آپؐ کے نقش عدم ان میں بھی پائے جاتےحضرت آدم ؑ کے بھی ہمراہ زمیں پر اترے
مشرقوں مغربوں کی شاہ نشیں پر اترےلحم تھے آپؐ لہو تھے نہ خبر تھے اس وقت
حق تعالیٰ کے فقط پیش نظر تھے اس وقتسام بن نو حؑ تھے جب نوح کی کشتی پہ سوار
میرے سرکارؐ بھی تھے سام کی پسلی پہ سوارجب براہیم پہ نمرود کی یلغار ہوئی
آگ بھی آپ کے صدقے ہی میں گلزار ہوئیدودھ پینے کو بھی آغوش حلیمہ میں رہے
نئی دنیا کی طرح عہد قدیم میں رہےبہتریں سب سے ، حسب اور نسب آپؐ کا ہے
انتہائے شرف و فخر، لقب آپ ؐ کا ہےصلب جس جس کا محمدؐ کی رہائش ٹہرا
روز اول سے وہ شائستہ بخشش ٹہرارحمت حق کے گلستاں حسیں میں ہوں گے
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
