Fatima Zahra Ka Jis Din (Manqbat) | Best Manqbat Lyrics in Urdu | Naat Lines

فاطمہ زَہرا کا جس دن عقد تھا

ایک چادر سَتَّرہ۱۷ پیوند کی

ایک توشک جس کا چمڑے کا غلاف

جس کے اندر اُون نہ ریشم نہ روئی

ایک چکی پیسنے کے واسطے

ایک لکڑی کا پیالہ ساتھ میں

اور گلے میں ہار ہاتھی دانت کا

شاہ زادی سید الکونین کی

واسطے جن کے بنے دونوں جہاں

اس جہیز پاک پر لاکھوں سلام

— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\

Ghous e Azam Dastageer (Manqbat) | Best Manqbat Lyrics in Urdu | Naat Lines

غوثِ اَعظم دستگیرِ بے کساں

غوثِ اعظم بیکسوں کے داد رَس

غوثِ اعظم گلشنِ زَہرا کے پھول

غوثِ اعظم ڈُوبتوں کے ناخدا

غوثِ اعظم واقفِ اَسرارِ ھُو

غوثِ اعظم شاہ بازِ لامکاں

غوثِ اعظم صاحبِ ایوان و تخت

غوثِ اعظم متقی ہر آن میں

غوثِ اعظم کی نگاہِ لطف سے

غوثِ اعظم اَب مدد کی بار ہے

غوثِ اَعظم درمیانِ اَولیا

— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\

Tera Zara Mah e Kamil Hai (Manqbat) | Best Manqbat Lyrics in Urdu | Naat Lines

تِرا ذرّہ مَہِ کامل ہے یا غوث

کوئی سالِک ہے یا واصِل ہے یا غوث

قدِ بے سایہ ظِلِّ کِبرِیا ہے

تِری جاگیر میں ہے شَرق تا غَرب

دل عشق و رُخ حسن آئینہ ہیں

تِری شمع دِل آرا کی تَب و تاب

تِرا مجنوں تِرا صَحرا تِرا نَجد

یہ تیری چمپَئی رنگتِ حسینی

گلستاں زار تیری پنکھڑی ہے

اُگال اس کا اُدھار اَبرار کا ہو

اشارہ میں کیا جس نے قمر چاک

جسے عرشِ دوم کہتے ہیں اَفلاک

تو اپنے وقت کا صدّیقِ اکبر

ولی کیا مُرسَل آئیں خود حضور آئیں

جسے مانگے نہ پائیں جاہ والے

فُیوضِ عالم اُمّی سے تجھ پر

جو قَرنوں سَیر میں عارف نہ پائیں

مَلک مَشْغول ہیں اس کی ثنا میں

نہ کیوں ہو تیری منزل عرشِ ثانی

وہیں سے اُبلے ہیں ساتوں سمندر

ملائک کے بشر کے جنّ کے حلقے

بخارا و عراق و چِشت و اَجْمیر

جو تیرا نام لے ذاکر ہے پیارے

جو سر دے کر تِرا سودا خریدے

کہا تو نے کہ جو مانگو ملے گا

— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\

Tu Hai Woh Ghous Ke (Manqbat) | Best Manqbat Lyrics in Urdu | Naat Lines

تُو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا

سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈُوبے

