رحمت برس رہی ہے محمدﷺ کے شہر میں
آتے ہیں بخشوانے گناہوں کو گنا ہگار
ایسا لگا کہ سامنے خود آگۓ خضورﷺ
دولت سُکوں کی ہرجگہ ہم ڈھونڈتے رہے
ہرسمت آرہی ہے ہیں صدائیں درود کی
روشن ہیں جس کےنورسے دونوں جہاں ریاضؔ
— Unknown
رحمت برس رہی ہے محمدﷺ کے شہر میں
آتے ہیں بخشوانے گناہوں کو گنا ہگار
ایسا لگا کہ سامنے خود آگۓ خضورﷺ
دولت سُکوں کی ہرجگہ ہم ڈھونڈتے رہے
ہرسمت آرہی ہے ہیں صدائیں درود کی
روشن ہیں جس کےنورسے دونوں جہاں ریاضؔ
— Unknown
ذکر سرور میں مجھے کھویا رہنے دو
عرشیوں نے جو دیوانے کو ہٹانا چاہا
کیا ہے درکار جو پوچھیں گےشہا محشرمیں
ہے محمد ﷺ کا وظیفہ ہی زباں پر ہر دم
تم بھی کھلاؤ گے سردار زمانے بھرمیں
— Muhammad Shafi Ali Khan Bekal Utsahi\
ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہوں گے
بوۓ گل اس لۓ پھرتی ہے چھپاۓچہرہ
اس طرف بارشِ انوارِ مسلسل ہو گی
ہم بھی پہنچیں گے شہِ ارض و سما کے درپر
ارضِ طیبہ تجھے دیکھےکوئی بادیدۃ دل
ایک میں کیا مرے شاہا کہ شہنشاہوں کے
لوگ تو حسنِ عمل لےکےچلےروزِ حساب
اُٹھ گئی جب تری جانب وہ کرم بار نظر
— Khawaja Qutbuddin Fareedi\
رحمت کی گھٹا شہرِ پیمبرؐ سےاٹھی ہو
ہوں میری تمنائیں اگر قتل بھی ساری
میں حشرکےمیدان میں تجھے ڈھونڈنے نکلوں
خاطرمیں کہاں لاۓ گا وہ نورِ قمر کو
محفوظ رہےگی قیامت کی اذاں تک
ہرپھول کےلب پرتریؐ عظمت کےترانے
اتنی سی تمنا مرے دل میں بھی ہے مالک
مصرف طواف درِ کعبہ ہوں یہ آنکھیں
— Dr Hussain Mohiuddin Qadri\
رحمت کی گھٹا شہرِ پیمبرؐ سےاٹھی ہو
ہوں میری تمنائیں اگر قتل بھی ساری
میں حشرکےمیدان میں تجھے ڈھونڈنے نکلوں
خاطرمیں کہاں لاۓ گا وہ نورِ قمر کو
محفوظ رہےگی قیامت کی اذاں تک
ہرپھول کےلب پرتریؐ عظمت کےترانے
اتنی سی تمنا مرے دل میں بھی ہے مالک
مصرف طواف درِ کعبہ ہوں یہ آنکھیں
— Dr Hussain Mohiuddin Qadri\
دیکھا خدا نے خود کو،جنہیں رکھ کے سامنے
اُمّی تو کہتےہیں سبھی، یہ دیکھتے نہیں
ملتا ہے سب کچھ ان کے وسیلے سے خلق کو
ہوتے بشر تو جاتے نہ قوسین تک حضورؐ
یوسف کا حسن دیکھ کر کچھ ینگلیاں کٹیں
آئینہ گر کی ذات پہ پڑتی نہیں نظر
کعبے کی سمت لاکھ سر بندگی جھکے
ہر ذرہ جلوہ گاہ ہے نور نبی کا شوق
— Unknown
دے دو دیدار سجن ورنہ بےتاب ہےمن
یاد آتی ہے شہا شہر طیبہ کی فضا
ہم جو ہیں دور کہیں تم تو مجبور نہیں
مثل ہو تیری کہاں توتو ہے عالی شان
ہے یہ ناصرکی دعا اے نبی نور خدا
— Unknown
دونوں عالم میں محمد کا سہارا مانگو
ان کی نسبت ہے سلامت تو سلامت ہم بھی
اس سے بڑھ کر کوئی دارین میں نعمت ہی نہیں
جس کو سب تاج نبوت کانگیں کہتے ہیں
ان کی یاد ان کا سہارا ہے کنارا اپنا
مثلِ خرشید و قمر خود بھی منور ہو جاؤ
رقص کرتی ہوئی یہ روح مدینے جاۓ
اِ ضطراب اورسواہو گیا دیدار کے بعد
— Unknown
لب وا ہیں، آنکھیں بند ہیں، پھیلی ہیں جھولیاں
کتنے مزے کی بھیک تِرے پاک در کی ہے
گھیرا اندھیریوں نے دہائی ہے چاند کی
تنہا ہوں، کالی رات ہے، منزل خطر کی ہے
قسمت میں لاکھ پیچ ہوں، سو بل، ہزار کج
یہ ساری گتھی اِک تِری سیدھی نظر کی ہے
ایسی بندھی نصیب کھلے مشکلیں کھلیں
دونوں جہاں میں دھوم تمہاری کمر کی ہے
جنّت نہ دیں، نہ دیں، تِری رویت ہو خیر سے
اس گُل کے آگے کس کو ہوس برگ و بر کی ہے
شربت نہ دیں، نہ دیں، تو کرے بات لطف سے
یہ شہد ہو تو پھر کسے پَروا شکر کی ہے
میں خانہ زاد کہنہ ہوں صورت لکھی ہوئی
بندوں، کنیزوں میں مِرے مادر پدر کی ہے
منگتا کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی
دوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے
سنکی وہ دیکھ بادِ شفاعت کہ دے ہوا
یہ آبرو رضؔا تِرے دامانِ تر کی ہے
— Unknown
دوجہاں کے والی کا دوجہاں پہ سایا ہے
نوری نوری تلوے ہیں کیسےپیارےجلوےہیں
نبیوں نے سلامی دی ولیوں نے غلامی کی
کرتے ہیں جفائیں جودیتے ہیں دعائیں وہ
موج میں جب آتے ہیں تاجور بناتے ہیں
— Syed Nasir Hussain Chishti\