تو اُس کے نصیبوں میں جنت نہیں
کھڑا ہوں ادھر کب سے میں برق پا
میں روتا نہیں اُن کی یادوں میں کب
چلو اُنؐ کے نقشِ قدم پر چلیں
مرا مسئلہ جانتے ہیں نبیؐ
نہیں ہے جو حب رسالت مآبؐ
— Rustam Nami\
تو اُس کے نصیبوں میں جنت نہیں
کھڑا ہوں ادھر کب سے میں برق پا
میں روتا نہیں اُن کی یادوں میں کب
چلو اُنؐ کے نقشِ قدم پر چلیں
مرا مسئلہ جانتے ہیں نبیؐ
نہیں ہے جو حب رسالت مآبؐ
— Rustam Nami\
مَرَضِ عشق کا بیمار بھی کیا ہوتا ہے
کیوں عبث خوف سے دل اپنا ہوا ہوتا ہے
جس کا حامی وہ شہِ ہر دو سرا ہوتا ہے
اُن کا اِرشاد ہے اِرشادِ خداوندِ جہاں
بادشاہانِ جہاں ہوتے ہیں منگتا اُس کے
پلہ نیکی کا اِشارے سے بڑھا دیتے ہیں
سارا عالم ہے رضا جوئے خداوند ِ جہاں
ہم نے یوں شمعِ رِسالت سے لگائی ہے لو
اَز شہا تا بگدایانِ جہاں اِک عالم
ایسی سرکار ہے بھرپور جہاں سے لینے
دونوں ہاتھوں سے لٹاتے ہیں خزانہ لیکن
کردہ ناکردہ اِشارے میں تمہارے ہوجائے
بیکس و بے بس و بے یارو مَددگار جو ہو
ان سے دشمن کی مصیبت نہیں دیکھی جاتی
جگمگا اُٹھتا ہے دل کا مِرے ذَرَّہ ذَرَّہ
آپ محبوب ہیں اللہ کے ایسے محبوب
جس گلی سے تو گزرتا ہے مرے جانِ جناں
عرشِ اَعلیٰ سے کہیں بالا ہے رتبہ اس کا
پیاسو مژدہ ہو کہ وہ ساقیٔ کوثر آئے
آستانے کے گداؤں کے لیے رحمت ہے
کب گل طیبہ کی خوشبو سے بسیں گے دل و جاں
دیکھئے غنچۂ دِل اپنا کھلے گا کب تک
کب بہارِ چمنِ طیبہ نظر آتی ہے
سر بلندی اسے حاصل ہے جناب ِرب میں
دل تپا سوزِ محبت سے کہ سب میل چھٹے
کب مٹانے سے کسی کے خطِ تقدیر مٹے
محو اِثبات کی ہاں آپ نے قدرت پائی
تیرا دِیدار مُیَسَّر ہو جسے نورِ خدا
وہ نہیں حشر میں جو ہوگا شہا بے پردہ
تیرا جلوہ نہیں اللہ کا جلوہ ہے وہ
تو ہے آئینۂ ذاتِ اَحدِی اے پیارے
دَاغِ دِل میں جو مزہ پایا ہے نوریؔ تم نے
— Mustafa Raza Khan Noori\
سبز گُنبد کی زیارت کیجئے
گنبدِ خَضرا کے جلوے دیکھ کر
آگیا میٹھا مدینہ آگیا جھوم کر
مسجدِنبوی میں ہر دم بھائیو!