مُرغ سب بولتے ہیں بول کے چُپ رہتے ہیں

جووَلی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے

بقسم کہتے ہیں شاہانِ صریفین و حریم

تجھ سے اور دَہر کے اقطاب سے نسبت کیسی

سارے اقطاب جہاں کرتے ہیں کعبہ کا طواف

اور پروانے ہیں جو ہوتے ہیں کعبہ پہ نثار

شجرِ سرو سہی کِس کے اُگائے تیرے

تُو ہے نوشاہ بَراتی ہے یہ سارا گلزار

ڈالیاں جُھومتی ہیں رقصِ خوشی جوش پہ ہے

گیت کلیوں کی چٹک غزلیں ہزاروں کی چہک

صفِ ہر شجرہ میں ہوتی ہے سلامی تیری

کِس گلستاں کو نہیں فصلِ بہاری سے نیاز

نہیں کس چاند کی منزل میں تِرا جلوۂ نور

راج کس شہر میں کرتے نہیں تیرے خدّام

مزرعِ چِشت و بخاراو عِراق و اجمیر

اور محبوب ہیں ، ہاں پر سبھی یکساں تو نہیں

اس کو سو فرد سراپا بفراغت اوڑھیں

گردنیں جھک گئیں سر بچھ گئے دِل لوٹ گئے

تاجِ فرقِ عرفا کِس کے قدم کو کہئے!

سُکر کے جوش میں جو ہیں وہ تجھے کیا جانیں

آدمی اپنے ہی احوال پہ کرتا ہے قِیاس

وہ تو چھوٹا ہی کہا چاہیں کہ ہیں زیرِ حضیض

دلِ اعدا کو رضاؔ تیز نمک کی دُھن ہے

— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\

Sadqa Tum Par Ho (Manqbat) | Best Manqbat Lyrics in Urdu | Naat Lines

صدقہ تم پر ہوں دل و جاں آمنہ

جو ملا جس کو ملا تم سے مِلا

کل جہاں کی مائیں ہوں تم پر فدا

ابن مریم واقعی رب کے رسول

جس شکم میں مصطفیٰ ہوں جاگزیں

تم سے ایمان و امانت اور اَمن

آمنہ کے تین معنیٰ بالیقیں

تم سے اللہ و محمد ہیں عیاں

ہم ہیں مومن اور تم ایمان بخش

تیری تربت کا مجاور میں بنوں

مَہْبِطِ قرآں نبی ہیں اور تم

ہے یہ سالکؔ آپ کے در کا فقیر

— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\

Khalq Pe Lutf e Khuda (Manqbat) | Best Manqbat Lyrics in Urdu | Naat Lines

خلق پہ لطفِ خدا حضرتِ عثمان ہیں

دستِ شہِ دوسرا جو کہ یَدُ ا للّٰہ تھا

نورِ دِل و عین ہیں صاحبِ نورَین ہیں

گلشنِ دِین کی بہار مومنوں کے تاجدار

آپ ممدوحِ جہاں خلقِ خدا مَدح خواں

حق نے وہ رتبہ دیا تم غنی ہم سب گدا

جو ہیں اِمامِ اَنام جس کے ہیں ہم سب غلام

بابِ سخا کھل گیا دیکھا جو یہ ماجرا

تم غنی سالکؔ گدا اِک نظر بہرِ خدا

— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\

Baghdad Ke Musafir Mera Salam Kehna (Manqbat) | Best Manqbat Lyrics in Urdu | Naat Lines

