گئیاں دوہاں جہاناں توں جو مرن توں ڈر گئیاںجو دور نیں سوہنے توں پچھتاندیاں کرماں نوں
جو پہنچیاں اس در تک
او ہسدیاں گھر گئیاںجو سوہنے دے سنگ رلیاں او ہسدیاں وسدیاں نے
جو غیراں دے سنگ ٹریاں پچھتاندیاں مر گئیاںمغرور نہ ہو راقب اے بازی اوکھی اے
گئیاں دوہاں جہاناں توں جو مرن توں ڈر گئیاںجو دور نیں سوہنے توں پچھتاندیاں کرماں نوں
جو پہنچیاں اس در تک
او ہسدیاں گھر گئیاںجو سوہنے دے سنگ رلیاں او ہسدیاں وسدیاں نے
جو غیراں دے سنگ ٹریاں پچھتاندیاں مر گئیاںمغرور نہ ہو راقب اے بازی اوکھی اے
چھڈ کے زمانہ میں تیرے نال لائیاںتیری مہربانی لگیاں نبھاویں
یاراں دا صدقہ گل نال لاویں
ہاڑے میں پاواں تے دیواں دہائیاں
چھڈ کےکھولیں دوارا خالی نہ جاواں
خیرات دیویں میں خوشیاں مناواں
ناں تیرا سن کے دوروں میں آئیاں
چھڈ کےغوثِ جلی دا حق دے ولی دا
خاکی نوں دیوو صدقہ علی دا
منگنا نئیں آندا پر تانگاں نے لائیاں
مزے یہ لوٹتا ہے کوئی کوئیبشر سمجھا انہیں لاکھوں نے لیکن
حقیقت آشنا ہے کوئی کوئیغنیمت جان جتنی بھی ملی ہے
کہ میخانہ کھلا ہے کوئی کوئیمدینے یوں تو جاتے ہیں ہزاروں
مدینہ دیکھتا ہے کوئی کوئیتیرے روضے کی نوری جالیوں کو
نظر سے چومتا ہے کوئی کوئیجو طوفانوں سے کشتی پار کردے
اے نمازو مجھے بھی وضو آگیاتشنگی سب کے ہونٹوں پہ جمنے لگی
قافلہ جب سر آبجو آگیالے کے ہمراہ کتنی بڑی فوج کو
کل بہتر سے لڑنے عدد آگیاخیمہء گل سے شعلے نکلنے لگے
کیا کوئی قاتل رنگ و بو آگیاہار کر بھی ہوئی فتح مظلوم کی
ظالموں کے وہ جب روبرو آگیاآنسوؤں نے مرے جب بھی آواز دی
کربلائے تصور میں تو آ گیامعصیت چیخ اٹھی میں چلی میں چلی
لب پہ جب اللہ ہو اللہ ہو آگیابولے سن کر مظفر کو ابن علی
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
ہر ایک مظلوم کی صدا میں ‘ حُسین تو بو لتا رہے گاجیسے ہیں تیرے اصول پیارے رسُول اھلِ رسُول پیارے
وہ تیرے لہجے میں سب یزیدوں کے رُو بُرو بولتا رہے گازمانہ کِتنا ہی بِیت جائے ، زبانِ تاریخ چُپ نہ ہوگی
تِرے حوالے سے چاکِ اسلام کا رفو بو لتا رہے گاتِری شہادت نے ساری صُبحوں کو ڈوبنے سے بچا لیا ہے
تُو ہر کِرن میں بغیر آواز ، بے گلو بو لتا رہے گاتِرے لبِ خشک سے جو پھُوٹی وہ تازگی حشر تک رہے گی
فنا کی شاخوں پہ بھی تِرا جذبہء نمو بو لتا رہے گاتِرے تصوّر کا زندگی بھر طواف کرتی رہیں گی آنکھیں
اذان کے بول بن کے تُو میرے چار سُو بو لتا رہے گابلند رکھّا عَلَم کو جس نے ، دِیے اُجالے حرم کو جس نے
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
تَیر جاتا ہے فضاؤں میں لہُو شبیّر کادِین کی بنیاد جو اپنے سروں پر رکھ گئی