زائرو! رو رو کر ان کے سامنے
قلبِ مُضطَر چشمِ تَر سوزِ جگر
اَزپئے احمدرضا مجھ کو عطا
ازپئے غوثُ الورٰی یامصطَفٰے
از طفیلِ مرشدی دل سے مِرے
فاطِمہ زَہرا کا صَدقہ مجھ سے دور
دُور غم دنیا کے فرما دیجئے
اپنے اَخلاقِ کریمہ سے مجھے
دردِ عِصیاں کی دوا کیجے عطا
عادتِ عِصیاں نہیں جاتی حضور
مجھ کو توفیقِ عبادت ہو عطا
سنّتوں کی ہر طرف آئے بہار
یانبی! مجھ کو! بقیعِ پاک میں
ہُوں نہایت ہی ضعیف و ناتُواں
ہو عطا سوزِ بِلال آقا مجھے
گُھپ اندھیرے میں ہوں تنہا اَلمدد
عیب محشر میں نہ کُھل جائیں کہیں
گرمیِ محشر سے جاں ہے مُضطَرِب
مجرِموں کی صَف میں ہوں آقا کھڑا
کربلا والوں کے صدقے مجھ سے دور
مختصر سی زندگی ہے بھائیو!
گر رِضائے مصطَفٰے درکار ہے
سُنَّتیں اپنا کے حاصِل بھائیو!
عیدِ مِیلادُالنَّبی پر بھائیو!
ہِجر کے ماروں پہ بھی چشمِ کرم!
میرے چہرے پر کفن ڈھک دیجئے
اب نِقابِ رُخ اُلٹ دیجے حُضُور
حاضِرِ دربار پھر بدکار ہے
بڑھتے جاتے ہیں گنہ عطارؔ آہ!
سبز گنبد پر فِدا ہوجایئے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
اس طرف بھی اک نظر مہر درخشانِ جمال
تم نے اچھوں پہ کیا ہے خوب فیضانِ جمال
تیری جاں بخشی کے صدقے اے مسیحائے زماں
فرش آنکھوں کا بچھائو رہ گزر میں عاشقو
مرکے مٹی میں ملے وہ نجدیو بالکل غلط
گرمیٔ محشر گنہگاروہے بس کچھ دیر کی
کرکے دعویٰ ہمسری کا کیسے منہ کے بل گرا
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
معراجِ بشر، نورِ خدا ہیں مرے آقاؐ
شان آپؐ کی کیسے کسی ادراک میں آۓ
ذات اُمؐ کی رہ زیست میں تنویرِ ہدایت
دنیا کی کشاکش ہوکہ ہو دیں کی تگ و دو
انساں پہ عیاں کرتے ہیں توحید کے اسرار
مقصود حیات آپؐ کا انسان کی بہبود
ایثار، کرم، خلق، رضا، صبر، محبت
ہے پرتوِ حق آپؐ کے اندازِ عمل میں
خورشید و قمر آپؐ کی تنویر سے روشن
حاصل ہے سِوا آپؐ کے کس کو یہ سعادت
مانگی تھی براہیم نے جو صحنِ حرم میں
گفتار نبئؐ درس ہے عرفانِ خدا کا
قرآن کا مفہوم عیاں انؐ کے عمل سے
پڑھتا ہوں درود آپؐ پہ اخلاص و وفا سے
ہے مجھ سا خطا کار بھی بخشش کا طلب گار
خوش بخت ہوں میں آپؐ کی امت میں ہوں ساقیؔ
— Rasheed Saqi\
وہی میری محبت کا جہاں ہے
نہیں کوئی خطر، جب تک سروں پر
حقیقت میں ہے جو عاشق نبیؐ کا
شہِؐ بطحا ہمیں ہے فخر اس پر
اُسے اک دن ملے گی کامرانی
حوادث سے ہے وہ بے خوف کتنا
اُسے ہے یاد درسِ صبر کتنا
بیاں اُن سے کرے گی یہ خموشی
— Riaz Nadeem Niazi\
سارے نبیوں کا سروَر مدینے میں ہے
لُطف جنّت سے بڑھ کر مدینے میں ہے
