شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
جلوے ہیں سارے تیرے ہی دم سے
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
تیرے لیے ہی دنیا بنی ہے
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
— Unknown
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
جلوے ہیں سارے تیرے ہی دم سے
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
تیرے لیے ہی دنیا بنی ہے
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
شاہِ مدینہ شاہِ مدینہ
— Unknown
یا صلِ علیٰ ہو نظرِ کرم شہہ کون ومکاں ہو نظر کرم
دکھلا دو روضہء اطہر گنبدِ خضریٰ کا وہ منظر
ہم ہیں درِ اقدس کے سوالی بدرالدجیٰ یا سیدِ عالی
راہوں کی یہ ختم ہو دوری کردو عطا اب جلوے نوری
آقا ہم پہ نوازش کردو لطف و کرم کی بارش کردو
ہم بھی مدینے کو آجائیں آکے قدموں میں گر جائیں
— Unknown
کرم کی نظر تاجدارِ مدینہ کرم چاہتےہیں کرم کے بھکاری
ہے ربط دوامی جسےتیرےغم سے ہےوہ آشنا منتہاۓ کرم سے
نظر مجھ کو بخشی توذوقِ نظر دو زیارت سےاپنی سرفراز کردو
جہاں ساتھ دیتانہیں اپنا سایہ وہاں بےقرارکرم ان کا پایا
یہ طوفان ہم کو ڈرائیں گےکیسے بھنورجال اپنا بچھائیں گے کیسے
وہ سجدے اساسِ عمل مانتا ہوں وہ ساعت متاع عمل جانتا ہوں
کسی نے بھی سمجھا نہیں غیرہم کو جہاں بھی گۓ سب نے آنکھیں بچھائیں
— Unknown
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دھیان گیا
آہ وہ آنکھ کہ ناکام تمنا ہی رہی
دل ہےوہ دل جو تیری یاد سے معمور رہا
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
اور تم پر میرے آقا کی عنایت نہ سہی
آج لےاُن کی پناہ آج مدد مانگ اُن سے
اُف رے منکریہ بڑھا جوشِ تعصب آخر
جان و دل ہوش وخردسب تو مدینے پہنچے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
میٹھا میٹھا ہے میرے محمدﷺ کا نام
وقت لاۓ خدا جائیں دربار پر
وہی حسنی حسینی چمن کے ہیں پھول
لامکاں کے بنے ہیں وہی تو مکیں
— Unknown
کوئی تسکیں نہ ملی اور نہ دوا کام آئی
ظلمتوں نے جہاں ماحول کو آلودہ کیا
اٹھےطوفان کئ بار سفینے ڈوبے
سب طبیبوں کی جہاں چارہ گری ختم ہوئی
نعت بیمار کی سننےکےلۓ آپ ﷺ آۓ
صوت کا حسن بھی اظہار کو زینت بخشے
جاکے غاروں میں مرے واسطےرونےوالے
روز محشر نہ ظہوری تھا کوئی زاد عمل
— Muhammad Ali Zahoori\
ملتا ہے کیا مدینےمیں اک بار جا کے دیکھ
اُن کی گلی میں مانگتےپھرتےہیں تاجدار
خیرات دے کے کہتے ہیں منگتے کی خیرہو
دُھل جائیں گے گناہ تیرے ہوجاۓ گا کرم
اے چشمِ کوہِ طور کی ہے آرزو تجھے
آزاد ہونا ہے اگر ہرغم کی قید سے
واصفؔ تیری نجات کاہے راستہ یہی
— Unknown
ذکر نبی ہر آن کرنا ذکرِ نبی ہر آن
دیکھو ثناء آقا کی سورج چاند ستارے کرتے ہیں
آقا آقا ورد کرو ہے ذکر بڑا ہی نورانی
آقا کی محفل میں ہر سو نور ہی نور برستا ہے
ذکرِ نبی کا سرمایہ ہوتا ہے جس کے سینے میں
نعت کمالؔ آقا کی محفل میں جو آکے پڑھتا ہے
— Unknown
میری قسمت جگانے کو نبی کا نام کافی ہے
غموں کی دھوپ ہو یا پھر ہوائیں تیز چلتی ہوں
خوشی ہو یا کوئی غم ہو نبی کا نام لیتا ہوں
نبی کا نام لیتا ہوں سکونِ قلب ملتا ہے
جو پوچھا کملی والے نے کہا صدیق اکبر نے
سلگتی آگ پہ حبشی کے ہونٹوں سے صدا آئی
یہی کہتا ہے مہکی بھی یہی سب لوگ کہتے ہیں
— Unknown
منگتے خالی ہاتھ نہ لوٹے، کتنی ملی خیرات نہ پوچھو
عشق نبی ﷺ کونین کی دولت! عشق نبی ﷺ بخشش کی ضمانت
رشک جناں طیبہ کی گلیاں، ہر ذرہ فردوس بداماں
ظاہر میں تسکین دل وجااں باطن میں معراج دل و جاں ﷺ
تاج شفاعت سر پر پنہے حشر کا دولہا آ پہنچا ہے
میں کیا اور کیا میری حقیقت سب کچھ ہے سرکار کی نسبت
خالد میں صرف اتنا کہوں گا جاگ اٹھا اشکوں کا مقدر
— Unknown