کرم کی نظر تاجدار مدینہ
مرے تجربےکا ہے ایمان اس پر
خبر لے کبھی رہبر راہِ ہستی
تمہارا سہارا ملا مشکلوں میں
ہیں خالدکی جھولی میں صدقےتمہارے
— Unknown
کرم کی نظر تاجدار مدینہ
مرے تجربےکا ہے ایمان اس پر
خبر لے کبھی رہبر راہِ ہستی
تمہارا سہارا ملا مشکلوں میں
ہیں خالدکی جھولی میں صدقےتمہارے
— Unknown
شہد سے میٹھا محمد نام
میم سے ہیں محبوب وہ رب کے
جود ہے اُن کا عام
میم مے توحید پلاۓ
فردوس کا دے پیغام
میم سے ہیں ہردکھ کا مداوا
دور کرے آلام
میم محبت کی لے لایا
یاد ہے صبح و شام
— Unknown
سَرورکہوں کہ مالک ومولا کہوں تجھے
اللہ رہے تیرے جسمِ منور کی تابشیں
مجرم ہوں اپنے عَفو کا ساماں شہا
تیرے تو وصف عَیب تناہی سےہیں بری
کہہ لےگی سب کچھ اُن کےثنا خواں کی خامُشی
لیکن رضاؔ نےختم سخن اس پہ کردیا
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
پکارو یا رسول اللہﷺ
یا حبیب کبریا اَھلاً وَّسَھلاً مَّرحَبَا
تم بھی کرکےان کا چرچا اپنےدل چمکاؤ
گھر گھر میں لہراؤ پکارو یارسول اللہ یا رسول اللہ۔ ۔ ۔ ۔
آمنہ کے دلربا اَھلاً وَّسَھلاً مَّرحَبَا
تم بھی کرکےان کا چرچااپنےدل چمکاؤ
گھر گھر میں لہراؤ پکارو یا رسول اللہ یا رسول اللہﷺ
چاند سا چمکاتے چہرہ نور برساتے ہوۓ
تم بھی کرکےان کا چرچااپنےدل چمکاؤ
گھر گھر میں لہراؤ پکارویا رسول اللہ یا رسول اللہﷺ۔ ۔
جھک گیا کعبہ سبھی بُت منہ کےبل اوندھےگرے
آتے ہی سجدےمیں گرکررَبِّ ھَب لِی اُمَّتی
تم بھی کرکے ان کا چرچا اپنے دل چمکاؤ۔ ۔ ۔ ۔
عید میلاد النبی ﷺ ہےچار جانب ہے روشنی
پکارو یا رسول اللہ یا رسول اللہ ﷺ
— Unknown
زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
یہ کون سرپہ کفن لپیٹے طلا ہے الفت کے راستے پر
فضامیں لَبَّیک کی صدائیں زِ فرش تاعرش گونجتی ہیں
یہ راہِ حق ہے سنبھل کے چلنا یہاں ہے منزل قدم قدم پر
یہ کہنا آقا ﷺ بہت سےعاشق تڑپتےسےچھوڑآیا ہوں میں
خدا تیرا حافظ و نگہباں اے راہِ بطحا کو جانےوالے
— Unknown
ہو کرم سرکارﷺ اب تو ہو گۓ غم بے شمار
مَیں اکیلا اور مسائل زندگی کےبےشمار
یا خدا دکھلا حطیم پاک میزاب و مقام
یاد آتا ہے طواف خانۃ کعبہ مجھے
جا رہا ہے قافلہ طیبہ نگر روتا ہوا
جلد پھر تم لو بُلا اور سبز گنبد دو دکھا
گنبدِ خضریٰ کےجلوےاور وہ افطاریاں
یا رسول اللہ سن لیجۓ میری فریاد کو
حال پر میرے کرم کی اک نظر فرمایۓ
قافلے والو! سنو یاد آۓ تو میرا سلام
غمزدہ یوں نہ ہوا ہوتا عبید قادری
— Unknown
راستے صاف بتاتے ہیں کہ آپﷺ آتےہیں
اہل دل گیت یہ گاتےہیں کہ آپ آتے ہیں
کہکشاں،راہگزر،چاند،ستارے،ذرے
اپنے شہکارپہ خلاقِ دوعالم کوہےناز
اہل ایماں کے لبوں پر ہےدُروداورسلام
دل کو جلووں کی طلب،آنکھ کو طیبہ کی لگن
اُن کی آمد کے پیامی ہیں صبا کے جھونکے
بول بالا ہوا حق کا تو بتانِ باطل
رہگزر میں نظر آنےلگے ہرسُو جلوے
مرحبا صلِّ علیٰ کی ہیں صدائیں لب پر
چاند تاروں میں نصیر آج بڑی ہلچل ہے
— Peer Naseer Ud Din Naseer\
ہے دل میں عشق نبیؐ کا جلوہ نظرمیں خواجہ سمارہے ہیں
نگرنگرمیں کرومنادی ہےآج خواجہ پیا کی شادی
ہر ایک دل میں سروران کا، ہراک نظر میں ظہوری ان کا
ہمارےخواجہ کےسب سوالی کوئی گیا آج تک نہ خالی
یہ زندگی ہےنیاز ان کی، ہےدل میں قائم نماز ان کی
ضرورفیض کرم ملےگا،ضرور دل کا چمن کھلےگا!
فریدؒ، صابرؒ، نظامؒ آۓ کہ شاہ بن کے غلام آۓ
ہے ان کےسرپرعلی کا سایہ، نبیؐ نےہند الولی بنایا
یہی تو معراج آرزو ہے،بلند دروازہ روبروہے
— Unknown
رخ مصطفیٰ کو دیکھاتودیوں نےجلنا سیکھا
یہ زمیں رکی ہوئی تھی یہ فلک تھما ہوا تھا
بڑا خوش نصیب ہوں میں میری خوش نصیبی دیکھو
میں گرانہیں جواب تک یہ کمالِ مصطفیٰ ہے
میں تلاش میں تھا رب کی کہاں ڈھونڈتا میں اس کو
میں رہا خلش مظفر درِ پاکِ مصطفیٰ ہر
— Khalish Muzaffar\
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگرہم بھی بےبس نہیں بے سہارا نہیں
ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں قصداً بھٹک جائیں گے
جیسے ہی سبز گنبد نظرآۓ گا بندگی کا قرینہ بدل جاۓ گا
اےمدینےکے زائرخدا کےلۓداستانِ سفر مجھ کو یوں مت سنا
نامِ آقاﷺ جہاں بھی لیا جاۓ گا ذکر ان کا جہاں بھی کیا جاۓ گا
ان کی چشم کرم کوہے اس کی خبر کس مسافر کوہے کتنا شوق سفر
— Iqbal Azeem\