کیا ہوا بھی مُعطَّر مدینے میں ہے
کر کے ہجرت یہاں آگئے مصطَفٰے
جانتے ہو مدینہ ہے کیوں دل پسند
سارے دیوانے بیتاب ہیں اِس لئے
نور کی دیکھو برسات ہے چار سُو
ہجرو فُرقت کے بیمار کو لے چلو
دور رہ کر ہے ویران سی زندگی
ہے مدینے کا رُتبہ بڑا خُلد سے
مالدارو! نہ اِتراؤ تم مال پر
اپنی منزِل کو پالو گے آجاؤ تم
بھول جاؤ گے پیرس کی سب رَونقیں
دشمنو! مت اکیلا سمجھنا مجھے
آؤ عِصیاں شِعارو نہالو یہاں
حشر میں جامِ کوثر کی ہے گر طلب
آؤ آؤ گنہگارو آ جاؤ تم
اے شَفاعت کے اُمّیدوارو! چلو
تم شَفاعت میں شک مت کرو زائرو
چل مدینہ وُہی ہو سکے جسکا دل
چل مدینہ کا دیوانو! مُژدہ سنو
سبز گنبد کا عطارؔ منظر تو دیکھ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
مَاہِ طیبہ نَیّرِ بطحا صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ وَسَلَّم
تو ہے مَظہَرِ رَبِّ اَجمل ظِل ہیں تیرے سارے مُرسَل
تم ہو پیارے اصل ہماری سارا جہاں ہے فرع تمہاری
تم ہو آقا معرف حق کے جلوے ہو نورِ مطلق کے
تو ہے نائبِ رَبِّ اَکبر پیارے ہر دم تیرے دَر پر
حق نے بنایا ایسا تونگر اَکبر و اَوسط و اَصغر و سروَر
ہر شے میں ہے تیرا جلوہ تجھ سے روشن دین و دنیا
اِیماں تیری عظمت و اُلفت اور تصدیق و جزمِ نسبت
بے شبہ ہے زَینِ طاعت حق یہ کہ ہے عینِ عبادت
تیری ضیا سے عالم چمکا سُبْحَانَ اللہ مَاشَآئَ اللہ
نورِ مجسم تیرے دم سے نوری صدقے روز ہیں پاتے
تو چاہے وہ جو رب چاہے رب چاہے وہ جو تو چاہے
جتنے سلاطیں پہلے آئے سکے ان کے ہوگئے کھوٹے
تاجِ سلطاں بن کر چمکا تیرے نقشِ پا کا جلوہ
تیرے گھر کا بچہ بچہ سارا گھرانا سید والا
کی ہے اَبرِ غم نے چڑھائی ماہِ طیبہ تیری دہائی
غم کی کالی گھٹائیں چھائیں رَنج و اَلم کی بلائیں چھائیں
خارِ غم کیسا چبھتا ہے کیسی خَلِش ہے دِل دُکھتا ہے
رافِع تم ہو دافِعتم ہو نافِعتم ہو شافِع تم ہو
میں ہوں بے بس تو ہی بس ہے میں ہوں بے کس تو ہی کس ہے
سر پر بادل کالے کالے دُودِ عصیاں کے ہیں چھالے
میں ہوں تنہا بن ہے سونا دُزدِ اِیماں سر پر پہنچا
حال ہمارا جیسا زَبوں ہے اور وہ کیسا اور وہ کیوں ہے
ہر ذَرَّہ پر تیری نظر ہے ہر قطرہ کی تجھ کو خبر ہے
عیب سے تم کو پاک کیا ہے غیب کا تم کو علم دیا ہے
تو میرے ایماں کو جلا دے جانِ مسیحا دِل کو جلادے
حد سے بڑھ گئے عصیاں میرے تو دھو دے آبِ رحمت سے
کیسی زبانیں سوکھ گئی ہیں پیاس سے باہر آئی ہوئی ہیں
مہرِ محشر سر پر سروَر پھونکے دے ہے ہم کو یکسر
منہ تک میرے پسینہ پہنچا ڈوبا ڈوبا ڈوبا ڈوبا