بغداد کے مسافِر میرا سلام کہنا

یا پیر غوثِ اعظم!قسمت کُھلے گی کس دم؟

بغداد والے مُرشِد در پر بُلا لے مُرشِد

اپنی رضا کا مرشد مژدہ سنایئے اب

چھا جائے ایسی مستی مٹ جائے اپنی ہستی

کہتا تھا پِیرو مرشِد حق سے دعا یہ کرنا

وعظوں کی تیرے مرشد ہے دھوم چار جانب

جلوہ دکھانا مرشِد کلمہ پڑھانا مرشد

اُفتاد آ پڑی ہے امداد کی گھڑی ہے

سائل نوازِشوں کا کہتا تھا سازشوں کا

عطّاؔر کو بُلا کر مُرشِد گلے لگا کر

— Unknown

Bartar Qayas Se Hai Muqam (Manqbat) | Best Manqbat Lyrics in Urdu | Naat Lines

برتر قیاس سے ہے مقامِ ابُوالحسین

وارستہ پائے بستۂ دامِ ابُوالحسین

خطِ سیہ میں نورِ الٰہی کی تابشیں

ساقی سُنا دے شیشۂ بغداد کی ٹپک

بُوئے کباب سوختہ آتی ہے مے کشو

گلگوں سحر کو ہے سَہَر سوزِ دل سے آنکھ

کرسی نشیں ہے نقش مُراد اُن کے فیض سے

جس نخلِ پاک میں ہیں چھیالیس ڈالیاں

مستوں کو اے کریم بچائے خمار سے

اُنکے بھلے سے لاکھوں غریبوں کا ہے بھلا

میلا لگا ہے شانِ مسیحا کی دِید ہے

سرگشتہ مہر و مہ ہیں پَر اب تک کھلا نہیں

اتنا پتہ ملا ہے کہ یہ چرخ چنبری

ذرّہ کو مہر، قطرہ کو دریا کرے ابھی

یحیٰی کا صَدقہ وارثِ اقبال مند پائے

انعام لیں بہارِ جِناں تہنیت لکھیں

اللہ ہم بھی دیکھ لیں شہزادہ کی بہار

آقا سے میرے ستھرے میاں کا ہوا ہے نام

یاربّ وہ چاند جو فلکِ عزّ و جاہ پر

آؤ تمہیں ہلال سپہر شرف دکھائیں

قدرت خدا کی ہے کہ طلاطم کناں اٹھی

یاربّ ہمیں بھی چاشنی اس اپنی یاد کی

ہاں طالِع رضاؔ تِری اللہ رے یاوری

— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\

Banda Qadir Ka Bhi Qadir (Manqbat) | Best Manqbat Lyrics in Urdu | Naat Lines

بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر

مفتِی شرع بھی ہے قاضی مِلّت بھی ہے

منبعِ فیض بھی ہے مجمعِ افضال بھی ہے

قطب ابدال بھی ہے محورِ ارشاد بھی ہے

سلکِ عرفاں کی ضیا ہے یہی دُرِّمختار

اس کے فرمان ہیں سب شارحِ حکمِ شارع

ذی تَصَرُّف بھی ہے ماذون بھی مختار بھی ہے

رشکِ بُلبل ہے رضاؔ لالہ صَد داغ بھی ہے

— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\

Aye Imam Alhuda (Manqbat) | Best Manqbat Lyrics in Urdu | Naat Lines

اے اِمامُ الہدیٰ محب رسول

نائب مصطفٰے محب رسول

خادِمِ مرتضیٰ محب رسول

عین حق کا بنا محب رسول

زُبدۃُ الاتقیا محب رسول

غربا پر فدا محب رسول

اے سَلَف اِقتدا محب رسول

سقم دل کی شفا محب رسول

شرقِ شانِ وَفا محب رسول

اے کرم کی گھٹا محب رسول

کیوں نہ ہو چاند سا محب رسول

حرمین و حمی میں بس کے گیا

تو کلامِ خدا کا حافِظ ہے

عبد قادِر نہ کیوں ہو نام کہ ہے

مشعل راہِ دین و سنت ہے

اچھے پیارے کی خانہ زادی ہے

شرم والے غنی کا بیٹا ہے

آج قائم ہے دَم قدم سے ترے

ٹھیک معیار سنیّت ہے آج

سنیت سے پھرا ہدی سے پھرا

مصطفی کا ہوا خدا کا ہوا

