آؤ
مُسکراکر مِری سرکار مجھے کہہ دو نا
کاش! عطارؔ سے فرمائیں قِیامت میں حُضُور
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
آج کچھ اور نظر آتی ہے چھپ رحمت کی
اپنے عشاق کو کیونکر وہ رکھیں گے محروم؟
میرے نامہ میں کوئی نیک عمل ہی کب تھا؟
صبح تک میں بھی مشرف بہ زیارت ہوں گا
اذن مدحت کا جو چاہا تو مرے آقاؐ نے
میرے آقاؐ! مجھے حشر میں نہ تنہا کرنا
کیا لکھے آپؐ کے الطاف کی بابت سائلؔ
— Sail Nizami\
اے صبا لے جا مدینے کو پیام
اے مکین گنبد خضریٰ سلام
اب مدینے میں مجھے بلوائیے
بلبل بے پر پہ ہو جائے کرم
ہند کا جنگل مجھے بھاتا نہیں
زندگی کے ہیں مدینے میں مزے
زندگی کے ہیں مدینے میں مزے
خلد کی خاطر مدینہ چھوڑ دوں
خلد کے طالب سے کہہ دوں بے گماں
مجھ سے پہلے میرا دل حاضر ہوا
کتنی پیاری ہے مدینے کی چمک
کتنی بھینی ہے مدینہ کی مہک
یا رسول اللہ از رحمت نگر
بس انوکھی ہے مدینہ کی بہار
کتنی روشن ہے یہاں ہر ایک شب
کیا مدینہ کو ضرورت چاند کی
نور والے صاحب معراج ہیں
اے خوشا بخت رسائے اخترؔت
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
وفورِ عشق سے سینوں میں اضطراب رہے
زمانہ سارا پھرا دربدر مگر وہ لوگ
ہمارے دل کو میسر رہی کلیدِ درود
یہی جزاۓ سخن ہے یہی ہے حرفِ دعا
یہی دعا ہے کہ سینہ رہے معطر یوں
وہ اسم پاک پڑھوں اور کیسے ممکن رہے
— Sajjad Baloch\