آدم سے تا حضرتِ عیسیٰ سب کی خدمت میں ہو آیا
میرے آقا میرے مولا آپ سے سن کر اِنِّیْ لَھَا
روشن ہوگیا اس سے سروَر پیشِ داوَر شافِعِ محشر
وَقتِ وِلادَت تم نہیں بھولے وَقتِ رحلت یاد ہی رکھے
آؤ آؤ میری خبر کو واروں تم پر قلب و جگر کو
میری آنکھوں میرے سر پر میرے دِل پر میرے جگر پر
تیرے نقشِ قدم نے سروَر پتھر موم بنائے یکسر
آپ کا جلوہ ہر جزو کل میں آپ کے رنگ و بو ہر گل میں
کون گیا ہے عرش علا تک کس کی رسائی ذاتِ خدا تک
تم ہو اوَّل تم ہو آخر تم ہو باطن تم ہو ظاہر
بَارَکَ شَرَّفَ مَجَّدَ کَرَّمَ نَوَّرَ قَلْبَکَ اَسْریٰ عَلَّمَ
صاحبِ دولت تم ہی تو ہو قاسمِ نعمت تم ہی تو ہو
اَنْتَ الرَّافِع اَنْتَ النَّافِع اَنْتَ الدَّافِع اَنْتَ الشَّافِع
اَنْتَ الْاَوَّل اَنْتَ الْاٰخِر اَنْتَ الْبَاطِنْ اَنْتَ الظَّاہِر
مَنْ ِلیْ نَاصِرْ مَالِیْ وَالِیْ غَیْرُکَ مَالِیْ فَانْظُرْ حَالِیْ
اَنْتَ الْقَاسِم رَبُّکَ مُعْطِیْتم ہی نے سب کو نعمت دی
اَنْتَ شَفِیْعِیْ اَنْتَ وَکِیْلِیْ اَنْتَ حَبِیْبِیْ اَنْتَ طَبِیْبِیْ
حاضرِ دَر ہے نوریؔٔ مُضطَر آپ کا یہ مورُوثی ثنا گر
— Mustafa Raza Khan Noori\
یَا مُجِیْبُ یا مُجَابُ
یَا رَسولَ اللّٰہِ حقّاً
أنْتَ مَأتَاھَا وَحیدًا
بِالْھُدٰی وَالْحِقِّ وافٰی
خِیْرَۃٌ لِلّٰہِ فِیْنَا
أحْمَدُ الْمُخَتَارُ حِبِّیْ
شَعْرُہٗ مِثْلُ السَّحَابِ
صَدْرُہٗ الْمِشْکَاۃُ فِیْہَا
جُوْدُہٗ فَاقَ الْجَوَادِیْ
قَلُّہٗ مَالَا یُحَدُّ
فَضْلُہٗ دَوْمًا مَزِیْدُ
وَجَنَابُہُ الْمُعَلّٰی
وَمَزَارُہٗ أمَانٌ
أخْتَرُ الْجَانِیْ أتَاکَ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب
ہیں صفاتِ حق کے نوری آئینے سارے نبی
کب ستارا کوئی چمکا سامنے خورشید کے
آپ ہی کے نور سے تابندہ ہیں شمس و قمر
قبر کا ہر ذَرَّہ اِک خورشیدِ تاباں ہو ابھی
کوچۂ پُرنور کا ہر ذَرَّہ رَشکِ مہر ہے
رُوسیہ ہوں منہ اُجالا کر مرا جانِ قمر
نَیّرِ چرخِ رِسالت جس گھڑی طالع ہوا
آپ نے جب مشرقِ اَنوار سے فرمایا طلوع
ظلمتِ شب مٹ گئی جب آپ جلوہ گر ہوئے
تم نے مغر ب سے نکل کر اِک قیامت کی بپا
آفتابِ ہاشمی تو غرب سے طالع ہو پھر
حق کے پیارے نور کی آنکھوں کے تارے ہو تمہیں
زُلفِ والا کی صفت وَاللَّیْل ہے قرآن میں
ظلمتیں سب مٹ گئیں ناری سے نوری ہوگیا
ظلمتوں پر ظلمتیں ہیں میرے مولیٰ قبر میں
مہر فرما مہر سے عصیاں کی ظلمت محو کر
نور سے معمور ہو جائے مرا سینہ اگر
اِک اشارے سے قمر کے تم نے دو ٹکڑے کئے
نور کی سرکار ہے تو بھیک بھی نوری ملے
— Mustafa Raza Khan Noori\