مُذنب بد مذاق را زہر ست

عاصی رُوسیاہ دشمن تست

خارزَاروں کے واسطے ہے سموم

ہدم بنیان نجد کا طرہ

ہزم اَحزابِ ندوہ کا سہرا

رَفض و تفضیل و نجدیت کا گلا

تو نے اَبنائے بد مذاقی کو

ماتمی ہیں زَنانِ نجد کہ ہائے

جلتے ہیں ندویہ کہ صدر کی قدر

سر مُنڈاتے ہی پڑگئے اَولے

بخت کھل جاتا تخت مل جاتا

مَکَرُوْا مَکْرَ ھُمْ و عند اللہ

کوہ اَفگن تھا ان کا مکر مگر

پہلے بھی مَکْرْدَارِ ندوَہ کو

بعد تیرہ صدی کے پھر اُچھلا

اُن کی جو رُوئداد تھی کر دی

زَر کے مفتی بنا کریں مخطی

ناظمِ فتنہ لاکھ ہوں تو ہے

جھوٹے حقانی بنتے ہیں گمراہ

کچھ مداہن حمیر میر بنے

یوں نہ سمجھیں تو سر اڑایا آپ

ندوِی جھنجھلاتے ہیں کہ وہی تو ہیں

غافل اس سے کہ ایک سُنی ہے

گلۂ بز کو ایک شیر بہت

ہم بجامع رَمَہ رَمَد اَز شیر

میرے ستر70 سوال کا قرضہ

نہ ادا ہو اگرچہ محشر تک

بیسوں اعلانوں پر بھی ہٹ نہ سکا

شرمِ نو خاستن رہی حائل

حال مُسْتَنْفِرَہ کا قَسْوَرہ سے

میرے خنجر کی تاب لا نہ سکے

گالیاں دیں جواب کے بدلے

شعلہ خویوں کو چھیڑ کر سننا

تلخ زیْبَد لب شَکَرِخا رَا

ہاں نہ ان دو کا تیسرا دیکھا

تیسرا کون عونِ حق جس کا

تیسرا کون بدرِ حق جس کا

تیسرا کون مہرِ حق جس کا

سایہ ان دو پہ کیسے دو کا ہے

ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ھُمَا فِی الْغَار

بلکہ دو اَحولی سے کہتے ہیں

نہ تو مجھ سے جدا نہ میں تجھ سے

غلطی کی ترا مرا کیسا

یہ بھی تیرے کام سے ہے ورنہ

میں کہاں اور کہاں تَعَالَی ا للّٰہ

تیری نعمت کا شکر کیا کیجئے

اور تو اور شیخ تجھ سے ملا

شیخ بھی وہ کہ جس کے دَر کی خاک

شیخ بھی وہ کہ ایک جھلک میں کرے

شیخ بھی وہ کہ جس کی ایک نگاہ

شیخ بھی وہ کہ جس کے مجرائی

شیخ بھی وہ کہ فتنوں کی ہے قضا

شیخ بھی وہ کہ جس کے نام کا وِرد

شیخ بھی وہ جس کے عشق کی آگ

شیخ بھی وہ کہ حق کے پھول کھلائے

شیخ بھی وہ کہ جس کا آبِ وُضو

شیخ بھی وہ کہ خاکِ پا سے کرے

شیخ بھی کون حضرتِ آلِ رسول

اس کے در تک رسائی تجھ سے ملی

مجھ پہ واجب ہے تیرا شکر نعم

جگمگاتے چراغ سنت کے

نہ کبھی بادِ حادثہ پاس آئے

دائما تیری نسل روشن میں

رہے تا روزِ نُورُھُمْ یَسْعٰی

مقتدر تیرے نوبروں کو کرے

تیرے سایہ میں لہلائیں کھلیں

مورثِ مجد و فضل آبا ہو

خار دَر چشم و خوار دَر چشماں

تجھ پہ فضل رسول کا سایہ

میرا شافع حضورِ غوث میں ہو

مُدَّعی سے مجھے بچا لیں غوث

میرے سب کام ان سے بنوا دے

مجھے کر دے رضائے اَحْمد وہ

آہ صد آہ میں ہوں بِئْسَ الْعَبْد

بِئْسَ کو نِعْمَ سے بدلوا دے

کون مولا وہ سید الافراد

میں بھی دیکھوں جو تو نے دیکھا ہے

ہاں یہ سچ ہے کہ یاں وہ آنکھ کہاں

تینوں بھائی نہ کوئی غم دیکھیں

میرے بیٹوں بھتیجوں کو بھی ہو

دین و دنیا کی عزتیں پائیں

خاتمہ سب کا دین حق پہ کرے

خلد میں زیر ظل غوثِ کریم

— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\