سِیکھ لو اُس آلِ پیغمبر سے ڈھب تعمیر کااُس سے پُوچھو مر کے ہو جاتے ہیں زندہ کس طرح
گھونٹ ڈالا جس کی شہ رگ نے گلا شمشیر کاگرتے گرتے بھی سنبھا لا دے گیا اِسلام کو
آخری ہچکی سے کام اُس نے لِیا شہتیر کاصبر کی ضربیں لگا کر زیدؔ کے فرزند نے
توڑ ڈالا حلقہ حلقہ ظلم کی زنجیر کااے مرے قرآن پڑھنے والو اُس کو بھی پڑھو
اِک صحیفہ وہ بھی ہے قُرآن کی تفسیر کاکیا بصیرت تھی مظفّؔر ابنِ شہرِ عِلم کی
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
آواز دے کے خود ہی سویرا بُلائے گالیتے رہے جو تیرے اُصولوں سے مشورے
منزل کی سمت راستہ تیرا بُلائے گاہم پہلے تُجھ سے دُھوپ میں کھلنا تو سیکھ لیں
پھر چھاؤں میں بھی ابر گھنیرا بُلائے گابنیاد میں بھریں ہم اگر تیری آہٹیں
بے گھر مسافروں کو بسیرا بُلائے گابعیت اگر نہ کی گئی ظالم کے ہاتھ پر
تو خود ہی روشنی کو اندھیرا بُلائے گااپنوں کی سازشوں سے اگر باخبر رہے
دھو کے سے پھر نہ کوئی لٹیرا بُلائے گاتن پر لہُو پہن کے مظفّر چلے اگر
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
لہجہء عِشق میں ولیوں کا ولی کہتے ہیںدُور تک پھیلی ہے تاریخ میں اُس کی خوشبُو
اُس کی بینائی کے شعلے کو کلی کہتے ہیںزہے تقدیر کہ اُس کا وہ مُعلِّم ٹھہرا
جس کی پرچھائیں کو نُورِ ازلی کہتے ہیںعِلم کے شہر کا دروازہ لقب ہے اُس کا
اُس کی ہر سانّس کو حِکمت کی گلی کہتے ہیںحرف حرف اُس کو پڑھا مَیں نے تو معلوم ہُوا
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
جانشینِ عابد و شبّیر و حیدر پر سلامطالبِ خوشنودی ِ حق، صاحبِ عِلمِ کثیر
وارثِ فضل و کمالاتِ پیمبر پر سلامعلمِ اسلامی کا اِک مرکز تھی اُس جھو نپڑی
عرصہء خاک و خذف کے کیمیا گر پر سلامجس کے آگے عقل زانوئے تلمُّذ تہ کرے
اُس حُسینی ، ہاشمی ، علوی ، قلندر پر سلامچودہ معصوموں کا جو مجموعہء کِردار تھا
اُس اکیلے کے حوالے سے بہتّر پر سلاممَیں مُرید بُو حنیفہ، بُو حنیفہ کا وہ پیر
پیشوا کے پیشوا رہبر کے رہبر پر سلامتشنگی جس کا خزانہ ، صبر جس کی جائداد
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
اور جو کُچھ بھی پڑھا رب کے دبستاں سے پڑھازندگی اپنی ، محبّت کے حوالے کردی
اِک یہی حرفِ حسیں کُوچہ ء جاناں سے پڑھاذات کیوں آپ کی ہوتی نہ فنا فی التّوحید
چہرہء خالقِ کونَین دل و جاں سے پڑھاخشک موسم میں بھی رہتا تھا بہا روں کا ہجوم
سبز خوشبو کا سبق زرد گلستاں سے پڑھااپنے آقا کے وہ پیدائشی دیوانے تھے
قصّہء عشقِ نبی ، مکتبِ یزداں سے پڑھاکاٹ دی عُمرِ عزیز آپ نے چلتے چلتے
مصحفِ شوقِ سفر ، گردشِ دَوراں سے پڑھااُن کی پرچھائیں بھی تھی آئنہ خانے کی طر ح
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں