مقبول دُعا کرنا منظور ثنا کرنا
دِل ذِکرِ شریف اُن کا ہر صبح و مسا کرنا
سینہ پہ قدم رکھنا دل شاد مرا کرنا
سَنسار بھکاری ہے جگ داتا دَیا کرنا
کب آپ کے کوچہ میں منگتا کو صدا کرنا
دن رات ہے طیبہ میں دولت کا لٹا کرنا
ہم عین جفا ہی ہیں ہم کو تو جفا کرنا
دن رات خطاؤں پر ہم کو ہے خطا کرنا
ہم اپنی خطاؤں پر نادِم بھی نہیں ہوتے
ہم آپ ہی اپنے پَر کرتے ہیں سِتَم حد بھر
ہے آٹھ پہر جاری لنگر مرے داتا کا
محروم نہیں جس سے مخلوق میں کوئی بھی
ہے عام کرم ان کا اپنے ہوں کہ ہوں اَعدا
محروم گیا کوئی مایوس پھرا کوئی
مایوس گیا کوئی محروم پھرا کوئی
دُکھ دَرد کہیں کس سے یہ کام تو ہیں اُن کے
وَاللہ وہ سن لیں گے اور دل کی دوا دیں گے
اَعدا کو خدا والا جب تم نے بنا ڈالا
سوکھی ہے مری کھیتی پَڑ جائے بھرن تیری
جو سوختہ ہِیزَم کو چاہو تو ہرا کردو
طیبہ میں بلا لینا اور اپنا بنا لینا
ہم عرض کیے جائیں سرکار سنے جائیں
سنگِ دَرِ سروَر پر رکھا ہوا ہو یہ سر
کھل جائیں چمن دِل کے اور حزن مٹیں دِل کے
ہر داغ مٹا دینا اور دِل کو شفا دینا
سروَر ہے وہی سروَر اے سروَرِ ہر سروَر
شہرہ لبِ عیسیٰ کا جس بات میں ہے مولا
تو جانِ مسیحا سے حالت مری جا کہنا
پردہ میں جو رہتے ہو پردہ ہے چلے آؤ
اُف کیسی قیامت ہے یہ روزِ قیامت بھی
لِلّٰہ ہمیں مولیٰ دامن کے تلے لے لو
یہ ظلِ کرامت ہے ہم سایۂ رحمت ہے
اے ظلِ خدا سایہ ہے آج کہاں پایا
لب تشنہ ہے گو ساقی تشنہ تری رُویت کا
ہوں تشنہ مگر ساقی دِیدار کے شربت کا
تشنہ میں نہیں اس کا تشنہ ہوں میں رُویت کا
ہے پیاس سے حال اَبتر نکلی ہے زباں باہر
جو دل سے تجھے چاہیں جو عیب ترے ڈَھانپیں
وہ تیرا برا چاہیں ممکن ہی نہیں اُن سے
دُنیا بنے یا بگڑے دُنیا رہے یا جائے
کھایا پیا اور پہنا اَچھوں سے رَہا اَچھا
قسمت میں غمِ دُنیا جنت کا قبالہ ہو
دنیا میں جو روتے ہیں عقبیٰ میں وہ ہنستے ہیں
موسیٰ ہوئے غش جس سے اور طور جلا جس سے
برباد نہ ہو مٹی اس خاک کے پتلے کی
کیوں نقشِ کفِ پا کو دِل سے نہ لگائے وہ
— Mustafa Raza Khan Noori\