ہم اپنی حسرتِ دِل کو مٹانے آئے ہیں
دِلِ حزیں کو تسلی دِلانے آئے ہیں
کریم ہیں وہ نگاہِ کرم سے دیکھیں گے
غم و اَلم یہ مٹادیں گے شاد کردیں گے
حضور بہرِ خدا داستانِ غم سن لیں
نگاہِ لطف و کرم ہوگی اور پھر ہوگی
فقیر آپ کے دَر کے ہیں ہم کہاں جائیں
مَدینہ ہم سے فقیر آکے لوٹ جائیں گے
خدا نے غیب دیا ہے انہیں ہے سب روشن
کھلے گی میرے بھی دل کی گلی کہ جانِ جناں
کتابِ حضرتِ موسیٰ میں وَصف ہیں ان کے
انہیں کی نعت کے نغمے زَبور سے سن لو
دَبا نہیں وہ فلک سے بلند و بالا ہے
نصیب جاگ اُٹھا اس کا چین سے سویا
عجب کرم ہے کہ خود مجرموں کے حامی ہیں
سبھی رُسل نے کہا اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ
زبانِ اَنبیا پر آج نفسی نفسی ہے
کسی غریب کے پلے پہ وقتِ وَزْنِ عمل
وہ پرچہ جس میں لکھا تھا دُرود اس نے کبھی
خدا سے کرتے ہوئے عرض رَبِّ سَلِّمْہٗ
زباں جو دیکھے ہے سوکھی ہوئی تو بحرِ کرم
ہوا ہے حکم کسی کو کہ نار میں جائے
الٰہی دُور ہوں نجدی حجاز سے جلدی
نصیب تیرا چمک اُٹھا دیکھ تو نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\